You are here
Home > Literature > یواین آئی کا قصۂ درد

یواین آئی کا قصۂ درد

اردو صحافت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ رہی ہے یا عمداًتوڑی جارہی ہے؟ 

اردو صحافت میں انقلاب آجانے کا شور بلند کرنے والوں کیلئے ایک اہم خبر یہ ہے کہ اردو میں خبریں فراہم کرنے والی معروف خبر رساں ایجنسی یو این آئی کومزید ایک عدد خبررساں ایجنسی ’مذاکرات‘ کاسہارا مل گیا ہے!’’مذاکرات ‘‘…جی ہاں …’مذاکرات‘ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک خبر آج یعنی مورخہ تین اپریل 2017 کو یو این آئی کی اردو سروس سے بہ ذیعہ سافٹ ویئر بھیجی گئی ۔ فی الواقع یہ خبر یو این آئی کی ہندی سروس’وارتا‘ سے لی گئی تھی اور اسے اردو کے قالب میں ڈھالنے کیلئے… ’’گوگل با با ‘‘… کا سہارا لے لیا گیا…اور اس طرح یو این آئی کی اردو سروس کے لاحقہ میں…’مذاکرات‘… نامی ایجنسی کا اضافہ ہوگیا…کہاجا تا ہے کہ خبررسانی کے شعبہ میں ایجنسیوں کا رول فی زمانہ ریڑھ کی ہڈی سے کم نہیں ہے… اب ایسے میں اردو صحافت کے ائمہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اردو صحافت کی ریڑھ کی ہڈی کس انداز میں ٹوٹ رہی ہے یا توڑی جارہی ہے… یہ اْس خبررساں ایجنسی کا قصہ ہے، جس پر اردو کے تمام اخبارات انحصار کرتے ہیں… اِس ایجنسی سے خبریں حاصل کرنے والے اخبارات کو حکومت ہند بہ ذریعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان 50 فیصدرقم سبسڈی کی شکل میں فراہم کراتی ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ یو این آئی کی کفالت میں قومی کونسل کا کلیدی رول ہے… قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر جناب ارتضی کریم بجائے خود اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ یو این آئی کی حالت کس قدر خستہ ہے…موصوف نے یو این آئی کے ذریعہ بھیجی جانے والی خبروں کے معیار میں بہتری کے حوالہ سے اس وقت جناب عبدالسلام عاصم سے تبادلہ خیال بھی کیا تھا ،جب کونسل کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے عین بعد اردو کے درجن سے زائد صحافیوں کی موجودگی میں نا چیز نے یو این آئی کا قصہ درد بیان کیا تھا۔غور و فکر کے درمیان یہ تجویز آئی تھی کہ قومی کونسل مصروف ترین اوقات میں یو این آئی کو چند اہل علم کی خدمات کونسل کی جانب سے مہیا کرانے کی کوششش کرے گی اور اس با بت یو این آئی کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا جائے گا۔متذکرہ تجویزکا کیا ہوا یہ تو پتہ نہیں تاہم خبروں کے معیار کا جنازہ نہایت دھوم سے نکالاجارہاہے…قومی کونسل کو یہ افتخار حاصل ہے کہ اس نے اردو صحافت کی دو سو سالہ تقریب کا قبل از وقت اہتمام بھی کیا اور اس حوالہ سے متعدد مقامات پر بڑی مجلسیں بھی کونسل کے ذریعہ منعقد کرائی گئیں… یہی نہیں بلکہ اردو صحافت کی دو صدی کی تاریخ کو دستاویزی شکل میں سامنے لانے کی بھی کوشش کی گئی ،جس پر غالبا ابھی بھی کام چل رہا ہے۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ عملی لحاظ سے اردو صحافت کے معیار میں بہتری کے حوالہ سے کیا کونسل کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؟اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ جس ادارہ کا سالانہ بجٹ 80کروڑ کے قریب ہے اور جو ادارہ مختلف کانفرنسوں پر کروڑوں روپے خرچ بھی کررہا ہے، وہ اردو صحافت کے معیار کی عملاً بہتری میں ’شریک سفر‘ بننے سے قاصر ہے۔یو این آئی کا قصہ درد بیان کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اِس ادارہ کی پگڑی اچھالی جائے یا اِس بہانے سے قومی کونسل کو ہدف تنقید بنایاجائے۔ یہ المناک صورتحال اردو کے ہر اس باضمیر شخص کیلئے باعث کرب ہے،جو اردو صحافت کو معیاری شکل میں رواج دینے کا خواہاں ہے۔اردو برادی کیلئے یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے !
