You are here
Home > Politics > ڈیجیٹل انقلاب ؟

ڈیجیٹل انقلاب ؟

ان دنوں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ‘ڈیجیٹل انقلاب وزیر اعظم نریندر مودی کی کالا دھن اور بدعنوانی کے خلاف شروع کی گئی ایک مضبوط مہم ہے اور ملک میں ڈیجیٹل ادائیگی، آن لائن اور موبائل بینکنگ نظام کامیاب ہو رہا ہے۔
مختار عباس نقوی نے شیڈول اینڈ کوآپریٹو بینکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرنس میںکہا کہ ‘ڈیجیٹل انقلاب، ترقی میں سب کو شامل کرنے، جامع اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی ‘ڈیجیٹل انقلاب مہم سے مختلف عوامی فلاح و بہبود خدمات کو ہر ضرورت مند تک بغیر کسی روک ٹوک کے پہنچانے میں مدد حاصل ہو رہی ہے ۔مختار عباس نقوی نے جو کچھ کہا ، وہ سچ ہے ، مگر اس میں کس حد تک کامیابی حاصل ہو رہی ہے ، یہ زیادہ اہم ہے ۔
دیکھا جائے تو پوری دنیا میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل چکی ہے اور انٹرنیٹ کے اس پھیلاؤ میں اضافہ کی وجہ اسمارٹ فون اور دیگر اشیا بھی خوب استعمال ہو رہی ہیں ۔ بعض اوقات ٹیکنالوجی کا اس طرح وسیع پیمانے پر پھیلاؤ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے اور خاص طور پر جب اس دوڑ میں کم وسائل کے ساتھ ترقی پذیر ممالک شامل ہو جائیں۔ اس حوالے سے عالمی بنک نے اپنی ایک رپورٹ میں دنیا بھر میں پھیل جانیوالی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا ہے ،جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ اس حد تک فائدہ مند نہیں رہا جس حد تک اس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اگرچہ عالمی بنک کی اس رپورٹ میں کئی مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں جن میں معاشی شرح نمو میں اضافہ، تعلیم کا فروغ وغیرہ شامل ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب پر چند ممالک کا کنٹرول ہے ، جیسے کہ اس کا فائدہ امریکا، سنگاپور، فن لینڈ، ہالینڈ، سویڈن ، سوئٹزر لینڈ اور اسرائیل اٹھاتے ہیں۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق اقتصادی اور ڈیجیٹل کے شعبوں میں کسی بھی قسم کی جدت یا نئی ٹیکنالوجی کا سب سے زیادہ فائدہ ان ہی سات ممالک کو ہوتا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انقلاب کو حکومتیں یا کاروباری ادارے نہیں بلکہ چند مخصوص افراد کنٹرول کر رہے ہیں ،جس کے باعث امیر اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان فاصلہ ہوتا جارہا ہے اور حکومتیں اور کاروباری ادارے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا رہے ۔ترقی پذیر ملک کو ٹیکنالوجی تک سستی رسائی فراہم کرکے اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ کچھ لوگ موبائل فون کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ڈیجیٹل انقلاب کی بات کرنا اورڈیجیٹل انڈیا کا خواب دیکھنا اچھی بات ہے ، حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس پر توجہ دینا چاہیے ، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وسائل محدود نہ ہوں ۔ کیونکہ اس کے لیے جدید وسائل کا عام ہونا ضروری ہے ۔ملک کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں کے عوام ابھی تک بجلی سے محروم ہیں ۔ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے محروم ہیں ، تو اس صورت میں ڈیجیٹل انقلاب کی بات کرنا کس حد تک مناسب ہے ۔ ایک وقت تھا ، ملک کے دیہاتوں یا چھوٹے شہروں میں ٹیلی فون کی سہولت نہیںتھی ، مگر ایسا بھی وقت آیا کہ دور دراز کے گاؤں دیہاتوں میں بھی پی سی او نظر آنے لگے اور لوگوں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں کوئی دقت نہیں رہی ۔ ملک میں ابھی بھی کئی علاقے ایسے ہیں ، جو موبائل ٹاور سے محروم ہیں ۔ جہاں کسی قسم کا نیٹ ورک نہیں ہے ۔

Leave a Reply

3 × 2 =

Top