You are here
Home > Literature > کردار آرٹ” اکیڈمی اور اقبال نیازی”

کردار آرٹ” اکیڈمی اور اقبال نیازی”

جیسا کہ کہا جاتا ہے ’’ ایکشن وہ کامیاب ہوتا ہے ، جس کا ری ایکشن ہو ۔‘‘ کتنی ہی اچھی کہانی ، منظر نامہ اور مکالمہ ہو ، جب تک ہدایت کار اداکار کے اندر کردار کی روح نہ پھونک دے ، اداکاری کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس پر کوئی رد عمل ہو سکتا ہے ۔ اقبال نیازی کی تحریر و ہدایت میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ یہ کس کا لہو ہے ، کون مرا ہے ‘‘ کاکردار ’’ سنگیتا‘‘( یا کوئی اور کیونکہ کسی مجبوری کے تحت اکثر کردار بھی بدلتے رہتے ہیں ) جب اسٹیج پر جب اداکاری کرتی ہے ، تو لوگ رونے لگ جاتے ہیں ۔ لوگوں کا رونا ہی وہ ری ایکشن ہے ، جو ایکشن کی کامیابی کی دلیل ہے۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے ، جو شادی کے کئی سال بعد حاملہ ہو تی ہے ، یہ اچھی خبر اسے لیڈی ڈاکٹر سناتی ہے ، تو وہ اپنے شوہر کو سنانے کے لیے بے تاب ہو جاتی ہے ، مگر ای میل ، ایس ایم ایس اور کال کچھ بھی کر نہیں پاتی ہے ، کیونکہ خوشی نے اسے باورا کردیا ہے ، وہ سوچتی ہے کہ رو برو بتائے ، دونوں کی ملاقات ہونے والی ہے ، مگر ٹرین میں ہونے والے بم دھماکے نے اس کے شوہر کو زخمی کر دیا اور وہ زندگی موت کی کشمکش میں آئی سی یو میں اسے ملتا ہے ، جہاں وہ یہ خبر اسے سنا بھی نہیں پاتی ہے کہ اس شخص کی موت ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد سنگیتا فیصلہ کر لیتی ہے کہ اس خون خرابے کی دنیا میں اپنے بچے کو نہیں آنے دے گی ، مگر اس کے لاشعور میں اس کے شوہر کی آواز گونجتی ہے کہ تم اسے اس دنیا میں آنے سے مت روکواور اسے ایسے سنسکار دو کہ وہ خون خرابے سے اجڑنے والی دنیا کو آباد کرنے کی کوشش کرے ، دنیا کو حسین بنانے کی کوشش کرے ۔ اقبال نیازی کی تحریر کردہ کہانی آج کے دور کو پیش کر رہی ہے ۔ یہ کسی گاؤں دیہات کی کہانی نہیں ہے ۔ بم دھماکوں میں مرنے والو ں کے پسماندگان کی زندگی ہے ۔ کہانی کا مرکزی خیال ، مکالمے اور اداکاری اور ہدایت کاری کو اس وقت سو فیصد مارکس ملتے ہیں ، جب سامعین کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور ہر کوئی نظریں چراتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ وہی ری ایکشن ہے ، جو کسی اچھے ایکشن پر ہو سکتا ہے ۔ اقبال نیازی کی تحریر اور ہدایت کاری نے ’’ یہ کس کا لہو ہے ، کون مرا ہے ‘‘ اور ’’ بچو مستری ‘‘ میں جان ڈال دی ہے ، اب تک اس ڈرامے کے ۷۰۰؍ سے زیادہ شو ہو چکے ہیں ، مگر جب بھی سامعین اسے دیکھتے ہیں ، اسی طرح سراہتے ہیں ۔ اقبال نیازی کے آرٹ کی سراہنا کبھی کم ہوتے نہیں دیکھی گئی ۔
