You are here
Home > Literature > گوپی چند نارنگ کا تنقیدی امتیاز

گوپی چند نارنگ کا تنقیدی امتیاز

شارب ردولوی

 

 

اردو تنقید کے مختلف ادوار کی شناخت ہمیشہ دو ناموں سے ہوتی رہی ہے۔ حالانکہ یہ نام نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے موید نہیں تھے۔ لیکن انھیں اپنے عہد اور اس کے بعد بھی یکساں طور پر اہمیت حاصل رہی ہے۔ حالی اور شبلی کا نام آج بھی اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہے جن پر جدید اردو تنقید کی عمارت قائم ہے۔ دوسرا عہد احتشام حسین اور آل احمد سرور کے نام سے پہچانا گیا۔ یہاں بھی دونوں کے ادبی و تنقیدی نظریات میں ایک حد تک ہم آہنگی کے باوجود اختلاف نمایاں ہے۔ لیکن یہ دونوں نام ساتھ لیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد کے عہد میں، اس کے باوجود کہ کئی بہت اہم ناقدین اور بھی تھے لیکن ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی کا نام ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے، اگرچہ ان دونوںکے تنقیدی نظریات بڑی حد تک مختلف ہیں۔
گوپی چند نارنگ کی انفرادیت کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے زبان کے لسانی، صوتی اور تہذیبی اثرات کا مطالعہ شعر و ادب کے حوالے سے کیا۔ انھوںنے میرتقی میر، انیس، اقبال اور نظیر کے کلام کی لسانی اور صوتیاتی اہمیت کی نشاندہی کی لیکن انھوں نے اپنے مضامین کو صرف لسانی تجزیے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس راستے سے وہ اسلوبیات، ساختیات، پس ساختیات اور معنیات تک پہنچے اور ان نئے رجحانات کا صرف رسمی تعارف ہی نہیں کرایا بلکہ تفصیل سے ان نظریات اور جملہ نئی فکریات کو جذب کیا اور اس کی روشنی میں اردو شعر و ادب کا تجزیہ کیا۔ گوپی چند نارنگ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’سوال مدلّل مداحی کا نہیں مدلّل تنقید کا ہے‘‘۔ انھوں نے اپنے لسانی تجزیوں، اسلوبیاتی اور ساختیاتی مضامین، وہ خواہ اسلوبیات انیس ہو یا اسلوبیات اقبال، میر کا مطالعہ ہو یا فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام ہر مضمون اتنا مدلّل لکھا ہے کہ وہ رجحان نئے ادبی تنقیدی رویّے کا حرف آخر محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کسی نظریے کو وہ اپنے لیے dogma نہیں بننے دیتے۔ وہ ان نظریات کی اہمیت پر مضبوط دلائل کے ساتھ ضرور روشنی ڈالتے ہیںلیکن نئے رجحانات اور نئی فکریات کے لیے اپنے ذہن اور فکر کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ اسی لیے ساختیات کی لسانی بنیادوں اور معنیات کے سلسلہ میں سوسیئر کے انقلاب آفریں نظریۂ نشان کی تائید کے بعد، رولاں بارتھ اور ژاک لاکاں کے نظریات یا ژاک دریدا کے نظریۂ رد تعمیر (Deconstruction جسے وہ رد تشکیل لکھتے ہیں) کی اہمیت کے اعتراف میں انھیںکوئی دشواری نہیں ہوئی۔ سوسیئر کے نظریۂ نشان پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ :
’’سوسیئر زبان کے سماجی حقیقت ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فقط ایک سماجی گروہ ہی ’نشانات‘ کو خلق کرسکتا ہے۔ زبان اول و آخر ایک سماجی معمول ہے۔ ’معنی‘ اور ’تصور معنی‘ کی ہم رشتگی خواہ ظاہر نہ ہو لیکن یہ عمل سماج کے اندر ہوتا ہے۔ کوئی بھی سماج بغیر زبان کے علامتی نظام کے قائم ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ (1)
سوسیئر کے ’نظریۂ نشان‘ کے بہت گہرے اثرات ادب و تنقید پر پڑے۔ اس لیے کہ اس نے ایک نئی طرح سوچنے کی دعوت دی جس کی وجہ سے ادب و تنقید میں فکر کی نئی راہیں وا ہونے لگیں۔ سوسیئر نے زبان کو ایک ’سماجی معمول‘ بتایا تھا۔ زبان کے سلسلہ میں اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور بعض مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے سنسکرت کی اچھی معلومات تھی، زبان و معنی کی بحث میں اس کے بعض خیالات سنسکرت سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں۔
ادبی مطالعہ کے سلسلہ میں جو نئے نظریات، اس کے بعد آئے ان سب کی بنیاد میں کسی نہ کسی طرح سوسیئر کے نظریات کارفرما ملیں گے۔ اسلوبیاتی تجزیات کی بنیاد بھی لسانیات اور ادبی اظہار کے طریقۂ کار پر ہے۔ یہ طریقہ کار صرف لسانی ساخت کا تعین نہیں کرتا بلکہ اسلوب اس کو اور دلکش بنا دیتا ہے۔ لفظ اگر جسم ہے تو اسلوب اس کا لباس ہے۔ جس طرح لباس جسم کے حسن، خوبصورتی اور دلکشی کو بہتر طریقے پر ظاہر کرتا ہے اسی طرح اسلوب کسی بھی ادبی اظہار (فن پارے) کی دلکشی اور خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن اسلوب خود کسی چیز کی خوبی یا بڑائی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ یعنی فن پارے کے تعینِ قدر میں وہ براہِ راست مدد نہیں کرتا۔ گوپی چند نارنگ جو بنیادی اسلوبیاتی ناقدوں میں ہیں اورجنھوں نے مضبوط دلائل کے ساتھ اہم اسلوبیاتی تجزیے پیش کیے ہیں۔ وہ بھی جب اسلوبیات اور اس کے نظریۂ نقد پر گفتگو کرتے ہیں تو اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ :
’’ادب کی تحسین کاری اور تعیّن قدر کا کام ادبی تنقید اور جمالیات کا کام ہے اسلوبیات کا نہیں۔ اسلوبیات ادبی تنقید کو حسن کاری کے رازوں، لفظوں کے تخلیقی استعمال کے نازک فرق اور ہلکے، گہرے، لفظیاتی اور معنیاتی امتیازات سے آگاہ کرسکتی ہے… لیکن ہرگز یہ حکم نہیں لگاتی کہ فلاں پیرایہ اعلا اور فلاں ادنا یا فلاں اسلوب بہتر اور فلاں کمتر ہے۔ بلکہ اسلوبیات اظہار کے لسانی امتیازت جیسے وہ ہیں ان کا تعیّن کرکے اور ان کی شناخت کے کام کو پورا کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجاتی ہے اور ادنا، اعلا کا فرق قائم کرنے کے لیے ادبی تنقید کے ہاتھ میں مضبوط حربہ دے دیتی ہے۔‘‘(2)