بر سبیل تذکرہ یہ عرض کردوں کہ قومی کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم سے یواین آئی کا قصہ ٔ درد بیان کرنے اور اُن سے اردو صحافت کے معیار میں بہتری کیلئے عملی قدم اُٹھانے کی استدعا کرنے کے بعد جب اِس ضمن میں کسی بھی طرح کی پیش رفت نہ دیکھی گئی تو راقم الحروف نے گزشتہ سال منظر عام پر آنے والی اپنی کتاب’’دہلی میں عصری اردو صحافت:تصویر کادوسرارُخ ‘‘میں اس واقعہ پرمفصل انداز میں روشنی ڈالنا ضروری سمجھا۔معاملہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ متذکرہ کتاب خود قومی کونسل کے مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے اور کتاب ِمذکور کی ایک کاپی خاکسار نے محترم ارتضیٰ کریم کو اِس گزارش کے ساتھ دی بھی کہ آپ اِسے بہ طور خاص دیکھیں کہ یہ کتاب یو این آئی کے ساتھ ساتھ قومی کونسل کو بھی ایک طرح سے کٹہرے میںکھڑا کررہی ہے۔ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ اِس کے باوجود اُردو صحافت کی صحت میں بہتری کاخواب ہنوز خواب ہی بنا ہوا ہے اوریہ بھی کہ یو این آئی کے موجود ہ ایڈیٹر جناب عبدالسلام عاصم کس انداز میں’ سوال دیگر جواب دیگر‘والا رُخ اختیار کر رہے ہیں،یہ فیس بک پر میری پوسٹ کے جواب میں موصوف کی جانب سے دی گئی رائے کو دیکھ ہر کوئی بخوبی اس کا اندازہ لگاجاسکتا ہے۔
یو این آئی کی بابت راقم الحروف کی تحریر کاوہ حصہ جو ’’دہلی میں عصری اردوصحافت:تصویر کا دوسرارُخ‘‘ میں شامل ہے،ذیل میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے:
اردومیں خبر رساں ایجنسیوں کادائرہ بھی خاصامحدودہے جس کی وجہ سے بعض اوقات اردو روزناموں میں ایسی خبریں بھی شائع نہیں ہوپاتیں،جنہیں ہندی اورانگریزی کے مقامی اخبارات شہ سرخیوںکے طورپر نمایاں اہمیت کے ساتھ شریک اشاعت کرتے ہیں۔گوکہ یواین آئی کو واحد مستندایجنسی کادرجہ حاصل ہے جومنظم طورپراردومیں اطلاعات کی ترسیل کی ذمہ داری نبھارہی ہے لیکن یواین آئی اردو سروس کی مفلسی کاعالم یہ ہے کہ اس کے پاس قومی دارالحکومت دہلی سے لے کربین الاقوامی سطح تک کہیں کوئی باضابطہ نامہ نگارموجود نہیںہے۔ یہ ادارہ درحقیقت محض ترجمہ نگاری کا ایک شعبہ ہے جہاںیواین آئی کی انگریزی سروس کے علاوہ ’یونیوارتا‘نامی ہندی سروس کی خبریں ترجمہ کرکے ’پروف ریڈنگ‘ کے بغیرہی اخبارات کو ارسال کردی جاتی ہیں کیونکہ اس ادارے میں پروف ریڈر کیلئے کوئی عہدہ ہی وضع نہیں کیاگیاہے۔مترجمین کاکام بس یہ ہوتا ہے کہ وہ یواین آئی کی انگریزی سروس یا ’یونیوارتا‘نامی ہندی شعبہ سے خبریں لے کر اس کو اردو کے قالب میں ڈھال دیں۔ بعدازاں کمپوزنگ کے عمل سے گزرتے ہوئے اخباراتی دفاترتک خبروںکی ترسیل کاکام اردو زبان سے تقریباًناآشنااور صحافتی تقاضوں سے کلیتاًمحروم افراد کے ذریعہ انجام پاتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات کمپوزنگ کی ایسی عظیم غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں،جنہیں قابل گرفت قرار نہ دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔چونکہ دہلی کے بیشتر اخبارات کے دفترمیں بھی خبروں کی پروف ریڈنگ کاکوئی باضابطہ اور معقول نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے فاش غلطیوں پر مشتمل خبریں اخبارات کے صفحوںکی زینت بن جاتی ہیںجن کا بعض اوقات خوب مضحکہ بھی اڑایاجاتاہے۔ یہی نہیں بلکہ یواین آئی اردو سروس میںمامورمترجمین کی استعدادعلمی کی کمی اور ترجمہ نگاری کے عملی تجربات کاشدید فقدان بھی خبروںکی شکل و شباہت کومسخ کرنے کا بڑاسبب بنتا رہتا ہے جس کے باعث ذمہ داران اخبارات کو قارئین کے درمیان بعض اوقات بڑی رسوائی اور خفت بھی اٹھانی پڑجاتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی سے وابستہ مترجمین کے ذریعہ خبروںکواردوقالب میں ڈھالنے کایہ عمل بعض اوقات ایسی اصلاحات کوبھی جنم دینے کامحرک بن جایاکرتاہے جس پر پشیمانی اور شرمندگی کی ہر کوشش ہیچ ہی قرارپاتی ہے۔بیک وقت ہندی،انگریزی اور اردوزبانوںپر عبور کامل نہ ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ WHITE PAPERکا ترجمہ ’سفیدکاغذ‘۔COPY RIGHT کاترجمہ’صحیح کاپی‘۔ REDLIGHT ZONE کاترجمہ’سرخ بستیوںکا علاقہ‘کرتے ہوئے ترجمہ نگاری کے فن کاخوب خوب مذاق اڑایا جاتاہے۔