دراصل اقبال نیازی کے والد شور نیازی پارسی تھیٹر سے وابستہ رہے ،’’ دو روٹی‘‘ اور’’ جواب ‘‘ جیسے لا جواب ڈرامے پیش کیے بعد میںانہیں ڈراموں کو فلموں کی شکل میں پیش کیا گیا تھا ۔ فلم نوکر کا اسکرپٹ بھی شور نیازی ہی کا تھا ۔ اقبال نیازی کو یہ شوق ورثے میں ملا ہے ۔ اقبال نیازی انجمن تبلیغ الاسلام اسکول کرلا ، میں بحیثیت استاد مصرف ہیں ۔ اسکول میں وہ ایک ذمہ دار ٹیچر کی طرح کام کررہے ہیں۔ وہ ملازمت اور گھر کی ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں ۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اردو تھیٹر کو اتنا وقت دینا آسان بات نہیں ہے ، وہ بھی اس دور میں جب چاروں جانب سے اردو کی تباہی کا واویلا مچایا جا رہا ہو ۔
گو کہ اقبال نیازی کو یہ شوق اور مہارت ورثے میں ملی ہے ، مگر ان کے اس شوق کو جلا بخشی ہے ، حبیب تنویر نے ۔ اقبال نیازی حبیب تنویر سے بے حد متاثر ہیں ۔ حبیب تنویر کے کئی ڈراموں کو شہرت حاصل ہو چکی ہے ، مگر ’’ آگرہ بازار ‘‘ ان کے بہترین ڈراموں میں سے ایک ہے ۔ اس کا شو چاہے جہاں چل رہا ہو ، ڈرامے کے شائقین وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔ اقبال نیازی نے حبیب تنویر پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے ، حبیب تنویر پر ہندی میں کئی لوگوں نے پی ایچ ڈی کی ہے ، مگر اردو میں پہلی بار پی ایچ ڈی کا شرف اقبال نیازی کو حاصل ہے ۔ اقبال نیازی کی دو کتابیں زیر طبع ہیں اور بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہیں ۔ ’’ اردو ڈرامہ اردو تھیٹر ‘‘ جس میں مضامین اور تبصرے ہیں دوسری کتاب ہے، ’’ ہوتا ہے شب و روز ڈرامہ مرے آگے ‘‘ میں نئے ڈرامے ہیں ۔ یہ کتابیں تکمیل پبلیکشن کے ذریعے طباعت کے مراحل سے گزر رہی ہیں ۔ اقبال نیازی نے ایک ڈاکیومینٹری دور درشن کے لیے تیار کی ہے ’’ اردو ڈرامے کا سفر نامہ ‘‘ یہ کل 13ایپی سوڈ پر مبنی ہے ۔ جس میں اردو ڈرامے کی تاریخ اور حالات کا احاطہ کیا گیا ہےFB_IMG_1493456875580 FB_IMG_1493456964481 FB_IMG_1493457335712۔
اقبال نیازی کے اسی شوق سے ۳۰؍سال قبل کردار آرٹ اکیڈمی کا قیام عمل میںآیا ۔ساگر سرحدی ، جاوید صدیقی ، نادرہ ببر ،سلام بن رزاق ، معراج صدیقی ، اسلم پرویز ، پرنسپل سہیل لوکھنڈوالا اوراسلم خان ’’ کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کے ابتدائی دور کے ساتھی ہیں ، بعد میں وہ مختلف شعبوں میں مصروف ہو گئے ، مگر اقبال نیازی کا ساتھ نہیں چھوڑا ، ان ہی میں سے ایک اور ساتھی ساجد رشید بھی ہوا کرتے تھے ، جو اس دنیا میں نہیں رہے ۔’’کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کو بعد میں رجسٹرد بھی کرالیا گیا ۔ اس کے تحت تقریباً 110 ڈرمہ کے ۶۰۰۰؍سے زیادہ شو ہوئے ہیں اور ۷۰۰؍ سے زیادہ انعامات ملے ہیں ۔ اقبال نیازی کے تحریر کردہ ڈرامہ ’’ جلیان والا باغ ‘‘ ساہتیہ کلا پریشد نے نیشنل ایوارڈ سے نوازا ہے ۔ اردو ہندی اور پنجابی کی کل۷۰۰؍اسکرپٹ میں یہ انعام’’ جلیان والا باغ ‘‘ کو ملا تھا ۔