اِس طرح ڈاکٹرگوپی چند نارنگ اسلوبیات کو لسانی مطالعہ کا ایک رخ سمجھتے ہیں جس کا عمل اپنے احاطے تک محدود ہے اور وہ تعیّن قدر میں کوئی براہ راست معاونت نہیں کرتا۔ انھیں اردو ناقدین میں یہ اوّلیت حاصل ہے کہ انھوں نے بیشتر مغربی رجحانات اور بصیرتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔وہ نئے ادبی رجحانات میں ساختیات اور پس ساختیات کو اپنے عہد کے بڑے فلسفیانہ، علمی اور ادبی نظریات میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ادب کے اثرات اور فلسفیانہ چیلنج سے آنکھ بند کرنا خود فریبی میں مبتلا ہونا ہے۔(3)
اسلوبیات کے بعد لسانیاتی فلسفہ کا اگلا قدم ساختیات اور پس ساختیات تھا۔ سوسیئر نے نشان Sign کو معنی نما اور تصور معنی Signiffier اور signified کہہ کر لفظ اور معنی کے رشتے کو ایک طرح سے مستحکم کردیا تھا لیکن ساختیات نے اسے Thing ’شئے‘ سے وابستہ کرکے ایک ایسی ’دراڑ‘ پیدا کردی جو معنی نما کو کسی ایک مرکز پر رکنے نہیں دیتی۔ ژاک لاکاں اور رولاں بارتھ نے اسے ’شئے‘ کے رشتے سے ہٹ کر سیّال بنادیا کہ وہ کسی منزل پر ٹھہر نہ سکے یعنی لفظ اور معنی کا رشتہ التوا میں رہتا ہے اور زبان اپنے غیر سے قائم ہوتی ہے۔ اس لیے لفظ خود کفیل نہیں ہے۔ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ لفظ اپنے معنی کے لیے اپنے سیاق و سباق کا محتاج ہے۔ بظاہر یہ بات اتنی گرہ گیر بھی نہیں لگتی لیکن اس سے بہت دوررس نتائج برآمد ہوئے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے ساختیات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ :
’’ساختیات یہی کہتی ہے کہ یہ دنیا آزادانہ اشیا سے عبارت نہیں اور زبان اشیا کو نام دینے یا اسمیانے والا نظام نہیں ہے۔ یعنی زبان Nomenclature نہیں ہے جو لفظ ’شئے‘ کے مبینہ رشتے پر مبنی ہو بلکہ اشیا کے نام یا معنی ساخت سے پیدا ہوتے ہیں جو نظروں سے اوجھل ہے۔ ساختیات کا سب سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ کائنات رشتوں کے نظام اور ساخت سے عبارت ہے۔ بغیر ر شتوں کے نظام کے کسی شئے کا کوئی وجود نہیں۔ ہم اشیا کا ادراک تبھی کرپاتے ہیں جب اشیا کو رشتوں کے نظام یعنی ان کی ساخت کی رو سے دیکھتے ہیں۔‘‘(4)
اس طرح ساختیات نے معنی کو چیلنج کیا۔ یہ ایک بہت دلچسپ بحث ہے کہ لفظ بجنسہٖ معنی رکھتا ہے یا نہیں۔ ساختیات، پس ساختیات، ردتشکیل (Deconstruction) اور مابعد جدیدیت جتنے رجحانات گزشتہ پچاس ساٹھ سال میں سامنے آئے ان سب کا ایک ہی بات پر اصرار ہے کہ لفظ کے کوئی مستقل بذاتہ معنی نہیں ہیں۔ اس کے معنی ساخت سے قائم ہوتے ہیں اور قاری اور قرأت سے متعلق ہیں۔ میر کی ’چار چار طرفیں‘ اور غالب کے ’گنجینۂ معنی کا طلسم‘ اردو میں اس کے حوالے کے طور پر استعمال ہوئے۔ Deconstruction نے معنی قائم بالذات کا رہا سہا بھرم بھی ختم کردیا۔
معنی اور زبان تہذیبی و تاریخی حالات کی تبدیلی سے بدلتے ہیں۔ اپنے مخصوص سیاق یا شعری علامت، استعارے اور کنائے میں بھی لفظ کے نئے معنوی ابعاد سامنے آتے ہیں لیکن لفظ کو قطعاً معنی سے ’بے دخل‘ کردینا درست نہیں۔ اس کے بنیادی معنی کے بغیر ذہن نئے پہلوؤں کی طرف جا ہی نہیں سکتا۔ اس کا ’معنی نما‘ تو وہی معنی ہوتے ہیں جو ذہن کو نئے معنوی امکانات تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔اخذ معنی کا عمل لامتناہی ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ عمل، علم، وقت ، حالات ، تاریخ، ثقافت اور سماج کے تابع ہوتا ہے۔ اس لیے کہ قاری جو معنی اخذ کرتا ہے اس کے پیچھے صرف قرأت کا عمل نہیں ہوتا بلکہ اِن سب عوامل کی کار فرمائی ہوتی ہے اور یہ سب کچھ لفظ کی معنوی لچک elasticity کی حدمیں ہی ممکن ہے۔
گوپی چند نارنگ اردو تنقید میں سوسیئر کے مداح اور ژاک دریدا کے رمزآشنا ہیں۔ وہ بھی اردو تنقید میں ان تمام رویّوں اور رجحانات کو رد کرتے ہیں جو ان کے الفاظ میں ’موضوعیت (خودمرکزیت) کا شکار ہیں‘ یا ’مستقل معنی پہنانے‘ (ہدایت نامے جاری کرنے) کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے :
’’ساختیات نہ صرف نئی تنقید کو بلکہ جیسا کہ اوپر کہا گیا تنقید کے ان تمام سابقہ نظریوں کو رد کرتی ہے جو معنی محض یا ہیئت محض سے بحث کرتے ہیں یا مصنف کی ذات پر زور دیتے ہیں یا جو موضوعیت کا شکار ہیں یا جو فن پارے کو متعینہ اور مستقل معنی پہنانے پر اصرار کرتے ہیں۔‘‘(5)
گوپی چند نارنگ ژاک دریدا کے Deconstruction کو ادبی تفہیم میں ایک انقلاب آفریں قدم قرار دیتے ہیں۔ رولاں بارتھ، ژاک لاکاں اور التھوسے، سب ہی متعینہ معنی یا لفظ کے خود کفیل ہونے کے خلاف ہیں۔ سوسیئر کے یہاں لفظ و معنی کے درمیان ایک رشتے کی گنجائش تھی لیکن ’دریدا‘ نے اسے ’افتراقیت‘ اور ’التوا‘ کی مدد سے متعینہ بندھنوں کو توڑ کر اسے بدلتے تناظر یعنی بدلتی تاریخ اور زماں سے جوڑ دیا ہے، اگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ معنی قائم بالذات نہیں۔ لفظ اور معنی میں ایک لازمی رشتہ ہے۔ یہ رشتہ محدود یا بے لوچ نہیں ہے۔لفظ کی اپنی ایک کائنات ہے اور اس کائنات کی حدیں جدید تاریخ اور تہذیب تک پھیلی ہوئی ہیں اور انھیںحدود کی وسعتوں کے اندر ہی لفظ کا عمل با معنی رہتا ہے جبکہ دریدا کہتا ہے کہ معنی ہمیشہ ’التوا‘ میں رہتا ہے۔
گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے :
’’… متن میں معنی بالقوۃ موجود ہیں انھیں بالفعل موجود قاری بناتا ہے اور قرأت کا تفاعل تمام تر ثقافت اور تاریخ کے محور پر واقع ہوتا ہے … کوئی ادبی قدر قدرِ محض نہیں ہوتی۔یہ سماجی انسانی معنی کی حامل ہوتی ہے اور معنی کا سر چشمہ زندگی اور سماج کا تجربہ اور اس کے مسائل ہیں… ادبی قدرکاکوئی تصور بے تعلقِ معنی نہیں ہو سکتا اور ہر معنی زندگی اور ثقافت سے آتا ہے جو تاریخ کے اندر ہیں …‘‘(6)