یواین آئی اردو سروس سے آئے دن ایسی خبریںبھی جاری کی جاتی ہیں جن میں سابق وزیراعلیٰ کو وزیراعلیٰ،سابق وزیراعظم کو وزیراعظم اورسابق اراکین پارلیمنٹ کواراکین پارلیمنٹ بنا کرپیش کردیاجاتاہے اور دلچسپ صورتحال یہ بھی ہے کہ بغیراصلاح کے اکثرایسی خبریںاخبارات میںشائع بھی ہو جاتی ہیں۔حالانکہ یہ ایسے نقائص ہیں،جنہیں یواین آئی دور کرسکتی ہے جس کیلئے اسے ’پروف ریڈر‘ کاتقررکرناہوگااور جوابدہی طے کرنی ہوگی تاکہ ذمہ دار عملے غفلت اور لاپروائی برتنے کے بجائے خبروںکی ترسیل سے قبل اس پر بہترطریقے سے نظرثانی کریں اور پھرخبروںکااجرا عمل میںآئے ۔حالانکہ ان کمیوںسے ایجنسی کی معتبریت پر بھی بعض اوقات حرف آتاہے اور نتیجتاًبعض ذمہ داران اخبارا ت حساس نوعیت کی خبروںکی آمد کے بعد اس کی دوسرے ذرائع سے تصدیق بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر بھی ادارے نے اس کی ضرورت ہنوز محسوس نہیں کی ہے کہ ایسی فاش غلطیوںکو دور کیاجائے۔ پروف کے نامعقول نظام،ترجمہ نگاری کے نقائص اور اخبارات میںدرآنے والی فاش غلطیوں کی پردہ پوشی کا بس یہی طریقہ رائج ہے کہ ایک مستقل عذرپیش کردیا جائے۔وہ عذرلنگ ہے ’’کمپوزنگ کی غلطی‘‘۔اس پردہ ٔ زنگاری میں تمام قسم کی غلطیوںکو چھپالینا اردوصحافت میں عام سی بات ہے۔ یواین آئی کے نیوز روم سے وابستہ افراد کاخیال ہے کہ انہیں انگریزی اور ہندی کی طرح اردو سروس میں وہ سہولیات و مراعات حاصل نہیں ہیں ،جن کے ذریعہ خبروںکی ترسیل میںحائل دشواریوں، کمیوں،خامیوںاور خرابیوںکاازالہ ہوسکے۔
جدید اطلاعاتی انقلاب کااثرگرچہ یو این آئی اردو سروس پر بھی پڑاہے اور اس نے خبروںکی ترسیل کے فرسودہ طریقوںکو خیرباد کہتے ہوئے نئی سہولتوںکو گلے لگانے کی کوشش بھی شروع کردی ہے لیکن یہ بھی تلخ سچائی ہے کہ جدت طبع کے مظاہرے میں اردوسروس کی رفتار دیگرمیڈیامراکز کے مقابلے خاصی سست ہے۔ یوںتوکچھ دنوں قبل یواین آئی نے خود کو ’وی سیٹ‘سے آراستہ کرتے ہوئے خبروںکی راست فراہمی کاآغازبھی کردیاتھا جس سے بعض اخبارات نے استفادہ کاتجربہ بھی شروع کیا لیکن تکنیکی اعتبارسے اسے وہ بلوغیت حاصل نہیںہوسکی جو دیگرزبانوںکے ’وی سیٹ‘ نظام کو حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اردواخبارات نے جس میں ہندوستان ایکسپریس بھی شامل ہے، مراجعت چاہتے ہوئے ای میل کی وساطت سے خبروںکے حصول کو بہتر سمجھااور یوں بیشتر اخبارات کے دفاتر کو یواین آئی کی خبریں ای میل کی وساطت سے بھیجی جانے لگیں ۔یوں ٹیلی پرنٹر کے ذریعہ خبروںکے حصول کا سلسلہ بندہو نے کے بعدکچھ مدت تک خبریں ای میل کے ذریعہ ارسال کی جانے لگیں۔اب یو این آئی نے اپنا خصوصی سافٹ ویئر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعہ خبروں کی ترسیل کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ حالانکہ وی سیٹ کے نظام کو خیر باد کہنے کے بعد ای میل کے ذریعہ ان پیج کی فائلیں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا مگر نئی ٹیکنالوجی کے استفادہ کے شوق میں یو این آئی نے اپنا سافٹ ویئر تیار کرایا اور اب یہی سافٹ ویئر خبروں کی ترسیل کا ذریعہ ثابت ہورہا ہے لیکن نوٹ کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ یہ سہولت بھی ابھی تجرباتی عمل سے ہی گزررہی ہے اور کوئی ماہ ایسا نہیں گزرتا جب سافٹ ویئر میں نقص نہ آئے اور نتیجتاً خبروں کی ترسیل میں دشواری لاحق نہ ہو۔ خبروں کی ترسیل کو سہل بنانے کیلئے حالانکہ یو این آئی نے سافٹ ویئر کا سہارا لینا ضروری سمجھا لیکن جہاں ایک طرف یہ کوشش پوری طرح کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور تکنیکی دقتیں بار بار دشواریاں پیدا کررہی ہیں، وہیں اہم بات یہ بھی ہے کہ جس اندازمیں فی الوقت خبروں کی ترسیل کو یقینی بنا یا جارہا ہے وہ بجائے خود نقائص کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ کوئی ایک خبر بھی درست شکل وصورت میں اخباری دفتر کو ارسال نہیں ہوا کرتی۔ نقائص بھی درجنوں قسم کے ہیں کوئی ایک خامی ہوتو اسے دور کرنے کی جانب توجہ دی جائے اور اسے دور کیاجانا ممکن بھی ہو لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو سافٹ ویئر فی الوقت خبروں کی ترسیل کا لازمی ذریعہ بناہوا ہے، اس کے ذریعہ موصول ہونے والی خبروں میں ہزار قسم کی پیچیدگیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس ضمن میں یو این آئی سے موصول ہونے والی خبروں کی بگڑی ہوئی شکل کو بھی دیکھ لیاجائے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ فی زمانہ جو خبریں اخباراتی دفاتر تک موصول ہورہی ہیں ، ان میں کیسی کیسی غلطیاں اور خامیاں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بطور مثال21اگست2015 کوجاری ہونے والی یواین آئی کی ایک خبر کے اِس حصہ کو دیکھئے:
