Labels Max-Results No.

urdu news express.news in urdu.news update.news express in urdu.urdu news 2021.urdu news point.news today.urdu world news.pakistan news.urdu news.

 اسلام آباد: پاکستان میں ہفتہ کے روز ہندوستانی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہلی میں مقیم سفارتکاروں کے گروپ کے حالیہ دورے کے بارے میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے ریمارکس کو مسترد کردیا۔

ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں اس طرح کے رہنمائی دورے اور ہاتھوں سے منتخب لوگوں سے ملاقاتیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور ہندوستان کے غیر قانونی اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لئے دھواں اسکرین تیار کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں۔ مقبوضہ وادی کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا

انہوں نے برقرار رکھا کہ اقوام متحدہ کے اس دورے کے اختتامی روز مذہب اور عقیدے کی آزادی کے بارے میں خصوصی نمائندہ کے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے بیان نے صحیح طور پر اس خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے اور اقلیتوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت کو خراب کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مؤثر طریقے سے ان کے انسانی حقوق 

کے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی شرم ناک انتخابی مشق اقوام متحدہ کے تحفظ کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ رائے شماری کی جگہ نہیں لے سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان مسلسل فوجی محاصرے اور کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے ساتھ بھی ‘معمول کی بات’ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ آئی او او جے کے میں مستثنیٰ سلوک کے ساتھ لوگوں کے اسمبلی ، آزاد نقل و حرکت ، اظہار رائے کی آزادی اور حتی کہ جان و مال کی حفاظت تک کے حقوق کے معمول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

حفیظ چوہدری نے کہا کہ نام نہاد ’ترقی‘ بیانیہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی بھی ایک کوشش ہے۔ اس مقصد کا مقصد کشمیریوں کو جو کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے سلسلے میں جاری آبادیاتی تنظیم نو کے ذریعے ان کی اپنی سرزمین میں اقلیت میں کمی کی جارہی ہے ان کو مزید تقسیم اور اس سے محروم کرنے کی تدبیروں کو ناکام بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں شامل کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کی اجازت دے۔

No comments:

Ads

Ad Banner
Theme images by RBFried. Powered by Blogger.