اس کے علاوہ بھی وہ اپنے مضمون ’’نظمِ جدید کی شعریات پر نظر ثانی کی ضرورت: کیا ادبی قدر بے تعلق معنی ہے‘‘ میں لکھ چکے ہیں:
’’جدیدیت کی نظریہ سازی یعنی شعریات میں سب سے بڑی کوتاہی یہ ہوئی کہ جب اجتماعی موضوع، مواد کی مخالفت کی گئی، تو اس کے ساتھ ساتھ معنی کو بھی القط کردیا گیا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ ادبی قدر تو بے تعلق معنی ہو ہی نہیں سکتی۔ یعنی اگر معنی زندگی یا سماج کے تجربے سے نہیں آتا تو کہاں سے آتا ہے؟‘‘ (7)
آج ہم عصر اردو تنقید میں مابعد جدیدیت کے وہ سب سے اہم ناقد ہیں۔ ان کی کتاب ’غالب معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ اپنے نام ہی کی طرح ماجدید تنقید کا ایک اہم اور منفرد کارنامہ ہے۔ یہ کتاب حالانکہ ایک شاعر کے بارے میں ہے لیکن اگر اسے تفہیم شعر کی نئی ’بوطیقا‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ گوپی چند نارنگ نے یوں تو اپنے سارے تنقیدی کام بہت مدلّل طریقہ پر کیے ہیں لیکن غالب کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے انھوں نے جوطریقہ کار اختیار کیا اور جس طرح انھوں نے غالب کی شاعری کے رشتے ’سبک ہندی‘ سے لے کر بودھ فلسفے اور دانش ہند میں تلاش کیے اورغالب کی معنی آفرینی اور اس کے طلسم کے جدلیاتی رازوں تک پہنچنے کی کوشش کی وہ اردو تنقید میں اپنی نوعیت کا پہلا کام ہے بلکہ جو آئندہ بھی تفہیمِ شعر اور رموز معنی کے اظہار میں معاون ہوگا۔
غالب اردو کے تنہا شاعر ہیں جنھیں ہر عہد نے اپنے انداز اور اپنے علم کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی۔ پھر بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ گیا۔ اس کا سبب کیا ہے؟ ہمارا عجزِ بیان، عجز فہم یا عجز علم ؟ عجز بیان تو نہیں کہا جاسکتا۔ عجز فہم کہیں کہیں ضرور رکاوٹ بنا جس کی بنا پر بعض اشعار بے معنی قرار دیئے گئے یا بعض کی تشریح نہیں ہوسکی یا کوئی سطحی طور پر ان سے گزر گیا اور عجز علم کا معاملہ یہ ہے کہ علم تو ہر زمانے میں بڑھتا گیا اور نیا علم سامنے آتا گیا۔ جس عہد میں فرائڈ اور ایڈلر کی نفسیاتی فکر تھی ہی نہیں اور لوگ اندیشاہائے دور و دراز یا NORSISSISM سے واقف ہی نہیں تھے تو وہ غالب کی نرگسیت یا ان کی نفسیاتی تعبیر کس طرح کرسکتے تھے۔ اسی طرح بجنوری کی رومانیت ہو یا احتشام حسین کی ترقی پسند تعبیرات یہ وقت اور زمانے کے ساتھ، جس طرح علم بڑھتا گیا تعبیر و تفسیر آگے بڑھتی گئی لیکن بنیادی چیز یہ ہے کہ غالب کے کلام میں اتنی گنجائش ہے کہ اس کی نئی تعبیرات کی جاسکیں۔ اسی لیے ہر زمانے میں غالب کے یہاں اس ’طلسم معنی‘ کو کھولنے اور اس تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اسے ’کوندے‘ کے لپکنے کا نام دیا ہے۔ انھوں نے کتاب کے دیباچہ میں ہی یہ سوال اٹھایا ہے کہ :
’’غالب کے بارے میں سب سے بڑا سوال جس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو کوندے کی طرح لپک جاتی ہے اور شبستان معنی کو روشن کرتی چلی جاتی ہے… اس میں وہ کونسی صداقت اور انکشافی قوت ہے کہ آج بھی یہ شاعری انسانی سربلندی اور شرف و امتیاز پر ہمارا اعتبار بڑھا دیتی ہے۔ دکھوں اور شدائد سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیتی ہے اور زندگی کے حسن و نشاط اورکیف و سرور کے لطف و اثر کو بڑھا دیتی ہے۔ نیز اس کے نیرنگ نظر اور فکری طلسمات کے بارے میں جتنا سوچئے اتنے نئے دَر وا ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ (8)
غالب کی اسی تہہ داری اور معانی خیزی کی وجہ سے ہر زمانے میں ان کے کلام کی نئی تشریحات اور تعبیرات پیش کی گئیں۔ اس کے باوجود ان کا کلام صاحبان نظر کو نئی تفسیر کے لیے انگیز کرتا رہا۔ دراصل غالب دوسرے ہم عصر شعرا کی طرح سادہ گو شاعر نہیں ہیں۔ ان کی شاعری میں پیچیدگی ہے، ان کا سادہ شعر بھی ایسا سادہ نہیں۔ گوپی چند نارنگ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’غالب شعریات میں سب کچھ روشنی میں ہو ایسا نہیں ہے۔‘‘(9) اس لیے تلاش اسی کی ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو غالب کے کلام میں تاریکی میں اچانک چمک جانے والی روشنی کی طرح اپنی طرف ملتفت کرلیتی ہے اور ایک نئے لطف سے سرشار کرجاتی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اس کا رشتہ سبک ہندی کی فکری جڑوں میں تلاش کیا ہے جو آرکی ٹائیپل طور پر دانش ہند، بودھی فکر اور باالخصوص بودھی ’شونیتا‘ کی جدلیاتی حرکیات کی گہرائیوں میں اُتری ہوئی ہیں۔ نارنگ صاحب نے غالب شعریات کی بنیاد میں اسی جدلیاتی حرکیات کی پُراسرار کارکردگی کی کھوج میں سارا سفر کیا ہے۔