اقبال نیازی نے ’ کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کے تحت نہرو سینٹر میں میوزیکل ڈرامہ’’ غالب رنگ ‘‘کیا تھا ، جس میں سپریہ جوشی اور غلام عباس خان نے غالب کی غزلوں کو اپنی آواز میں پیش کیا تھا اور ٹام آلٹر کے ساتھ جوہی ببر نے غالب کے خطوط ڈرامائی انداز میں پڑھے تھے ۔ ـ’’ کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کے تحت ہونے والے ڈراموں کے اداکار زیادہ تر غیر مسلم یا غیر اردو داں ہوتے ہیں ۔ خاص طور سے مراٹھی یا گجراتی اسٹیج کے اداکار ، مگر اقبال نیازی کی تربیت کے بعد جب اسٹیج پر آتے ہیں ، تو اس قدر عمدہ تلفظ اور مخرج کے ساتھ اردو مکالموں کی ادائیگی کرتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے وہ اہل زبان ہیں ، مگر ڈرامہ کے اختتام پر جب اداکاروں کا تعارف پیش کیا جاتا ہے ، تو دلیپ ، اشوک ، سنتوش ، سونی ، میگھنا اور نہ جانے کیا کیا ہوتے ہیں ، کوئی مسلم لڑکا یا لڑکی شاز و نادر ہی ہوتے ہیں ۔’’ کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کے تحت کسی بھی ہال میں ڈرامہ کا کوئی بھی شو چل رہا ہو یا سالانہ ڈرامہ فیسٹیول ہو ، مراٹھی ، گجراتی اور سندھی لوگو ں کی بھیڑ نظر آتی ہے ، اگر دیکھا جائے ، تو اقبال نیازی ڈرامے کے فن کے ذریعے اردو کے فروغ کا کام کر رہے ہیں ، وہ اردو کی خدمت کر رہے ہیں ۔ غیر اردو داں طبقے تک اردو کو پہنچانا ، ارد وسیکھانا اور اردو کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ، اسے بڑھ کر اردو کی خدمت کیا ہو سکتی ہے ؟ جب بھی اردو کی خدمت کرنے والوں کو کسی اوارڈ سے نوازنے کی بات آئے ، تو اقبال نیازی کا نام سر فہرست ہونا چاہیے ۔
ایک اور میوزیکل پروگرام مشہور شاعر ساحر لدھیانوی پر پیش کیا گیا تھا ، اقبال نیازی کی یہ پیش کش بھی بے انتہا کامیاب رہی ، دوران گفتگو اقبال نے بتایا کہ ہیمنت کمار اور طلعت محمود کو لوگ بھلا رہے ہیں ، طلعت اور ہیمنت کے ساتھ ساتھ شکیل بدایونی ، مجروح سلطانپوری پر بھی میوزیکل پروگرام پیش کرنے کی تیاری جاری ہے ۔
اقبال نیازی کے ڈرامے کا ہر پہلو عمدہ ہوتا ہے ، کہانی ، مکالمہ ، منظر نامہ اور پیش کش ساتھ ہی ان کی ہدایت کاری بھی ، اقبال بذات خود ایک اچھے اداکار بھی ہیں ۔ وہ ’’ اپٹا‘‘ کے ذریعے ہونے والے ڈرامہ میں حصہ لیا کرتے تھے ،خاص طور سے ’’ اپٹا ‘‘ کا ڈرامہ ’’ آخری شمع ‘‘ میں ناظم مشاعرہ کا کردار وہی ادا کرتے ہیں ، مگر آج وہ کامیابی کے اس مقام پر ہیں ، کہ ’’ اپٹا ‘‘ والے ڈرامہ کے مقابلوں میں انہیں بحیثیت جج مدعو کرتے ہیں ۔’’ اپٹا ‘‘ کا نام لیا جائے اور اے کے ہنگل کا تذکرہ نہ ہو ، تو یہ بھی نا انصافی ہوگی ، کیونکہ ایک عرصے تک اے کے ہنگل نے ’’ اپٹا ‘‘ میں زندگی کی روح پھونکنے کا کام کیا تھا ۔
