You are here
Home > Health > ہندستا ن میں دودھ بینک کی مقبولیت

ہندستا ن میں دودھ بینک کی مقبولیت

ہم صدیوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ بچوں کی غذائیت اور بہتر صحت و پرورش کے لیےماں کا دودھ بہترین مانا جا رہا ہے۔یہ بات باکل سچ ہے اور آج بھی ثابت ہو رہی ہے، لیکن بہت سی بر سر روزگارمائیں یا بچے کی پیدائش کے بعد شدید بیمار ہو جانے والی ماں کا اکثر اپنے دودھ پر اختیار نہیں ہوتا، کبھی غذائی کمی یا کسی قسم کی کمزوری کی وجہ سے زچہ کے یہاں دودھ کی کمی ہو جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کے متبادل کے طور پر ہندستان میں عورت کے دودھ بینک آج کل تیزی سے تیار کیے جا رہے ہیں ،جو بلڈ بینک کی طرح ہی ہوتے ہیں۔
تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن بچوں کو ایک سال کی عمر تک ماںکا دودھ نہیںپلایا جاتا، انہیں ایک سال کی عمر سے پہلے ہی طبی نگرانی کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں صرف ۲۰؍ فیصد برسر روزگارخواتین ہی دودھ پلانے کے قابل ہیں۔ اس لیے دونوں تنظیموں کا مشورہ ہے کہ ہندستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں عورت کے دودھ بینک کھولے جائیں۔ ان بینکوں کی مدد سے دودھ پلانے کے قابل نہیں ہونے والی خواتین اپنے بچوں کی بہتر پرورش یقینی طور پر کر سکتی ہیں اور انہیں مختلف امراض سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
اگرچہ کچھ خاندان کسی اور عورت کا دودھ بچے کو پلانے کے خیال کے خلاف ہیں لیکن وہ علاج کے خلاف نہیں ہیں۔ دہلی کے بي ایل کے ہسپتال کے نوزائیدہ بچے اور نوجوانوںکے معالج و مشیر انکر کمار کہتے ہیں ‘’’ماں کے دودھ کے بینک بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ان بینکوں میں ماں کا دودھ لیے جانے سے پہلے یقینی کیا جاتا ہے کہ وہ ٹی بی، ایچ آئی وی یا ہیپا ٹائٹس جیسے کسی متعدی بیماری کاشکارتو نہیں ہیں۔‘‘
پونے کے کے ایایم ہسپتال میں لیكٹشن کنسلٹینٹ امرتا دیسائی نے این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام کوسمجھاتے ہوئے بتایا کہ ‘’’ عورت کی چھاتی کا دودھ تربیت یافتہ عملے کی طرف سے جمع کیا جاتا ہے اور مکمل تحفظ کی پیروی کی جاتی ہے۔ چھاتی کا دودھ یا تو ہاتھوں سے یا بریسٹ پمپ سے نکالا جاتا ہے۔ اس دودھ کو ٹھیک طرح سے لیبلشدہ جراثیم سے پاک کنٹینرز میں نکالا جاتا ہے اور کولڈ اسٹوریج کےذرائع سے بینکوں تک پہنچایا جاتا ہے۔‘‘
اس کے بعد اسےریفریجیٹ کیا جاتا ہے اور اس کے ایک نمونے کوجانچا جاتا ہے۔ دیسائی بتاتی ہیں کہ ‘’’ اگر دودھ میں بیکٹیریل کلچر نگیٹیو پایا جاتا ہے تبھی اس کو پاشچرائز کیا جاتا ہے۔ اگر بچوں کو اپنی ماؤں کا دودھ نہیں ملتا تو بینک کا دودھ ہی واحد رذریعہ ہے۔ بچے کی ترقی، مزاحمت کی صلاحیت اور دماغ کی ترقی وغیرہ کے لیے چھاتی کا دودھ ہی ضروری ہے۔ بچے کی غذائیت کے تعلق سے غلط فہمیوں کی وجہ سے ہی ہندستان میں بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔‘‘
اگر یہ خیال اپنایا جاتا ہے تو ہندستان میں اس طرح کے بینکوں کی ضرورت ہے۔ فی الحال ملک بھر میں ایسے صرف 17 بینک ہیں جن میں سے زیادہ تر راجستھان میں ہیں۔
اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply

1 × 1 =

Top