غالب کا سبک ہندی سے بڑا گہرا رشتہ ہے سبک ہندی کے بارے میںفارسی کے مشہور محقق و ناقدین پروفیسر امیر حسن عابدی، ڈاکٹر نذیر احمد، وارث کرمانی وغیرہ خاصا لکھ چکے ہیں۔ غالب نے خود بھی اپنی فارسی دانی اور فارسی شاعری پر فخر کیا ہے۔ ان کا فارسی دیوان اپنی ضخامت کے لحاظ سے اردو دیوان سے بڑا بھی ہے اور بقول غالب ’نقشہائے رنگ رنگ‘ کی مثال بھی ہے۔ غالب شاعری میں بیدل سے متاثر تھے اور ان کے اثرات فارسی ہی نہیں غالب کی اردو شاعری پر بھی نظر آتے ہیں جس کی طرف اکثر ناقدین نے توجہ دلائی ہے اور یہاں تک لکھا ہے کہ غالب نے بیدل کا ترجمہ کیا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے سبک ہندی کے حوالے سے غالب کے کلام کے زمینی رشتے فکری نادرہ کاری سے تلاش کیے ہیں۔ یہاں پر ایک بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ اردو کے تمام شعرا خواہ وہ میر ہوں یا سودا، وہ ’بہن ودے‘ اور ’تیغ اردی‘ کی بات کیوں نہ کریں لیکن ان کی شاعری اور ان کی فکر کی جڑیں ہندوستان کی ہی زمین میں پیوست ملیں گی۔ گوپی چند نارنگ نے غالب کے حوالے سے بہت گہرائی سے اس کا جائزہ لیا ہے کہ یہاں کی شعری اور فکری روایات ویدوں، اپنشدوں، رامائن و مہابھارت سے کیوں نہ تعلق رکھتی ہوں انھوں نے علمی و فکری سطح پر فارسی اور بعد میں اردو کو متاثر کیا۔ گوپی چند نارنگ نے شبلی نعمانی، ڈاکٹر نبی ہادی، ڈاکٹر وارث کرمانی اور بعض دوسرے محققین کے حوالے سے سبک ہندی کی تاریخ و تعریف اپنے ڈھنگ سے متعین کی ہے اور خصوصیت کے ساتھ ’سبک ہندی‘ کے زمینی رشتے ہندوستان کے بودھی فلسفہ میں تلاش کیے ہیں اور اس کے لیے ’امیری فیروز کوہی‘ کے ایک واضح اعتراف کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ’’فارسی ہندوستان میں آکر ریزہ کاری، خیال بندی اور بودھی فلسفہ کی باریک بینی کے رنگ میں رنگ گئی۔‘‘ یعنی ہندوستانی فارسی شاعری ایرانی فارسی شاعری کے مقابلہ میں پیچیدہ تر ہوتی گئی۔ گوپی چند نارنگ نے بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ سبک ہندی کے اثرات اور اس کے رشتوں کو تلاش کیا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں فارسی کی آمد اور اس سرزمین کے اثرات، تہہ داری اور شیرینی کی اس میں گھلاوٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :
’’…فارسی کا پودا تو ہندوستان کی سرزمین میں ایسا پھلا پھولا کہ گویا یہ قلم یہیں کی تھی۔ عہد وسطیٰ کے ہندوستان کی تخلیقی فضا کو فارسی خوب راس آئی۔‘‘(10)
رفتہ رفتہ اس ایرانی پودے میں سنسکرت اور دوسری ہندوستانی زبانوں سے مل کر نئے برگ و بار آنے شروع ہوئے تو اس کے پرانے زمینی رشتوں سے مختلف لیکن زیادہ رنگین اور دلآویز تھے، جن اثرات کو اہل ایران نے پسند یدہ نظروں سے نہیں دیکھا تھا اور ’سبک ہندی‘ کا نام دے کر اُسے ایک طرح سے اپنے سے کم تر ہونے کا احساس دلایا تھا۔ یہ احساس برتری عام طور پر ہر زبان کے اہلِ زبان (یا مادری زبان والوں میں) میں پایا جاتا ہے۔ ایک زمانے تک انگریزوں نے بھی اپنی زبان کے سامنے ہندوستانی انگریزی کو قابل اعتنا نہیں سمجھا تھا۔ دور کیوں جائیے خود ہندوستانی فارسی گویان کو اپنے ہی ملک کے فارسی گویان کی فارسی پر اعتراض تھا۔ لیکن بقول گوپی چند نارنگ :
’’… آج یہ اصطلاح (سبک ہندی) کم از کم ہندوستان کے علمی حلقوں میں بطور اعتذار نہیں بلکہ کسی حد تک بطور انفراد و افتخار کے استعمال کی جانے لگی ہے۔ خاطر نشان رہے کہ نہ صرف عرفی و فیضی و نظیری و ظہوری بلکہ بیدل و غالب کی عظمت و معنویت کے بہت سے دریچے کہیں نہ کہیں سبک ہندی کی نیم تاریک، نیم روشن تجریدی گلیوں میں کھلتے ہیں۔‘‘ (11)
اس میں شک نہیں کہ ’سبک ہندی‘ کا بہت گہرا اثر اردو شعرا پر پڑا۔ ان کے کلام میں پیچیدگی، معنی آفرینی، تہہ داری اور صنائع کا التزام، التزام نہیں رہا بلکہ ان کے مزاج کا حصہ بن گیا۔ بقول وارث کرمانی ’’اردو غزل سبک ہندی کی جائز وارث بن گئی۔‘‘(12) یہ بات ذہن میں رہے کہ سبک ہندی کی اس وراثت میں کچھ کمزوریاں بھی شامل ہیں جو اردو شاعری میں خوب پھلی پھولیں۔ نارنگ نے ان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
غالب کی خصوصیات کو گوپی چند نارنگ نے دانش ہند اور بودھی نظریۂ شونیتا میں جس طرح تلاش کیا ہے اورکلام غالب میں معنیات کی پیچیدہ گرہوں کو کھولنے کی جس طرح کوشش کی ہے وہاں تک تفہیم و تفسیر غالب اس سے پہلے نہیں پہنچ سکی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ ’’غالب معمولہ تصورات کو منقلب کرکے جدلیاتی حرکیات سے نئی شعری سچائی قائم کردیتے ہیں‘‘ اس میں شک نہیں کہ غالب نے ’ نفی‘ سے اپنے کلام میں وسعت معنی کے نئے تخلیقی دروازے کھول دیے ہیں۔ یوں بھی نفی فکر کو مہمیز کرتی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اسے جدلیات نفی کا نام دیا ہے۔ اس لیے کہ نفی صرف انکار نہیں اپنے اندر اقرار کی صورت بھی رکھتی ہے۔ کسی شئے کے ہونے نہ ہونے کا سوال اسی وقت پیدا ہوگا جب وہ شئے ہو یا اس کے ہونے کا امکان ہو اور ہونے کا امکان نہ ہونے سے پیدا ہوتا ہے جیسے دن کا رات سے یا روشنی کا تاریکی سے۔ گوپی چند نارنگ نے جدلیات نفی کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
’’ہندوستانی فلسفہ میں کوئی تصور جدلیاتِ نفی کے بغیر ممکن نہیں۔ جدلیات نفی Negative Dialectics قدیم ہندوستانی فلسفہ میں بنیادی منطقی رویّہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اہم معنیاتی کردار ادا کرتی ہے۔‘ ‘ (13)
گوپی چند نارنگ نے تفصیل سے اس بات سے بحث کی ہے کہ مثبت میں منفی کا وجود پوشیدہ ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کے بارے میں اس نہج سے غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ اثبات میں نفی اور نفی میں اثبات کا امکان موجود ہے جیسے دکھ میں سکھ کا۔ ورنہ انکار کی صورت ہی کیوں پیدا ہو۔ اس کے علاوہ ’امکان‘ کی دنیا بہت وسیع ہے یعنی نفی تو ایک ہے لیکن اس کے اثبات کے امکانات لامتناہی ہیں۔