’’بھگوان شو کی نگری وارانسی کے میونسپل کارپوریشن میں ساون کے آخری پیر یعنی آئندہ 24 اگست کو تعطیل ہو [؟][؟]گی۔‘‘
یا پھر اسی تاریخ کی ایک دوسری خبر کی سرخی ملاحظہ کیجئے ،جو یو این آئی کے ذریعہ قائم کرتے ہوئے اخبارات کو بھیجی گئی۔سرخی کچھ یوں ہے:
’’ہندوستان نے حریت میٹنگ پر پاکستان کو خبردار کیا، این ایس اے بات چیت غیر یقنی کا شکار‘‘
متذکرہ بالادونوں مثالوں سے یواین آئی کی ناقص خبروں کی بابت حقیقی صورتحال کو بخوبی سمجھاجاسکتا ہے۔ پہلے نمونہ میں ٹیکنالوجی کی خامیوں کو سمجھنا قدرے آسان ہوگا کہ جس سافٹ ویئر کو برق رفتاری کے ساتھ خبروں کی ترسیل کیلئے مناسب سمجھا جارہا ہے، وہ صحت الفاظ کا خیال رکھنے میں کس قدر ناکارہ ثابت ہورہا ہے اور یہ بھی کہ خبروں کی برآمدگی کس صورت میں ہور ہی ہے۔ خبروں کی زبان اور مناسب الفاظ کے استعمال کے تعلق سے جو خامیاں سرزد ہورہی ہیں وہ تو عیاںہے، اہم بات یہ بھی ہے کہ سافٹ ویئر سے ان پیج میں خبر وںکی منتقلی کے دوران جو مضحکہ خیز صورتحال سامنے آرہی ہے، اسے بغیر کسی احتجاج کے برداشت کیا جارہا ہے۔ ان پیج میں خبروں کی منتقلی کے دوران ان مخصوص علامات کی شکل وشباہت تو بگڑ ہی رہی ہے جو قوسین اور واوین سے متعلق ہیں ،قابل ذکر نکتہ یہ بھی ہے کہ دو الفاظ کے درمیان بعض ایسے علامات کا دخول بھی ہو رہا ہے جو لایعنی ہی نہیں بلکہ ناقابل فہم بھی ہے مثلاً یہ دیکھئے ۔ [؟][؟]۔جو دو مثالیں اوپر درج کی گئی ہیں ان میں سے ایک میںیہ صورتحال پائی جارہی ہے جبکہ ایک خبر کی سرخی کو دوسری مثال کے طورپر پیش کیا گیا ہے جس میں غیر یقینی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے عبارت کی شکل بگاڑ دی گئی ہے اور کچھ یوں لکھا گیا ہے ۔ یقنی ۔مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے صرفی نحوی اور لغوی نقطہ نظر سے فی زمانہ یو این آئی سے جاری ہونے والی کوئی ایک خبر بھی ہمیں ایسی دیکھنے کو نہیں ملتی جسے خامیوں سے پاک قرار دیاجاسکے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے کہ جب کوئی ایک خبر بھی خامیوں سے پاک نہیں ہوگی تو ایسے میں اس خوش فہمی کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے کہ اردو صحافت خبروں کی پیشکش کے معاملہ میں جدت طبع سے آراستہ ہورہی ہے یا ہوسکتی ہے۔ بیشک یہ درست ہے کہ تکنیکی دشواریاں درمیان میں حائل ہورہی ہیں لیکن ان دقتوں سے نجات کی صورت اگر پیدانہیں ہورہی ہے یاان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے تو اس کے لیے ذمہ دار کسے قرار دیا جائے۔
ہرزبان کے قاری کا مذاق منفرد ہوتاہے جس کی روشنی میںہی متعلقہ نیوز ایجنسیاںترجیحات کاتعین کرتی ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے بھی اگر دیکھا جائے تو یواین آئی کی اردو سروس قارئین کے جذبات کاخیال رکھنے میںناکام ہے۔اردو قارئین کی پہلی پسندکیا ہے یا کیاہوسکتی ہے؟اس پر نہ تو ادارے نے کبھی غور کرنے کی زحمت گوارا کی اور نہ ہی اردو اخبارات کے مدیروں کے ساتھ ارتباط کا ہی کوئی ایسا باضابطہ نظام رائج ہے جس سے قارئین کے مطالبات یاپسندوناپسند سے یہ خبررساں ایجنسی واقف ہوسکے اور اس کی روشنی میںخبروںکی ترسیل کے انداز وآہنگ میں تبدیلی لائی جاسکے۔
مقامی سطح پر آئے دن رونما ہونے والے بڑے واقعات و حادثات کی خبریںبھی بروقت فراہم کرانے سے یواین آئی اردو سروس پوری طرح قاصرہے۔خصوصاً کسی بھی شام کے واقعہ پر مبنی خبرکودوسرے دن یعنی پورے ایک دن کی تاخیر سے فراہم کرانا اور ایسی پرانی خبروںکو( جو کہ یقینی طور پر دیگرزبانوںکے اخبارات میںشائع کی جاچکی ہیں)اردواخبارات میںبہ اہتمام شائع کرنا قطعاًمعیوب نہیںہے۔اس رجحان کو تقویت حاصل ہوجانے سے قارئین کے درمیان اکثریہ شکوہ سننے میںآتا ہے کہ اردواخبارات میںبیشترخبریں پرانی ہوتی ہیں جن سے وہ ایک دن قبل ہی آگاہ ہوچکے ہوتے ہیں۔یہ شکایت بھی بے جااور غلط نہیں ہے لیکن نہ تویواین آئی نے آج تک اس پر سنجیدگی دکھائی ہے اور نہ ہی ذمہ داران اخبارات نے قارئین کی اس شکایت کو دور کرنے کی کوئی سبیل نکالی ہے۔