’’ کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کی سرگرمیوں سے سبھی واقف ہیں ، اسی وجہ سے اکثر اقبال نیازی سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ۔ ڈرامہ کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے تعلق سے کچھ جاننے کا تجسس ہمیں بھی رہا ، مگر جب بھی اقبال نیازی سے باقاعدہ انٹر ویو کی بات آئی ، تو کبھی اقبال نیازی اسٹیج شو کی تیاری یا زندگی کے دیگر شعبوں میں مصروف رہے اور اکثر ہماری مصروفیت تفصیلی گفتگو یا ملاقات کے مانع آ گئی ۔ مگر اقبال نیازی سے اکثر فون پر گفتگو ہوا کرتی ہے ، اسٹیج شو دیکھنے کے شوق نے ہمیں ڈرامہ کمپنی اور اس کے منظر و پس منظر میں رہنے والے افراد کو سمجھنے کا موقع دیا ۔ ان کی مصروفیت اور جد و جہد نے متاثر کیا … اس شعبے میں اور کتنے ہی اقبال نیازی کام کر رہے ہوں گے، ہم رفتہ رفتہ اور بھی معلومات اکٹھا کر کے فراہم کرنے کی کوشش کریں گے ۔
اقبال نیازی نے دوران گفتگو بتایا کہ ایسے بہت سے نام ہیں ، جو اسٹیج سے فلموں کی جانب گئے اور آج بھی اسٹیج سے وابستہ ہیں ، جن میں قادر خان ، شفیع انعامدار ، نصیر الدین شاہ ، اوم پوری ، شبانہ اعظمی ، پریش راول اورراج ببر کے نام قابل ذکر ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ نصیر الدین شاہ اور پریش راول آج بھی اتوار کو کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے وقت نہیں دیتے کیوںکہ یہ دونوں اتوار کے دن کسی ڈرامہ تھیٹر میں اپنی ادکاری کے جوہر دکھاتے ہیں ۔ یہ وقت ان لوگوں نے ڈرامہ کے لیے مختص کر رکھا ہے ۔ نصیر الدین شاہ کے پیش کردہ اردو ڈراموں کی وجہ سےگجراتی مراٹھی اور دیگر زبانوں کے لوگ اردو سے واقف ہو رہے ہیں ۔ جب نصیر الدین شاہ کے اردو ڈرامہ کے دوران سامعین اردو کے مکالموں پر تالیاں بجاتے ہیں ، تو بے انتہا خوشی ہوتی ہے ۔ اقبال نیازی نے مزید بتایا کہ نصیر الدین شاہ زیادہ تر منٹو اور عصمت چغتائی کی کہانیوں کو ڈرامائی شکل میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں ، میرے پاس اردو کی کہانیوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے ، جنہیں یکے بعد دیگرے ڈرامائی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔ نصیر الدین شاہ پہلے انگریزی ڈرامہ کیا کرتے تھے ۔نصیر ایدن شاہ نے منٹو اور عصمت کی کہانیوں کو لے کر اردو کو غیر اردو داں طبقے میں زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے ۔
