You are here
Home > Health > ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی دو کتابوں کا رسم اجرا

ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی دو کتابوں کا رسم اجرا

گزشتہ دنوں مراٹھی پترکار سنگھ میں ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی مراٹھی کتاب ’’ کمیا ہاتھاچی ‘‘اور ہندی کتاب ’’ ہاتھوں کا جس ‘‘ کا رسم اجرا تھا ، اس سے قبل یہ کتاب اردو میں شائع ہو چکی ہے ’’ دست شفا ‘‘ کے نام سے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرزا انور بیگ کے علاوہ ڈاکٹر شاہدہ بیگ ، ڈاکٹر مفخر بیگ اور دیگر مہمان موجود تھے ۔ ڈاکٹر انور بیگ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کل امراض کی وجہ ڈاکٹر بن گئے ہیں یا پھر مریض خود ہی ڈاکٹر بن کے گھوم رہے ہیں اور اپنا علاج خود ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کسی بھی مرض کے علاج کا مطلب یہ نہیں کہ ایک مرض کو ٹھیک کر دیا ، تو دوسری تکلیف شروع ہو جائے ، علاج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مریض پوری طرح ٹھیک ہو جائے اور کبھی بیمار ہی نہ ہو ۔ علاج کا مطلب ہے مرض سے مکمل نجات ۔ مگر آج کےدور میں مرض کی تشخیص لیباریٹریاں کر رہی ہیں اور علاج دواؤں کی کمپنیاں کر رہی ہیں ، تو پھر ڈاکٹر کا رول کیا رہ جاتا ہے ؟ ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر اس کی تکلیف کو سن کر اسے محسوس کر کے کیوں نہیں سمجھ پاتا ہے کہ مرض کیا ہےا ور اس کا علاج کیا ہے ؟ ڈاکٹر مریض کے درمیان ایک بڑا فاصلہ پید اہو گیا ہے اور دوسری بڑی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انسانی جسم کے تمام اعضا کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور ہر حصے کا اسپشلیسٹ اس کا علاج کرتا ہے ۔ مثلاً ادل کا ڈاکٹر ، کڈنی کا ڈاکٹر ، ناک کان اور گلے کا ڈاکٹر ، ہڈیوں کا ڈاکٹر ، پیٹ کے امراض کا ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ مریض کے جسم کو کل ایک اکائی میں دیکھ کر علاج کرنے والے ڈاکٹر اب کہاں ہیں ؟
کسی بھی وائرس کے مرض کے لیے اینٹی بایوٹک دیا جاتا ہے ۔ یہ اینٹی بایوٹک جراثیم کش ضرور ہوتے ہیں ، مگر اس کے بد اثرات کا حساس کسی کو نہیں ہے ، کیونکہ جب یہ جراثیم جسم کے اندر مر جاتے ہیں ، تو ان کے مردہ جسم کااخراج نہیں ہو پاتا اور یہ انسانی جسم ہی میں رہ جاتے ہیں ، جس سے خون میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور آنے والی نسلیں تباہ ہونے لگتی ہیں۔ آج کل مرض بتایا جاتا ہے ، مگر اس کی وجہ نہیں بتائی جاتی اور نہ ہی یہ وجہ دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔‘‘
ڈاکٹر مرزا انور بیگ نے اس موقع پر جتنی باتیں کیں وہ دل کو لگتی ہیں ۔ انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کہا ۔ جو کچھ کہا وہ ہرانسان کا تجربہ ہے ، کیونکہ آج کے دور میں کوئی ایسا نہیں ہوگا ، جو کبھی کسی مرض کا شکار نہیں ہوا اور ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا ہو ۔ علاج اس قدر مہنگا ہو گیا ہے کہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں علاج کر سکے ، اس سے بڑھ کریہ کہ مرض کی تشخیص کے لیے جو ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں وہ اور بھی مہنگے ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود کسی مرض کا خاطر خواہ علاج نہیں ہوتا ۔ ایسے موقع پر ڈاکٹر مرزا انور بیگ کی کتاب جو تین زبانوں میں شائع ہوئی ہے اردو میں” دست شفاــ ـ” ، “مراٹھی میں ہاتھا چی کمیا ـ”اور ہندی میں” ہاتھ کا جس” ، عام آدمی کے لیے بے حد مفید ہیں ۔ کیونکہ اس میں بہت سے امراض کی تفصیل اور اس کے تدارک کے بارے میں لکھا گیا ہے ۔ کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہوتی ہے ، تو ڈاکٹر صاحب کی یہ کتابیں اسی احتیاط کا احاطہ کرتی ہیں ، جس سے بہت سے امراض سے بچا جا سکتا ہے ۔ یہ کتابیں ان کے کلنک پر دستیاب ہیں ۔ یا پھر درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔
امام باڑہ روڈ ، مغل مسجد کے قریب ، بھنڈی بازار ،ممبئی ۔ ۹رابطہ : 9004368967
راحت منزل ۱۹،ٹرنر روڈ ، نزد باندرہ لیک ، باندرہ مغرب ، ممبئی ۔ ۵۰ رابطہ 02226430424
روشن شاپنگ سینٹر ۱۰۱ ، بالمقابل سمس مسجد ، نیا نگر ، میرا روڈ، تھانے ۔ رابطہ 912228116765

Leave a Reply

14 + 12 =

Top