تاخیر سے ایسی خبروںکی فراہمی کی ایک بڑی وجہ یواین آئی میں افرادی قوت کی کمی ہے۔ایک معیاری خبررساںایجنسی میںبروقت خبروںکی تیاری اور ترسیل کیلئے عملوںکی جتنی ضرورت ہوسکتی ہے اس کے مقابلے اردو سروس میں ملازمین کی تعدادنصف بھی نہیںہے۔ قلت افراد اور دقت درازپر روشنی ڈالتے ہوئے یواین آئی اردو سروس کے انچارج ایڈیٹرعبدالسلام عاصم کہتے ہیں:
’’یواین آئی اردو سروس جب شروع ہوئی تھی تویہ طے پایاتھاکہ اس کامرکز صرف دہلی میں رہے گا۔ ملک کے تمام شہروںاور دنیا کے تمام ملکوںسے آنے والی خبروںکابروقت ترجمہ کیاجائے گالیکن مقامی طور پر باضابطہ رپورٹنگ ہوگی اوردہلی کی کم از کم 60فیصد خبریںخالص ہماری اپنی ہوں گی۔ یہ تھایواین آئی اردو سروس کا خاکہ مگرجب عملی طورپریواین آئی کی اردوسروس شروع ہوئی تو رپورٹنگ کاکوئی علاحدہ شعبہ قائم نہیں کیاگیا۔ ڈیسک پر 20افراد کی تقرری عمل میں آئی جن میں سب کے سب ’سب ایڈیٹر‘ کے طورپر مامور کیے گئے۔سینکڑوںکی تعدادمیںامیدوار انتخاب کے حوالے سے انٹرویومیںشریک ہوئے لیکن ایک خاص بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ ان میںناکامیاب ہونے والوںکی غالب اکثریت ایسے افرادکی تھی جن کاتعلق مغربی یوپی، دہلی اورمضافات کے خطے سے تھا۔ ایک چیزیہ دیکھی گئی کہ اس علاقے کی جو نئی پیڑھی ہے وہ اردوسے واقف نہیںہے۔نئی نسل سے یہ مرادنہیںہے کہ جو 20-25 سال کے ہیں انہیں اردونہیںآتی بلکہ جن کاتعلق 45-50 سال کی عمر سے بھی ہے وہ بھی اردو سے نابلد و ناوقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یو این آئی کے انتخابی عمل میں شریک ہونے والے کامیاب امیدواروںمیں کلکتہ کاغلبہ رہا۔کچھ جے این یو کے فارغین کامیاب ہوئے۔چندایسے صحافیوںکابھی انتخاب عمل میں آیا جو’ملاپ‘اور’پرتاپ‘جیسے اخبارات سے وابستہ تھے۔اس طرح ایجنسی توچل پڑی لیکن باضابطہ ’رپورٹنگ‘کاشعبہ قائم نہیںہوا۔ رپورٹنگ کے نام پر مسلم سیاست اور اردو تقریبات تک خودکو محدود رکھا گیا۔ حالانکہ یہ امکانات موجود تھے کہ رپورٹنگ کاشعبہ اگرقائم کیاجاتاتو اس سے اردو سروس میںمزیدتنوع پیدا ہوتالیکن ایسانہیں ہوسکا کیونکہ اردو سروس کے آغاز کے بعد اردو اخبارات کی جانب سے جو رسپانس آیا،وہ اردو کے حق میں حوصلہ افزا ومفید کم،تاجرانہ فکرکاحامل زیادہ رہا۔ بہرحال یواین آئی کی اردو سروس کی شروعات نے اردوصحافت کونئی سمت عطا کرنے میںاہم کرداراداکیاکیونکہ اس سروس کی ابتدا سے قبل تک خبروںکے انفرادی ترجمہ کی روایت تھی جس کی وجہ سے یکسانیت کافقدان تھا۔ یو این آئی کی آمد کے بعد اصطلاحات سازی سے عدم یکسانیت کاخاتمہ ہوا۔ علاوہ ازیں ایک مخصوص نظریے سے ہر خبر کو دیکھنے کے سلسلے میں بھی کمی آئی کیونکہ اس سروس نے اعتدال پسندانہ مزاج کو فروغ دیتے ہوئے خبروں کی ترسیل کاایساباضابطہ نظام قائم کیاجہاں تنگ نظری کے بجائے وسیع النظری کارجحان پیدا ہونے لگا۔ …ہندوستانی مسلمان بالخصوص اقلیت میں کم ہیںلیکن ’اقلیت میںہونے‘کی نفسیات کے زیادہ شکارہیں۔اس کی پرچھائیاں اردو اخبارات میں بھی دیکھنے کوملاکرتی تھیںچنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیںکہ اس نفسیات سے اردو اخبارات کو کسی حد نکالنے میں یواین آئی کی فراہم کردہ خبروںکابڑارول ہے۔یو این آئی نے ایسی خبروںکی ترسیل کی کامیاب کوشش کی جنہیںاس سے قبل تک ترجمہ کرکے اردواخبارات میں جگہ دینا گوارانہیں تھا۔خواہ کاروباری نوعیت کی خبریں ہوں یااسپورٹس کے شعبہ کی،یواین آئی نے مخصوص اورتنگ دائرہ سے اردو اخبارات کونکالنے کی کماحقہ کوشش کی جس کی بنا پر اردوصحافت کو نیاسمت حاصل ہوا۔‘‘