یوں تو ’’کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘ کے ڈرامہ فیسٹیول میں ملک کی مختلف ریاستوں سے حصہ لینے کے لیے ڈرامہ گروپ آتے ہیں ، مگر ایک مرتبہ مارچ میں ہونے والے فیسٹیول میں جموں سے آئے ہوئے گروپ نے منٹو کی کہانی ’’ کھول دو ‘‘ کو ڈرامائی شکل میں پیش کر کے داد و تحسین وصول کی ۔ اسی طرح بھوپال سے ’’ فنکار ‘‘ گروپ نے ’’ خالہ کمال کی ‘‘ پیش کر کے سب کی آنکھوں کو نم کر دیا کہ یہ ڈرامہ بھوپال گیس سانحہ پر تحریر کیا گیا تھا ۔
ایسے ہی اقبال نیازی کا تحریر کردہ ڈرامہ بھی آج کی زندگی کو پیش کرتا ہے ، وہ موجودہ دور کے جبر و قہر اور انسانی اخلاقی قدروں کے زوال کے درمیان بھی کہیں انسانی اخلاق کی پھوٹتی کونپل کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ، جس کی بہترین مثال ان کا ڈرامہ ’’ بچو مستری ‘‘ ہے ، جسے اقبال نیازی نے خود ہی لکھا اور ہدایت سے سنوارا ہے، کردار کا انتخاب بھی وہ بہت خوب کرتے ہیں ۔ڈرامہ نگاری اور ہدایت کاری کے شعبے میں ضرور کچھ اہم اور بڑے نام بھی ہوں گے ، جو تناور درخت کی شکل اختیار کر چکے ہیں ، مگر اقبال نیازی ان ہی میں سے نمایاں نظر آنے والا ایک ایسا پودا ہے ، جو مستقبل میں ان مضبوط درختوں کی صف میں نظر آئے گا۔

دو سال قبل ’’کردار آرٹ اکیڈمی ‘‘نے بھوپال سے آئے ہوئے ’’ کارواں ‘‘ گروپ کا ہندی ڈرامہ ’’ متسیہ گندھا ‘‘ میسور ہال میں پیش کیا ۔۱۴؍تمبر کی شام میسور ہال ، ماٹونگا میں ، گنگا کی لہریں عروج پر تھیں ، ’’ ہیا ، ہیا ، ہو ، ہیا کی آوازیںبلند ہو رہی تھیں ، بوڑھا غریب ماہی گیر اپنی بیٹی کو پکار رہا تھا ، ’’ ستیہ وتی ، اری او ستیہ وتی ، نوکا کنارے لگا دے ۔ ‘‘ اسی کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی اٹھلاتے ہوئے’’ آئی بابا…‘‘ کی صدا کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اور خوشی کے اظہار میں رقص کرتی ہے ۔ یہ کہانی مہابھارت سے قبل کی ہے ، جسے تحریر کیا ہے بسنت کانیٹکر نے ، ترجمہ نگار ہیں بھانو متی سنگھ ، جس کے ہدایت کار ہیں نظیر قریشی ، یہ ڈرامہ خالص ہندی میں ہے ۔ ڈرامہ چونکہ ’’کردار آرٹ اکیڈمی‘‘ نے پیش کیا تھا ، اس لیے اقبال نیازی نے خالص ہندی زبان میں سامعین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، کہا کہ آج ہم ہندی دیوس منا رہے ہیں ، اس لیے ہندی بول رہے ہیں اور یہ ڈرامہ بھی ہندی زبان ہی میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ اس ڈرامے کو کئی انعامات مل چکے ہیں ۔ اردو ہندی کا یہ سنگم اور اقبال نیازی کا دونوں زبانوں سے لگاؤ قابل تعریف ہے ۔ یہ درست ہے کہ زبان رابطے کا ذریعہ ہے، اسے مذہب سے نہیں جوڑنا چاہیے اور اقبال نیازی یہی کام کر رہے ہیں ، بلا تفریق مذہب ، اسی لیے غیر اردو داں طبقہ اردو ڈراموں کے ذریعے اردو سیکھ رہا ہے امید ہے کہ اقبال نیازی اردو کی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیں گے۔ ٭٭

شیریں دلوی

Leave a Reply

three × 1 =

Top