گوپی چند نارنگ نے بہت تفصیل سے ’نیائے‘ بھٹ ممانسا (ویدانت)، کمارل بھٹ اور بودھی فلسفیوں کے حوالوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نفی فی نفسہٖ کچھ بھی نہیں، نفی فقط پیرایہ ہے اثبات کا گویا نفی بھی اثبات ہے‘‘(14) یہاں پر گوپی چند نارنگ نے ویدانت میں نفی اور بودھ فکر میں نفی میں جو مماثلت اور افتراق ہے اس کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ بودھی فکر میں ’شونیم‘ کی اصطلاح خدا یا روح کے وجود کی نفی (خاموشی) کے سلسلہ میں استعمال ہوئی ہے۔ ’شونیہ‘ کا مطلب ’صفر‘ ہے یعنی ’کچھ نہیں‘۔ عام استعمال میں آج بھی یہ اصطلاح اسی طرح اور انھیں معنوں میں رائج ہے‘‘ طالب علم کو حساب کے پرچے میں شونیہ (صفر Zero) ملا۔ اس میں اثبات کا پہلویہ ہے کہ جو کچھ اسے ملنا چاہیے تھاوہ نہیں ملا۔ اس لیے ’شونیہ‘ صرف نفی نہیں حالانکہ بودھ فلسفہ میں خدا کے وجود کے سوال پر گوتم بدھ کے خاموش رہنے کو ’شونیہ‘ سے تعبیر کیا گیا اور اس طرح ’شونیہ‘ کے پیچھے آباد امکانات کی دنیا کے اصرار پر مفکرین نے غور کیا اور ’’شونیتا‘‘ کو ’’منتہائے دانش‘‘(15) قرار دیا۔ بودھ فلسفہ کے مفسر ناگارجن اسے درمیانی راستے سے تعبیر کرتے ہیں۔ ناگارجن کی تفسیر کی وضاحت کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ
’’… شونیتا انتہاؤں کے تضادات سے بچنے کی راہ ہے۔ جب شئے ہے نہ لا شئے، جب وجود ہے نہ عدم، جب فنا ہے نہ بقا تو ان کا تضاد باہمی (یعنی ثنویت) بھی فریب نظر یعنی شونیۂ محض ہے۔ چنانچہ نہ آتما (روح) کا وجود ثابت ہے نہ پرماتما (برہمہ: ذات مطلق) کا، یعنی نہ اس کا ہونا ثابت ہے نہ اس کا نہ ہونا ثابت ہے۔ ناگارجن کے مطابق ہستی و نیستی، شئے و لا شئے، ہاں اور نہیں نام نہاد محض ہیں… چنانچہ دو انتہاؤں کے بیچ درمیانی عرصہ جو کچھ بھی ہے وہ خالی یعنی شونیہ (خاموشی) ہے۔‘‘ (16)
گوتم بدھ نے ذات مطلق (خدا) کے ہونے نہ ہونے کے سوال پر خاموشی اختیار کی۔ نہ اس کے وجود کا اقرار کیا اور نہ اس کے وجود سے انکار۔ اس خاموشی (شونیہ) نے موجود میں نا موجود اور ناموجود میں موجود کے فلسفیانہ مباحث کو راہ دی اور َرد در رَد کی صورت پیدا کردی جسے گوپی چند نارنگ نے دریدا کی ’رَد تشکیلی‘ منطق کی روشنی میں دیکھا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد معنی کی جدلیت اور اس کا رد تشکیلی عمل ہے جس کی بودھی فکر سے تائید ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں :
’’… بودھی فکر سے ذات مطلق (برہمہ) کا ہونا چونکہ ثابت نہیں اس لیے ذات مطلق کا نہ ہونا بھی ثابت نہیں۔ شونیتا یک قلم تضادات کو تحلیل کرتی ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا مذہب سرے سے شونیتا کا مسئلہ نہیں۔ شونیتا برہمنیت کے تمام اعتقادات جو مطلقیت یا ما وارائت یا وجود و لاوجود (برہمہ اور مایا) پر مبنی ہیں یکلخت خارج کرتی ہے۔ درجہ واررَد دَر رد کی یہ تحلیلی (یا رد تشکیلی) منطقی جدلیاتی قوت (energy) ہی شونیتا ہے۔ جدلیات نفی کی حیثیت بودھی فکر میں ایک ہمہ گیر حرکیاتی قوت (radical energy) کی سی ہے جو بے دریغ ہر شئے کو بے دخل کرتی ہے۔‘‘(17)
گوپی چند نارنگ نے فکر غالب میں اسی ’منطقی جدلیاتی قوت‘ یعنی جدلیاتی حرکیات کو تلاش کیا ہے جو ان کی امتیازی تخلیقی انفرادی خصوصیت بن کر ان کے کلام میں جابجا دکھائی دیتی ہے۔
ہاں کھائیو مت فریب ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
اس کا ذکر آچکا ہے کہ نفی، معنی کے امکانات کو روشن کرتی ہے اور غالب اس حرکیات نفی سے خوب کام لینا جانتے ہیں۔ یہ بیدل کا بھی اثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ بیدل کے یہاں بھی نفی کی کارفرمائی بڑے غضب کی ہے۔ مثلاً یہ شعر دیکھئے۔
نفیِ خود می کنم اِثبات بروں می آید
تا کجا رنگ تواں بافت بہار است اینجا
(بیدل)
غالب نے اپنا ابتدائی کلام ’حالات اور وقت‘ کی مجبوری کے تحت رَد کیوں نہ کردیا ہو لیکن اس کے باوجود کیا وہ اُس معنی آفرینی اور خیال بندی سے باہر نکل پائے؟ خیال بندی و معنی آفرینی، جدت طرازی اور پیچیدہ بیانی جوسَبک ہندی اور بیدل کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس کا دامن غالب سے کبھی نہیں چھوٹا۔ ان کے صاف اشعار میں بھی معنی آفرینی کا کوئی نہ کوئی پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ بیدل پسندی ایک طرف جہاں ان کا امتیاز ہے تو دوسری طرف وجۂ اعتراض بھی۔ معترضین نے غالب کی پیچیدہ بیانی کا سبب ان کی بیدل پسندی کوبتایا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے اشعار میں بھی غالب کی انفرادیت اپنی جگہ پرہے۔ غالب اور بیدل کے مزاج اور حالات میں فرق ہے۔ دوسرے غالب ترجمہ نہیں کرتے مضمون کو اپنے طریقے اور سلیقے سے تازہ بناتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے بیدل اور غالب کے افکار کا دانش ہند کے پس منظر میں تجزیہ کیا ہے اور آخر میں بیدل اور غالب کی فکر کو مابعد جدیدیت، شونیہ اور دریدا کی رد تشکیلیت اور معنی کی افتراقیت سے بھی جوڑا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانش ہند، بودھی شونیتا اور بیدل کی معنی خیزی سب کا جوہر مابعد جدیدیت کی معنی کی افتراقیت کے مماثل ہے۔ وہ کہتے ہیں :
’’زبان معنی سے لبریز ہے لیکن معنی کو استحکام نہیں کیوں کہ معنی افتراقیت یعنی اپنی نفی سے قائم ہوتا ہے۔ اسی لیے معنی اندر سے خالی ہے۔ چنانچہ ہر وہ چیز جو زبان سے قائم ہوتی ہے وہ منحصر بالغیر ہے۔ یعنی تعیّن سے آزاد ہے یا خود اپنے جوہر سے خالی ہے یعنی شونیہ ہے۔‘‘(18)
گوپی چند نارنگ کے مطابق ’’زبان معنی سے لبریز‘‘ ہے اور چونکہ معنی افتراقیت سے قائم ہوتے ہیں ’’اسی لیے معنی اندر سے خالی ہے‘‘ ۔ اپنے نظریے کی تقویت کے لیے بیدل کے ایسے بہت سے اشعار سے بحث کی ہے جس کی ایک مثال یہ شعر بھی ہے۔
بیاں در وصف او ناقص کمند ست
عبث دامن مزن آتش بلند ست
’’(اس (سخن) کے وصف کا بیان بساط سے باہر ہے۔ عبث دامن سے ہوا نہ دے کہ شعلہ خود ہی بلند ہے)