روزنامہ اردوصحافت کوانقلابی تبدیلیوںسے دوچارکرنے میں یواین آئی اردو سروس کی خدمات کو یقینافراموش نہیںکیاجاسکتا کیونکہ ایک ایسی خبررساںایجنسی جوخود ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہو اور افرادی قلت جسے روز اول سے ورثہ میںملی ہو وہ اگر محض25نفوس پر مشتمل اپنے عملوںکی بدولت خبروںکی ترسیل کااسی طرح بیڑااٹھائے،جس نہج پردیگرزبانوںکی ایجنسیاں اطلاعات رسانی کے فرائض انجام دے رہی ہیںتوظاہر ہے کہ کہیں نہ کہیںاس کمی کا احساس ضرور ہوگا۔ ایک ایسی ایجنسی جہاں ایک اخباری دفتر کے مساوی بھی عملہ نہ ہو،انفرااسٹرکچرنہ کے برابرہواور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک و بیرون ملک میںکہیں اس کاکوئی نامہ نگار بھی نہ ہو وہاںسے خبروںکی ترسیل کی خواہ کسی قدرایماندارانہ اور مخلصانہ کوششیں کیوںنہ ہوں،ترسیل اطلاعات کانظام مفلسی کاشکار یقینی طور پرہوگا۔ محدود وسائل کے باوجود اس ادارے سے جتنی خبریںارسال کی جاتی ہیں،انہیں غنیمت نہ کہنے کاکوئی جوازہی نہیںہے۔ہندی و انگریزی کے برعکس یواین آئی کی اردوسروس کی اس یتیمی کے اسباب و محرکات کیاہیں؟اس پر غورکیے جانے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی زبان کی صحافت کی نشوونمامیں خبررساںایجنسیوںکاکردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔ اردو میں بالخصوص نیوزایجنسی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ ترجمہ سے لے کر کمپوزنگ کے مراحل تک سے گزرنا کسی بھی اخباری ادارے کے بس کی بات نہیں رہ گئی ہے ۔دراصل محدود وقت میں جس قدر خبروںکے ترجمے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے اس کے لیے یہ لازم ہے کہ کم از کم 25-30مترجمین وقت ضائع کیے بغیر خبروںکو اردوقالب میں ڈھالیں،ان خبروںکی موقع گنوائے بغیر کمپوزنگ ہو اور بلاتاخیر اسے متعلقہ صفحات کے ذمہ داروںکو فراہم کرائی جائے۔ 2008میں یواین آئی میںہندی ،انگریزی اوراردوکے عملوںکی ملک بھرمیںمجموعی تعداد 800 تھی۔ دارالحکومت دہلی میںاُس وقت تقریباً300 افرادیواین آئی سے وابستہ تھے اس کے برعکس یواین آئی اردوسروس کی کل کائنات اُسی دوران25 تھی،جس میںایڈیٹر، نیو ز ایڈیٹر، سب ایڈیٹراور آپریٹر سبھی شامل تھے۔ 25اراکین پر مشتمل یواین آئی اردو سروس میںعملوںکی حیثیت کچھ یوںتھی۔ایک ایڈیٹر، تین نیوزایڈیٹر،تین چیف سب ایڈیٹر، تین سینئر سب ایڈیٹر۔باقی ماندہ افراد آپریٹر کے عہدہ پر مامورتھے۔ہندی اور انگریزی کے برعکس اردو میں ڈیسک پر مامور ادارتی عملے خبروں کی تیاری کیلئے قلم اور کاغذ کا استعمال کیاکرتے تھے، جبکہ ہندی اور انگریزی کا ہر ایک ادارتی عملہ اپنی خبریں کمپیوٹر پر خود ہی کمپوز کرتاتھا۔ اس صورتحال کا ایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ یواین آئی نے خود ہی اردو کے ادارتی عملوں کے لیے کمپیوٹر فراہم نہیں کرایا۔ صرف آپریٹروں کے لیے کمپیوٹر لگائے گئے۔ ادارتی عملوں کے درمیان ایک عدد کمپیوٹر 2008میں اس بات کی گواہی دے رہاتھا کہ اردو کا ادارتی شعبہ روایتی ڈگر پر ہی چل رہا ہے۔حال کے دنوںمیں گوکہ سہولتوںکی فراہمی کے تعلق سے کچھ بہتری آئی ہے لیکن اِسے کافی نہیں کہاجاسکتا۔
بحیثیت مجموعی دہلی کے ان روزناموں کے لیے جو اردوخواں طبقہ کے بیڈروم/ڈرائنگ روم میں جگہ پانے کی جستجومیں ہیں،یو این آئی کی اردو سروس ’لائف لائن‘کادرجہ رکھتی ہے کیونکہ تمام تر نقائص اور معائب کے باوجودیہ ایسی منفرد ایجنسی ہے جواخباراتی مراکزکو دنیابھرکی خبریں ترسیل کرتی ہے۔ یو این آئی کے علاوہ بھی بعض سستی خبر رساں ایجنسیاں اردوصحافت کی وادی میںقدم رنجہ ہوچکی ہیں تاہم وہ انفرادی کو ششوںسے چل رہی ہیںاورشخصی مفادات کی حامل ہیں۔ ان میںسے اکثر ایجنسیوںکادارومدار سرقہ پر ہے جو نہایت بے حیائی کے ساتھ دنیابھر کی اردو ویب سائٹ سے خبریں چوری کرتی ہیں یا چند خبروں کا ہندی یا انگریزی سے آن لائن ترجمہ کرتی ہیںاور پھر انہیںاِن پیج نامی سافٹ ویئر میں منتقل کرکے اخباراتی دفاتر کو ارسال کردیاکرتی ہیں۔ ایسی غیر معروف ایجنسیوںکے ذریعہ بھیجی جانے والی خبروں کا10فیصد حصہ بھی ان کے نامہ نگاروںکی اطلاعات پر مبنی نہیں ہوا کرتا ،جس سے ان ایجنسیوںکی مسلمہ حیثیتوںکا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ’فائل کاپی ‘کے طور پر شائع ہونے والے اخبارات یواین آئی کی جگہ ایسی ہی کسی خبررساں ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں1000 سے 2000روپے ماہانہ کے عوض ایسی سروس دستیاب ہوجاتی ہے جبکہ یواین آئی کی خدمات حاصل کرنے کیلئے انہیں4500روپے (مکمل اخراجات کانصف یعنی 4500 روپے حکومت ہند سبسڈی کے طور پر قومی کونسل برائے فروغ ارد و زبان کے توسط سے یواین آئی کو فراہم کراتی ہے)کی ادائیگی کرنی ہوگی۔
