You are here
Home > Politics > گائے ذبیحہ پر دس سال قید او رایک لاکھ روپئے جرمانہ! گجرات فساد پر ؟؟

گائے ذبیحہ پر دس سال قید او رایک لاکھ روپئے جرمانہ! گجرات فساد پر ؟؟

ان دنوں خبر کچھ اس طرح ہے کہ گائے ذبیحہ پر دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ؟ حکومت گجرات گاؤ ذبیحہ میں ملوث رہنے والوں کو انتہائی سخت سزاکے لیے ایک بل اسمبلی میں متعارف کرنے جارہی ہے۔موجودہ قانون میں ۲۰۱۱؍ میں ترمیم لائی گئی تھی او رزیادہ سے زیادہ سزائے قید۷؍سال اور کم سے کم ۳؍سال طے کی گئی تھی۔نئے بل میں جرمانے کی موجودہ رقم ۵۰؍ ہزار سے دوگنا کردی گئی ہے ۔تحفظ جانور قانون گجرات ۱۹۵۴ میں ترمیم کے ذریعہ ایسے کسی شخص کو جو گائے بچھڑے بیل ذبح کرے اسے ۱۰؍ سال قیدکی سزا بھگتنی ہوگی ۔ گجرات وزیر اعلا وجئے روپانی نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی حکومت گائے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پر مبنی بل متعارف کرنے پرغور کررہی ہے۔نریندر مودی نے سال۲۰۱۱؍ میں جب وہ ریاست گجرات کے چیف منسٹر تھے گجرات میں گاؤ ذبیحہ ‘ گائے اور بیف کی منتقلی اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
جانوروں سے ہمدردی رکھنے والوں کے سامنے انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے ؟ ان ہی جانوروں کی کھال سے بنی ہوئی اشیا جب بازاروں میں آتی ہیں ، تو بڑی شان سے خرید کر یہی لوگ استعمال کرتے ہیں ، جو جانوروں کی حفاظت کا دعوا کرتے ہیں ۔
جانوروں سے ہمدردی برتنے والوں کی ریاست گجرات میں اس قدر بھیانک فساد ہوا اور انسانوں کا قتل عام ہوا ، اس کے لیے کسی نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا ؟ فسادات کو روکنے اور انسانوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے کسی بل کو متعارف کیا گیا تھا ؟گجرات فسادات کی باز گشت اب بھی سنائی دیتی ہے اور راکھ میں دبی چنگاریاں محسوس ہوتی ہیں ، مگر انسانوں کے قتل عام پر کسی کو افسوس نہیں ، بلکہ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی گجرات فسادات کے ملزمین با بو بجرنگی اور مایا کونڈنانی کو رہائی میسر ہوئی ۔ایسے ہی حالات اب درپیش ہوں گے جس کا سامنا کرنے کے لیے ملک کے سیکولر عوام کو تیار رہنا ہوگا ۔
آج جو پارٹی اقتدار میں ہے اور جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے ، وہ آنے والے پانچ برسوں میں ایسے کئی بل پیش کر سکتے ہیں اور پاس کروا سکتے ہیں ، جو مستقبل میں کبھی منسوخ نہیں کیے جا سکتے ۔ ملک کے عوام میں سیاسی شعور کی کمی اور نا عاقبت اندیشی کا یہ انجام ہے۔ ابھی معاملہ گجرات اور گئو کشی کا ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ؟

شیریں دلوی

Leave a Reply

3 × 3 =

Top