زبان یعنی سخن کا مرکزی مبحث معنی ہے۔ بیدل واحد شخص ہے جو کہتا ہے کہ معنی شاعری میں پہلے سے موجود نہیں ہوتے۔ منشائے مصنف تو معنی کا ایک قرینہ ہے۔ دریدا سے صدیوں پہلے بیدل کہتا ہے کہ جب تک سخن باقی ہے معنی کا سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ معنی دائمی طور پر تعیّن سے آزاد ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو غالب کی جدلیاتی تخلیقی فکر کی بہت سے گرہیں کھول دیتا ہے۔‘‘(19)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ’’جب تک سخن باقی ہے معنی کا سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے‘‘ لیکن یہ بات ان تمام مباحث کے بعد بھی محل نظر ہے کہ ’’معنی شاعری میں پہلے سے موجود نہیں ہوتے‘‘ یا منشائے مصنف کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر یہ بات اتنی ہی صحیح ہوتی تو اوپر یا پوری کتاب میں فارسی اشعار کے جو معنی اشارتاً لکھے گئے ہیں وہ منشائے مصنف کے مطابق اور پہلے سے موجود معنی ہی ہیں۔ ہماری قرأت نے اس میں وہ معنی نہیں پیدا کیے۔ شعر میں ’او‘ کا اشارہ کدھر ہے یا کون کون سے رخ رکھتا ہے، ناقص کمند کی بلیغ ترکیب کا اشارہ کیا ہے یہ بھی توجہ طلب ہے۔ اس کے علاوہ بیدل کا یہ جملہ کہ ’’شعر خوب معنی نہ دارد‘‘ کیا واقعی اس کی طرف اشارہ ہے کہ اچھے شعر میں معنی نہیں ہوتے یا پہلے سے معنی موجود نہیں ہوتے۔یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ ایک بہت اچھا شعر محسوس کیا جاتا ہے، اس کے لطف و کیف کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیںاس لیے یہ بھی توصیف و تعریف کاایک انداز ہے کہ شعر خوب معنی نہ دارد۔ یہ صحیح ہے کہ توسیع معنی کا سلسلہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔
گوپی چند نارنگ تفہیم شعر کے سلسلہ میں دریدائی جدلیاتی افتراقیت کی گہرائی کے مؤید ہیں اور اسی نظریے سے انھوں نے غالب کی عظمت اور مقبولیت کے اسرار تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے نفسیات، فلسفہ، منطق، بودھی فکر اور جدید ترین فکریات کے وسیع پیمانوں سے غالب کی عظمت بیان کی ہے اور علم و ادب کے جن علاقوں تک اب تک لوگوں کی رسائی نہیں تھی وہاں قدم رکھا ہے۔ یہاں پر یہ واضح کردوں کہ گوپی چند نارنگ نے غالب کے اشعار کی صرف تعبیر و تفسیرہی نہیں کی ہے بلکہ غالب کی زندگی کے ذریعہ ان کی نجی شاعری اور ان کی شاعری کے ذریعہ ان کی زندگی کے رازہائے سربستہ کی بھی گرہ کشائی کی ہے اور یہ دیکھا ہے کہ نجی یا سماجی و ثقافتی واقعات اور حادثات نے کس طرح ان کی شاعری کو متاثر کیا۔ جدیدیت نے تفہیم شعر میں متن کو مکمل قرار دے کر ہر طرح کے خارجی اثرات، سیاسی و سماجی حالات کو مطالعۂ متن سے خارج کردیا تھا۔ پس ساختیاتی نظریہ کے بنیاد گزار مفکر رولاں بارتھ (Roland Barthes) نے مصنف کی موت (Death of The Auther) کا اعلان کرکے مصنف اور ’منشائے مصنف‘ مطالعۂ متن اور تفہیم شعر پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ جرمن نقاد اِسَر Wolfgang Iser کا بھی یہی نظریہ ہے کہ :
’’ معنی تو کاغذ کے چھپے ہوئے لفظ میں ہیں اور نہ متن سے باہر یعنی قاری کے عمل میں ہیں۔‘‘(20)
اس نظریے کی ابتدا نو ناقدین New Critics نے کی تھی لیکن ساختیاتی اور پس ساختیاتی ناقدین نے بھی اس نظریے کی حاکمیت ،کہ کسی صفحے پر لکھا ہوا متن اپنی ساخت کے ساتھ خود اپنے تئیں ایک ’چیز‘ ہے۔ جس کی دریافت اس کے اپنے مطالبات کی روشنی میں کرنا چاہیے قائم رکھی، اسی نظریے نے تنقید کومشہور جملہ The Poem is a Thing دیا جس کے معنی تھے کہ متن اپنے تئیں ایک مکمل ’چیز‘ ہے جس کی تفہیم درون لفظ ہی کی جانی چاہیے۔ بیرون لفظ کچھ نہیں ہے۔ گوپی چند نارنگ نے ’’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘‘ میں بہت خاموشی سے اس نظریے سے پوری طرح Deviate کیا ہے (’’زبان اور ادب سماجی و ثقافتی تشکیل ہیں‘‘)۔ وہ ابتدا سے غالب کی تہہ داریوں کو وا کرنے اور ان کی مقبولیت کے طلسم تک پہنچنے کے لیے دانش ہند ،بودھ فکر اور سبک ہندی کی معنویت اور پیچیدہ کاری کے ساتھ، سماجیات اور نفسیات کا عمیق سہارا بھی لیتے ہیں۔ اس طرح’ ’غالب معنی آفرینی… اور شعریات‘‘ تک پہنچتے پہنچتے وہ جدیدیت، پس ساختیات اور مابعد جدیدیت سے آگے نکل چکے تھے جس میں استفادہ تو انھوں نے ہر فکر سے کیا لیکن سفر ان کے اپنے راستے پر رہا۔ انھوں نے متن کی قرأت، اس کے بسیط سماجی، ثقافتی اور تاریخی سیاق میں کی ہے، اور تمام تر مطالب غالب کے ذہن اور ان کے حالات و واقعات کی روشنی میں اخذ کیے۔ اسی لیے وہ غالب کی معنی آفرینی کے زمینی رشتوں کی تلاش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ جڑیں ہندوستان کی سرزمین اور دانش ہند میں پیوست ہیں۔ غالب کے محاسن شعر کو عام طور پر فارسی اور ان کے ایرانی رشتوں میں تلاش کیا گیا۔ گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی سے شروع ہونے والے ادبی رجحانات نے زمینی رشتوں اور خارجی سماجی اثرات کو قطعی طور پر رد کردیا تھا۔ گوپی چند نارنگ نے ’غالب معنی آفرینی‘ میں ان اثرات کی طرف تہذیب کے راستے سے خوب توجہ دی ہے اور اس کا بھی اشارہ دیا ہے کہ غالب یا ان سے پہلے کے شاعروں کی مکمل تفہیم ممکن نہیں اگر ان زمینی رشتوں اور اثرات کو نظرانداز کردیا جائے۔ یہ جدیدیت اور مابعدجدیدیت سے آگے کا قدم ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’میر و غالب ہوں یا انیس و آتش، غور طلب ہے کہ ان کا ذہن و لا شعور اپنی مٹی سے بنا ہوا نہیں ہے؟ اس میں گندھا ہوا نہیں ہے؟ یا پھر کیا اسے اس سے یکسر بے نیاز و بے تعلق دکھایا جاسکتا ہے یا کسی دوسرے کا ظلِ ثانی ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اہل فارسی تو ہمارے شعرا کو مزاجاً مختلف سمجھتے اور ’سبک ہندی‘ کا نام دھرتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ اپنی تخلیقی انفرادیت کو پہچاننے سے گریز کرتے ہیں اورکھل کر اس مسئلہ پر گفتگو نہیں کرتے۔ غالب کے منہ بولتے ایرانی و تورانی عناصر اچھی طرح معلوم ہیں اور اُن کا وجہ افتخار ہونا بھی عینِ حق ہے لیکن جڑوں کا خاموش عمل دخل بھی تو کچھ معنی رکھتا ہے اور اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔‘‘(21)