اردومیںخبررساںایجنسیوںکے لیے تجارتی لحاظ سے امکانات کے دروازے تقریباً بند ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی معروف ایجنسی اس زبان کے لیے اپنی سروس شروع کرنے پر آمادہ نہیںہے۔ اگر خسارے سے نجات کی سبیل نکل آئے توپی ٹی آئی جیسی معروف ایجنسی کے لیے بھی اردو سروس شروع کرنابہت زیادہ مشکل نہیںہوگاکیونکہ اس کے پاس یواین آئی کے مقابلے کئی گنازیادہ صلاحیت اور سہولت موجودہے۔ اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اردواخبارات کے ذمہ داران معتبر ایجنسیوںکی خبریں خریدنے میںقطعاًیقین نہیں رکھتے۔ انہیں مفت میں جو بھی ملے ، سب کچھ گوارا ہے۔صرفہ جس پر آئے وہ قابل قبول نہیں۔حالانکہ یہ ایک عام روش ہے لیکن اختصاصی پہلوسے بعض اردواخبارات یا ادارے اس سے مبرا اور مستثنیٰ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے زیرملازمت صحافیوںکی تربیت کااعلان کیا تو دہلی کے بعض اردواخبار نے آگے بڑھ کراس کانہ صرف یہ کہ والہانہ استقبال کیابلکہ ہندوستان ایکسپریس نے اردوصحافت کی ناگفتہ بہ صورتحال پر اپنے اداریہ میںاہل نظرکی توجہ اس حقیقت کی جانب بھی مبذول کرائی کہ اردوصحافت کے معیار کو درست کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ یواین آئی اردوسروس کااحیا کیاجائے اورملک کی دیگرمستندایجنسیوںکوبھی اس بات کیلئے آمادہ کیاجائے کہ وہ اردوسروس شروع کرنے میں دلچسپی لیں۔ ہندوستان ایکسپریس کے طویل اداریہ سے اہم اقتباس پیش ہے تاکہ اردوصحافت کی یتیمی پر اخبار مذکور کی فکر کوسمجھناآسان ہوسکے۔اخبارلکھتاہے:
’’ صحافت کے معیار کو بہتر بنانے کی فکراہل نظرکوستارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے اردواکادمی دہلی نے صحافت کواپنی ترجیحات میںشامل کرنے کا اعلان کیااورپھرقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نے زیرملازمت صحافیوںکی تربیت کاخاکہ پیش کیا۔ بیشک یہ ایک مستحسن قدم ہے کیونکہ اردوصحافت کوزمانے کے تقاضوںسے ہم آہنگ کرنے کیلئے یہ ناگزیربھی ہے،لیکن اصلاحات کایہ عمل کہاںسے شروع ہو؟بہتری کے دروازے کہاںکھلیں؟پیش رفت سب سے زیادہ کہاںدکھائی جائے؟یہ سوالات ایسے ہیںجن پر سب سے زیادہ انہیں غورکرنے کی ضرورت ہے جو اردو صحافت کے معیارومزاج کو بہتربنانے کے آرزومندہیں۔قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ مریض کے علاج سے قبل بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے،پھریہ دیکھناپڑتاہے کہ اگرمریض بیک وقت کئی امراض میں مبتلاہے توعلاج پہلے کس بیماری کاکیاجائے تاکہ پہلے سنگین عارضہ سے اسے نجات مل سکے اورپھر وہ تدریجی منازل طے کرتاہواپوری طرح صحتمندہو۔ٹھیک اسی طرح اردوصحافت کی صحت کو بہتربنانے کے لیے بھی یہ لازم ہے کہ ان امراض کی تشخیص کی جائے جوسنگین ہیںاور جن کے علاج کے بغیر اردوصحافت کی صحت کو بہتر بنانے کاتصور بھی محال ہے۔ عہد حاضرکی اردوصحافت بیک وقت درجن سے زائد بیماریوں میںگھری ہوئی ہے جس کے علاج کی سنجیدہ کوششوںکی بجائے اب تک مرض کی تشخیص کے نام پر سمیناروںاور سمپوزیموںکاطویل سلسلہ چلتارہاتھا۔ دوقدم آگے بڑھتے ہوئے پہلے اردواکادمی کے نومنتخب وائس چیئرمین نے عملی پیش رفت کااشارہ دیا اور اب قومی اردوکونسل نے وادیٔ صحافت کی خزاں رسیدہ صورتحال کو پیش نظر رکھ کر ’بہار‘کی تلاش کاعمل شروع کیا ہے۔بیشک یہ ایک قابل قدر کوشش ہے جس کی پذیرائی ہونی چاہئے، لیکن اصل سوال یہی ہے کہ اصلاحات کا عمل کہاںسے شروع ہو؟ذرائع ابلاغ نے اکیسویںصدی کی پہلی دہائی کے اختتام پر پہنچتے ہوئے ترقیات کے کئی ایسے معرکے سر کرلیے ہیں جن کی وجہ سے فطری طورپراردوصحافت کو مسابقہ کا دوسروںکے مقابلے کچھ زیادہ ہی سامنا ہے۔خبروںپر گوکہ اجارہ داری کاطویل سلسلہ ختم ہوچکا ہے لیکن اردوصحافت کے لیے آج بھی جو مسئلہ سب سے زیادہ درپیش ہے وہ یہی ہے کہ اخباری تقاضوںکی تکمیل کے لیے بروقت اطلاعات کاحصول کیسے ممکن ہو؟ …قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان وہ واحد ادارہ ہے جس نے اردوصحافت کی بہتری کے لیے زبانی جمع خرچ کے عام طریقے سے ہٹ کرعملی پیش رفت کامظاہرہ کیاہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی یواین آئی اردوسروس کے ذریعہ سبسکرائبر سے وصول کی جانے والی ماہانہ فیس کانصف یہ ادارہ اداکرتاہے جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ اردو صحافت کومعیار بخشنے میںیہ ادارہ دلچسپی کامظاہرہ کرتارہاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یواین آئی اردو سروس کی نشاۃ ثانیہ پر بھی قومی کونسل سنجیدگی کے ساتھ توجہ دے اوراس سلسلے میںقائدانہ کردارنبھائے بلکہ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر معیاری خبررساں ایجنسیوںکو بھی اس بات کے تئیں راغب کرایاجائے کہ وہ بھی اردو سروس کی شروعات کے ذریعہ اردوصحافت کی ہمہ گیری میںشامل ہوں۔جب ریڑ ھ کی ہڈی درست ہوجائے گی تویقینا اردوصحافت کے دیگراعضائے لازمہ کی کمزوریوںکو دور کرنے کی سبیل بھی نکل ہی آئے گی۔‘‘
اداریہ:روزنامہ ہندوستان ایکسپریس،مورخہ یکم مئی2010
اداریہ مذکورمیں قومی کونسل برائے فروغ ارد و زبان کی توجہ خبر رسانی کے شعبہ میں بہتری کے حوالے سے مبذول کرائی گئی تھی لیکن یہ محض اتفاق نہیں کہ اس ادارہ نے برسر خدمت صحافیوں کی عملی تربیت کا کسی حد تک سلسلہ شروع کیاالبتہ خبر رسانی کے شعبہ میں بہتری کے حوالے سے کسی طرح کا قدم نہیں بڑھایاگیا۔ اس وقت بھی نہیں جب پروفیسر خواجہ اکرام الدین ادارہ کے ڈائریکٹر کے طور پر فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اردو صحافت کی صحت اور تندرستی کا خاص خیال رکھنے کے لیے بظاہر کوشاں نظرآئے اور اب بھی نہیں، جب پروفیسر ارتضیٰ کریم نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم یواین آئی کی اردو سروس کی ناگفتہ بہ صورتحال سے واقف نہیںبلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بطور ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی کمان سنبھالنے کے بعد جب اردو صحافیوں سے انہوں نے پہلی بار تبادلۂ خیال کیا تو اس موقع پر بھی یواین آئی کی خستہ حالی کی بابت ان کی توجہ مبذول کرائی گئی اورانہیں یہ بتایاگیا کہ اردو صحافت کی تعمیر وترقی کے لیے اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم اس وقت تک ثمر افزا ثابت نہیں ہوسکتا جب تک کہ خبر رسانی کے شعبہ میں انقلابی تبدیلی نہ آئے۔ چونکہ متذکرہ میٹنگ میں یواین آئی اردوسروس کے انچارج ایڈیٹر بھی موجود تھے لہٰذا زبانی جمع خرچ کی حد تک خیالات کا تبادلہ خوب خوب ہواا ور مسائل کو سمجھنے میں بھی بظاہر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے دلچسپی دکھائی اور بعد ازاں یہ طے پایا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کم از کم یہ سہولت مہیا کرانے کیلئے عملی قدم اٹھائے گا کہ مصروف ترین اوقات میں این سی پی یو ایل کے مالی تعاون سے چند اہل علم حضرات یو این آئی کے دفتر میں خبروں کی مانٹرنگ اور تصحیح کا فریضہ انجام دے سکیں۔ 16جون 2015کو منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں اردو صحافیوں کو پروفیسرارتضیٰ کریم نے یہ یقین دہانی تو کرادی کہ عملی لحاظ سے یواین آئی کی خبروں کے معیار میں بہتری کے لیے وہ جلد ہی قدم بڑھائیں گے لیکن تادم تحریر ایسی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیںآئی ہے جس سے اس خیال کو تقویت حاصل ہو کہ واقعی پروفیسر ارتضیٰ کریم یا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان خبر رسانی کے شعبہ میں انقلابی بہتری کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس صورتحال کی وضاحت اس لئے ناگزیر ہوگئی تاکہ یہ اندازہ بھی لگایا جاسکے کہ جو صاحبان علم ودانش اردو صحافت کی تعمیرو ترقی کے دعویدار ہیں اوراس ضمن میں عملی قدم ا ٹھانے کی باتیںبھی کہہ رہے ہیں، مجبوریاں، پیچیدگیاں اور دشواریاں اُن کا راستہ کس طرح رو ک رہی ہیں، انہیں سمجھنے میںکچھ مدد مل سکے۔

شاہدالاسلام

مضمون نگار کا پتہ:
شاہدالاسلام ،معرفت:روزنامہ ہندوستان ایکسپریس
جی79-کالندی کنج،ابوالفضل انکلیو،پارٹ II،جامعہ نگر۔نئی دہلی110025
فون:9871719262

Leave a Reply

13 − 11 =

Top