You are here
Home > Women > یوم خواتین : خواتین کے حقوق

یوم خواتین : خواتین کے حقوق

ہر سال ۸ ؍ مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے، مگر کیا ترقی یافتہ دنیا میں خواتین کو ان کا مقام اور حق حاصل ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی کئی ایسے گاؤں دیہات ہیں ، جہاں خواتین کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ان کی زندگی کسی بندھوا مزدور جیسی ہوتی ہے ، ان سے صرف گھر اور کھیتوں میں کام لیا جاتا ہے ۔ اکثر دوران حمل ان کی مرضی جانے بغیر یا ان کی مرضی کے خلا ف اسقاط حمل کروا دیا جاتا ہے ، خاص طور سے اگر مادر رحم میں لڑکی ہو ۔ ایام جہالت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا، عورتوں کی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی ، حرم سجائے جاتے تھے لونڈیوں کی شکل میں بولیاں لگتی تھیں ، عورت کو کبھی ان کا جائز مقام نہیں مل سکا ۔ دنیا کا دارومدار مرد اور عورت دونوں ہی کی بدولت ہے ،نصف دنیا (عورت ) کو صنف نازک تو کہا جاتا ہے ، مگر اس کے معاشرتی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔
یوم خواتین کے موقع پر بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے کبھی خواتین کے وجود اور ان کے حقوق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ آج ترقی یافتہ دور میں بھی عورت کی خرید و فروخت جاری ہے ۔ جہیز اور داوری کی لعنت نے عورت کو مزید ذلیل خوار کر رکھا ہے ۔ والدین جہیز دینے کے خوف سے لڑکی کو پیدا ہونے سے روک دیتے ہیں ، مگر جن کی بیٹیاں ہیں ، وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ انہیں وراثت دی جائے،لڑکیوں کو ان کا ورثہ دیا جائے اورجہیز کی لعنت کو ختم کر دیا جائے ، تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ پورے ملک میں نعرے لگائے جاتے ہیں ’’ بیٹا ، بیٹی کے حقوق یکساں ہیں ‘‘ مگر عمل کا وقت آتا ہے ، تو سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ اگر پورے ملک میں یہ مہم چلائی جائے کہ کسی بھی گھر میں کوئی لڑکی تعلیم سے محروم نہ رہے ، تو ممکن ہے آنے والے چند برسوں میں خواتین کی ناخواندگی کی شرح کم ہو گی ۔
خواتین کے حقوق کے لیے کئی قوانین ہیں ، مگر ان پر عمل نہیں ہوتا ۔ تحفظ کے لیے ہیلپ لائن نمبر ہیں ، مگر زیادہ تر خواتین اس سے واقف ہی نہیں ہیں یا پھر وہ اس کا استعمال نہیں کر پاتی ہیں ۔ سماجی فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں ، مگر وہ بھی محدود ہیں ۔
گجرات فسادات میں متاثر ہ خواتین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا ، ذکیہ جعفری جس کی بڑی مثال ہیں ۔ عشرت جہاں کا انکاؤنٹر ہو جاتا ہے ، بے گناہ ثابت ہونے کے بعد ملزمین آزاد ہیں ،کے ای ایم ہسپتال کی نرس ارونا شان باگ کا ملزم سزاکاٹ کر آ جاتا ہے اور وہ زندگی موت کی کشمکش میں پینتیس سال گزار دیتی ہے ، کسی کو سیندور کے لیے تندور کے حوالے کر دیا جاتا ہے ، توکسی کے آگے اسٹوو پھٹ جاتا ہے ، جب ترقی یافتہ دور کی یہ شکل سامنے آتی ہے ، تو پھر ایام جہالت کی ستی کی رسم یاد آتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے ، جب بھی جنگیں ہوئیں یا فسادات ، سب سے زیادہ نقصان خواتین ہی کا ہوا ، مگر تاریخ نے اسے کبھی رقم نہیں کیا ۔ اکثر ناموس کے تحفظ کی خاطر مردوں نے جنگوں کے دوران اپنے گھر کی خواتین کو خود کشی پر مجبور کر دیا ، جنگ کے دوران جب خواتین دشمنوں کے ہاتھ لگیں ، تو ان کی بے حرمتی کی گئی ۔ ایسا ہی فسادات کے دوران بھی ہوتا ہے ، انتقاماًخواتین کی آبرو ریزی کی جاتی ہے ، قتل عام کیا جاتا ہے ۔ فسادات کے دوران ایک مرد کی موت سے کئی خواتین کا نقصان ہوتا ہے ، ماں کی گود اجڑ جاتی ہے ، بیوی کا سہاگ لٹ جاتا ہے ، بہن کا سہارا چلا جاتا ہے اور بیٹی سرپرستی سے محروم ہو جاتی ہے ، مگر ان نقصانات کا تذکرہ کہیں نہیں ہوتا ۔
ملک کی نصف آبادی صنف نازک ہے اور اس کا یہ حال ہے ، تو ملک کی ترقی کن معنوں میں ہو سکتی ہے ؟ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو ملک کی ترقی و تمدن سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی انہیں علم حاصل کرنے کا کوئی حق۔ آج بھی کئی ایسے علاقے ہیں ، جہاں عورتوں کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں ، انہیں ووٹ دینے کا بھی حق نہیں دیا جاتا ۔خواتین کو سیاسی میدان میں لانے کے لیے حکومت نے ریزرویشن کا دعوا کر دیا ہے ، مگر کسی بھی حلقہ انتخاب میں چناؤ لڑنے کے لیے خواتین کی مختص نشست سے کوئی خاتون فارم پر کرتی ہے ، تو اس کے آنچل سے بندھا کوئی مرد چلا آتا ہے ، وہ شوہر ، والد یا بھائی کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے ، تو پھر ریزرویشن کا کیا مطلب ہوا ؟
ہمارے ملک میں انچاس فیصد خواتین ہیں اور ان کے ووٹ بہت اہمیت رکھتے ہیں ، ملک کی انچاس فیصد خواتین نے اگر یک طرفہ فیصلہ کر کے کسی سیاسی جماعت کو ووٹ دے دیے ، تو وہ جماعت اقتدار میں آ سکتی ہے ، مگر اس کے باوجود نہ ہی خواتین کے ووٹوں کو اہمیت دی گئی اور نہ ہی خواتین نے اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کی ۔
خواتین میںایسی کئی خوبیاں ہوتی ہیں ، جو مردوں میں نہیں ہوتیں ، خاص طور سے بیک وقت کئی کام کرنے کی صلاحیت ، انتظامی صلاحیت اور قوت برداشت خواتین میں مردوں کی بہ نسبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خواتین مزاجاً بد عنوان نہیں ہوتیں ، اگر ملک کی سیاست میں خواتین کو ان کا حصہ دیا گیا ، اس پر پوری طرح عمل ممکن ہو سکا ، تو حالات کچھ اور ہو سکتے ہیں ۔ یوم خواتین کے موقع پر محض نعرے لگانے اور جشن منانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، بلکہ خواتین کو عملی طور پر میدان میں آنے ، اپنے حق کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ اگر ایسا نہیں ہو سکا ، تو صدیوں تک وہ اسی طرح یوم خواتین مناتی رہیں اور اپنے حقوق سے محرومی کا رونا روتی رہیں ۔ کیونکہ خدا بھی اسی کا ساتھ دیتا ہے ، جو کوشش کرتا ہے ۔

شیریں دلوی

Leave a Reply

four − two =

Top