گوپی چند نارنگ نے اپنے مطالعہ کی ابتدا ہی میں یہ اصول قائم کردیا تھا اور اسی کے تحت انھوں نے غالب کے کلام میں ان زمینی رشتوں کی تلاش کی جن میں غالب کی مقبولیت اور معنویت کا طلسم پوشیدہ ہے۔
ترقی پسند ناقدین نے سب سے پہلے ان بنیادوں اور تاریخی و سماجی عوامل کے اثرات کی نشاندہی کی اور میر ہوں یا نظیر، غالب ہوں یا آتش و انیس ہوں یا شاد عظیم آبادی سب کے کلام کا ایک بڑے سماجی و ثقافتی کینوس میں مطالعہ کیا۔ گوپی چند نارنگ نے مطالعۂ غالب میں اس کینوس کو شونیتا اور دانشِ ہند سے ملاکر اور زیادہ فکری اور ثقافتی وسعت دے دی بلکہ غالب کے اشعار کی کیفیتوں سے ان کے نجی حالات اور اس عہد کو تلاش کیا جو نفسیاتی اور سماجیاتی مطالعہ کہلاتاہے۔کسی شاعر کے عام اشعار کی کیفیت کو اس کی زندگی کے حالات، خطوط اور سرمستی سے جوڑنا اور ان کی معنویت کو ایک نیارنگ دینا دروں بینی اور دیدہ ریزی کا کام ہے۔ اس سے تخلیقی عمل پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً غالب کے ایک فارسی قصیدے کی تشبیب کی مسرت آگیں کیفیت، سرشاری اور رنگینی کا تعلق اُن کے وارداتِ قلبی سے ظاہر کیا ہے۔ یہاں پر قصیدے سے صرف تین اشعار نقل کیے جارہے ہیں تاکہ ذوق مستی سے اس تعلق خاطر کا اندازہ ہوسکے جس کی طرف گوپی چند نارنگ نے اشارہ کیا ہے :
آں بلبلم کہ در چمنستاں بشاخسار
بود آشیانِ من شکنِ طرۂ بہار
ہم سینہ از بلاے جفا پیشہ دلبراں
فرہنگ کاردانیِ بیدادِ روزگار
ہموارہ ذوقِ مستی و لہو و سرور و سور
پیوستہ شعر و شاہد و شمع و مے و قمار(22)
یہ اشعار ان کے ایک ابتدائی قصیدے کی تشبیب سے ہیں۔ ان کے سلسلہ میں گوپی چند نارنگ نے غالب کے دو خطوط کے حوالوں سے غالب کے کسی تعلق خاطر اور روداد قلبی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔جن میں ایک خط ضیاء الدین احمد خاں کے نام ہے اور دوسرا حاتم علی بیگ مہر کے نام۔(23)
غالب کے ایسے بہت سے، عشقیہ اشعار ، انھوں نے پیش کیے ہیں اور خطوط اور دوسری واقعاتی شہادتوں کے تحت ان کی زندگی میں کسی دوسری اور تیسری شخصیت سے تعلق خاطر کی طرف بھی اشارے کیے ہیں۔ انھوں نے اسی سلسلہ میں ان کی غزل ’درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے‘ کو ’’معشوق کا مرثیہ‘‘ اور اس کے مقطع کی روشنی میں اس سانحہ کو دہلی کا سانحہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے غالب کی مختلف غزلوں جن کا تعلق ان کے ابتدائی کلام یا نسخۂ حمیدیہ سے ہے غالب کی زندگی یا اس عہد کے حالات کو تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ اس طرح انھوں نے غالب کی معنویت کو کسی ایک رخ سے دیکھنے کے بجائے ان میں جو ابعاد ممکن تھے ان سب کی گرفت کی ہے۔ اس طرح سماجیاتی مطالعہ سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ حالانکہ غالب کی شعوری و لاشعوری معنی آفرینی سے پردے اٹھانے کے لیے انھوں نے رد تشکیل اور شونیتا (جدلیات نفی) کو ہی بنیاد بنایا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس سلسلہ میں انھوں نے وقت، حالات اور تاریخی و سماجی عوامل کی کارفرمائی کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔ انھوں نے اس سلسلہ میں جو بات کہی ہے وہ اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ :
’’متن کی قوت زمان کے محور پر قاری کے تفاعل کے ساتھ مل کر معنی پروری کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔‘‘(24)
یہاں پر معنی کی بنیاد ’زمان کے محور‘ اور ’قاری کے تفاعل‘ پر رکھی ہے۔ یہ سماجی عمل ہے۔ یہ اہم بات ہے اور اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ ’محورِ زماں‘ (تاریخ اور قبل تاریخ) کے اثر کا احاطہ بہت وسیع ہے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ کوئی بھی چیز اس سے باہر نہیں ہے اور قاری کا تفاعل اس کے اپنے علم اور شعور کے تحت اس کی حد بندی کرتا ہے۔ اس لیے گوپی چند نارنگ کا یہ کہنا غلط نہیں کہ ’’…کوئی تعبیر آخری تعبیر نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کوئی تعبیر آئندہ تعبیروں کے امکانات ختم کرسکتی ہے۔‘‘(25) اس لیے کہ جن دو محوروں پر معنی قائم ہوتا ہے انھیں خود قیام و قرار نہیں ہے۔ احتشام حسین جو اپنے ترقی پسند اور سائنٹفک نظریہ تنقید کے لیے مشہور ہیں انھوں نے 1969 میں جب اردو میں دریدا کے معنی کے رد تشکیلی تفاعل کی بحث شروع بھی نہیں ہوئی تھی، غالب کی معنی آفرینی سے بحث کرتے ہوئے لکھا تھا :
’’… معنی متحرک ہے اور مختلف لوگوں کے ذہن میں اس کا مفہوم ان کے احساسِ حقیقت اور وسعت شعور سے متعیّن ہوتا ہے۔‘‘(26)
ترقی پسند ناقدین پر یہ اعتراض بہت شدت سے کیا جاتا ہے کہ وہ اشعار کو مخصوص معنی ’’پہنانے‘‘ کی کوشش کرتے ہیں یا الفاظ کے بند اور محدود معنی پر اصرار کرتے ہیں۔ اس ساری بحث میں جدیدیت کی ’بے معنگی‘ سے لے کر مابعدجدیدیت کی ’متحرک معنویت‘ کی بحث تک ہر اشارہ ترقی پسند تحریک کی طرف جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترقی پسندمعنی پر پہرے بٹھا تے ہیں اور ما بعد جدیدیت اُسے آزاد کرانے کی کوشش میں ہے۔
ناصر عباس نیّر جو ایک سنجیدہ اور وسیع المطالعہ ناقد ہیں، انھوں نے نہ جانے کس طرح یہاں تک لکھ دیا کہ :
’’صرف ایک ہی معنی اور اس کی قیمت پر اصرار آمرانہ فاشسٹی طاقت کی حرکیات ہے۔‘‘(27)
اگر ایسا ہوتا تو ایک شرح کے بعد دوسری شرح نہ لکھی گئی ہوتی اور سب انھیں مطالب پر ایمان لے آتے۔ ہر عہد احتشام حسین کی زبان میں اپنے ’’احساسِ حقیقت اور وسعت شعور‘‘ سے معنی اخذ کرتا ہے۔ جسے گوپی چند نارنگ نے ’قوت زماں‘ اور ’تفاعل قاری‘ کہا ہے۔ اس طرح ہر زمانے میں تفسیر و تعبیرِ شعر کے دروازے کھلے رہے ہیں۔
گوپی چند نارنگ نے اخذ معنی کے لیے سب سے ہٹ کر ایک وسیع نظریہ اختیار کیا ہے جو ان کا کارنامہ ہے۔ انھوں نے اخذِ معنی کے سلسلہ میں ایک بسیط تاریخی، تہذیبی، علمی اور فلسفیانہ فضا فراہم کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قدیم علما لفظ کی کار فرمائی کے اثر اور خاص طور پر غالب کی بیدل پرستی یا ’نفی‘ کی معنوی وسعت سے بے بہرہ تھے۔ لیکن وہ اس کے سائنسی طریقہ کار اور اس کے فلسفیانہ رشتوں سے واقف نہیں تھے۔ دوسرے گوپی چند نارنگ نے صرف بیدل کے اثر کو ہی نہیں دیکھا بلکہ فارسی ہندوستان میں آکر اور دانش ہند سے مل کر کس طرح ’سبک ہندی‘ میں تبدیل ہوتی ہے اور اردو میں وہ پیچیدگی کس طرح ایک معنیاتی فکری قوس قزح بن جاتی ہے اس کی بے لوث تلاش کی۔ غالب کی تعریف اور ان کے محاسن تو ان کے دل میں بھی تھے جو غالب کے معترض رہے لیکن گوپی چند نارنگ نے بالکل ابتدا میں جو سوال اٹھایا تھا کہ اس معنی آفرینی، بے پناہ دل میں اترجانے والی کیفیت، یہ ہر عہد میں روشن و تاباں رہنے والی صفت اور یہ’ بہت خوب ‘جو قلم کے احاطے میں نہ آئے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی اور ایک ایک پہلو پر اس طرح روشنی ڈالی ہے کہ ان کی کتاب ’غالب … معنی آفرینی‘ تفہیم شعر کی ایک نئی بوطیقا بن گئی۔
گوپی چند نارنگ کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے کسی نظریے کو رد نہیں کیا بلکہ چند ایسے اصول پیش کیے جن کے ذریعہ غالب کی معنی آفرینی کے اسباب اور فکری جڑوں تک پہنچا جاسکے۔ ’ہیرے‘ میں بنیادی طور پر چمک ہوتی ہے لیکن تاریکی میں نہ اس کی کوئی خصوصیت نظر آتی ہے اور نہ اس کی آنکھوں کو خیرہ کردینے والی چمک۔ وہ محتاج ہے روشنی کا۔ روشنی ہی اس کی صفات کو واضح کرسکتی ہے۔ اسی طرح لفظ میں ذہن کو حیرت زدہ کرنے والے معنی پوشیدہ ہوتے ہیں مگر وہ بھی بغیر علم کی روشنی کے اپنی خیرگی نہیں دکھاسکتے اور جیسے جیسے نئے علوم اور نئی بصیرتوں کی روشنی ہمارے ذہنوں میں بڑھتی جاتی ہے لفظ کی معنوی خیرگی بڑھتی جاتی ہے اور اتنی بڑھ جاتی ہے کہ معنی کے مقابلے میں لفظ چھوٹا پڑجاتا ہے۔
گوپی چند نارنگ نے یہ راز پالیا تھا۔ انھوں نے ہر چند اپنی تنقید کی بنیاد، شونیتا اور رد تشکیل کے جدلیاتی استفہامیہ رویے پر رکھی ہے لیکن جہاں کہیں شعر یا شاعر (غالب) کے تاریخی، ثقافتی اور سماجی سیاق سے اخذِ معنی میں مدد ملتی تھی یا معنی آفرینی کے نئے دروازے وا ہوتے تھے، انھوں نے اسے نظرانداز نہیں کیا۔ ’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ کو عام طور پر ’مابعد جدیدت ‘سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن یہ ’مابعد جدیدت‘ کے بعد کا قدم ہے۔ گوپی چند نارنگ نے غالب کی تہہ در تہہ شخصیت اور پُر پیچ معنی آفرینی کو سمجھنے کے لیے استفادہ تو تمام علوم و نظریات سے کیا، لیکن انھوںتفہیم شعر کا خود ایک بلیغ مربوط نظام پیش کیا ہے جس میں درونِ لفظ پہنچنے کے لیے انھوں نے نہ تاریخ اور سیاسی جبرکو نظر انداز کیا ہے، نہ جدلیاتی رویّوں کو۔ اس لیے ’غالب معنی آفرینی،جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ گوپی چند نارنگ کے تنقیدی امتیاز کے ساتھ اردو تنقید میں ان کے نظریۂ تنقید کا سب سے اہم اور تاریخی قدم ہے۔
(فروری 2015)
حواشی
1 ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، گوپی چند نارنگ ص 75
2 اسلوب اور اسلوبیات مشمولہ ترقی پسندی جدیدیت، ما بعد جدیدیت مرتبہ ندیم احمد ص 266,67
3 ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات، گوپی چند نارنگ ص 20
4 ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، گوپی چند نارنگ ص36
5 ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، گوپی چند نارنگ ص 53
6 ترقی پسندی جدیدیت ما بعد جدیدیت، گوپی چند نارنگ ص 650
7 ترقی پسندی جدیدیت ما بعد جدیدیت، گوپی چند نارنگ ص 646
8 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 13
9 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 14
10 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 124
11 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص-27 126
12, 13 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 72
14 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 77
15 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 87,91
16 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 92
17 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 93
18 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 264
19 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص 247
20 ساختیات پس ساختیات، مشرقی شعریات پروفیسر چند نارنگ ص 298
21 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص52
22, 23 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص278-79
24, 25 غالب : معنی آفرینی جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، گوپی چند نارنگ ص300
26 شاعری باد نفس اور نکہت گل، احتشام حسین مشمولہ غالب نمبر،شاعر ممبئی 1969 ص 518
27 غالب : معنی آفرینی شعریات ایک تاثر ، ناصر عباس نیّر مشمولہ گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی، ص 63

Leave a Reply

eight + 18 =

Top