You are here
Home > Literature > ’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ — ایک تاثر

’غالب : معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘ — ایک تاثر

ناصر عباس نیر

 

گوپی چند نارنگ کی اس کتاب کی اشاعت، غالبیات اور اردو تنقید کا ایک ’واقعہ‘ ہے۔ اکثر کتابیں صرف اطلاعیہ بنتی ہیں، بعض صرف خبر بنتی ہیں، مگر کبھی کبھی کوئی ایک کتاب ’واقعہ‘ بننے کا اعزاز پاتی ہیں۔ واقعہ بیک وقت تاریخ اور تاریخ کا بیانیہ ہوتاہے؛ وہ ایک مادی حقیقت اور اس حقیقت کی تعبیر ہوتا ہے۔ نارنگ صاحب کی غالب پر یہ کتاب، اردو میں غالبیات کی تاریخ کا ایک ’واقعہ‘ ہے، اور غالب کی ایک نئی تعبیر ہے، ایک ایسی تعبیر جو غالب کے تعلق سے صدیوں کے ثقافتی عمل کی کُنہ تک ہمیں لے جاتی ہے۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے خود کو تبدیل ہوتے محسوس کرتے ہیں؛ یہ خاموشی سے مگر ایک غلبہ آفریں قوت کے ساتھ آپ کے ذہن اور حواس پر بہ یک وقت اثرانداز ہوتی ہے۔ آپ کے بہت سے تیقنات کو درہم برہم کرتی، کچھ دیر کے لیے آپ کو ایک عجب ذہنی بحران میں مبتلا کرتی ہے، سوالات سے آپ کے بنے بنائے ذہنی سانچوں پر ضرب لگاتی اور پھر ان سوالات کے ممکنہ جواب کی طرف آپ کی رہنمائی کرکے، آپ کے ذہن میں غالب فہمی کے نئے تصورات کا اضافہ، وسیع ثقافتی و فلسفیانہ کینوس پر کرتی ہے۔ نیز یہ کتاب بعض نئے سوالات بھی ابھارتی ہے اور نئے اطراف کھولتی ہے۔ کتاب کا استدلال اور اسلوب دونوں قاری کو گرفت میں لے لیتے ہیں۔ یہ ایک غیرمعمولی بات ہے۔ فلسفہ و جمال کی آمیزش سے ترکیب پانے والی غیرمعمولی بات!
یہ کتاب نارنگ صاحب کے اس تنقیدی تصور کا اگلا، (اور علمیاتی اعتبار سے کٹھن) پڑائو ہے، جس کے مطابق اردو ادب کی جڑیں ہندوستان کی صدیوں پر پھیلی ہوئی ملی جلی ثقافتی روایات و رسومیات میں ہیں۔ اس سے پہلے وہ اردو مثنویوں اور کلاسیکی غزل کی مقامی ثقافتی جڑوں کو واضح کر چکے ہیں۔ نئی تھیوری اور قدیم ہندستانی لسانی، فلسفیانہ نظریات میں اشتراکات کی نشان دہی بھی کر چکے ہیں۔ (اس ضمن میں رابرٹ میگلیولا نے 1984 میں بعض فلسفیوں کے سلسلے میں قابل قدر کام کیا، جس کا حوالہ نارنگ صاحب دیتے ہیں)۔ شعریات غالب کی جدلیاتی وضع کا رشتہ وہ ایک طرف سبکِ ہندی اور دوسری طرف اس کی جڑوں کو بودھی فکر شونیتا کے فلسفیانہ اجتماعی لاشعوری اثرات سے جوڑتے ہیں۔ سبکِ ہندی سے غالب کی شعریات کا رشتہ تو پہلے سے واضح تھا، مگر بودھی شونیتا سے سبک ہندی اور غالب کا تعلق قائم کرنا اور مماثلت دکھانا حددرجہ کٹھن کام تھا۔ سب سے بڑی مشکل علمیاتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سخت چیلنج تھا، اور بڑی حد تک عالی حوصلگی کا کام بھی۔ اس کو کٹھن بنانے میں خود نارنگ صاحب کے طریقۂ کار کو بھی دخل ہے، اس لیے کہ آسان راستہ اوپری اور خارجی ہوتا۔ انھوں نے بجائے اوپری یا خارجی طریقِ کار کے ہر چیز غالب کے متن کے تار و پود کے عمیق مطالعے سے برآمد کی۔ لاشعوری اثرات کی کھوج ویسے بھی آسان نہیں جسے وہ ’نامعلوم کا سفر‘ کہتے ہیں۔ یعنی ’آبِ چشمۂ حیوان درونِ تاریکی است‘۔ انھوں نے شونیتا کی جدلیاتِ نفی کو غالب کی نئی قرأت کا تناظر نہیں بنایا جو اوپری اور سرسری ہوتا، بلکہ سیاق بنایا ہے۔ ان کا طریقۂ کار داخلی اور تخلیقی ہے۔ تناظر خارجی ہوتا ہے، اور اس کا تعلق نقاد کے موضوعی زاویۂ نظر سے ہوتا ہے، جبکہ سیاق داخلی اور اندرونی ہوتا ہے اور اس کا تعلق متن کی نامیاتی معروضی ساخت سے ہوتا ہے۔ اگر وہ شونیتا کو تناظر بناتے تو انھیں یہ آسانی تھی کہ اس کی روشنی میں وہ اشعارِ غالب کی قرأت کرتے، اور یہ باور کراتے کہ غالب کے متن میں اس تناظر میں بھی اپنے معنی روشن کرنے کی صلاحیت ہے، جس سے اس کا براہ راست تعلق نہیں مگر یہ روایتی اور عام طریقۂ کار ہوتا۔ لیکن جب وہ شونیتا کی حرکیاتِ نفی کو غالب کے متن کا سیاق بناتے ہیں، یعنی اس کے تخلیقی تار و پود میں شامل دکھاتے اور مماثل ثابت کرتے ہیں تو ایک بھاری ذمے داری اور چیلنج کو قبول کرتے ہیں؛ یہ واضح کرنے اور دکھانے کے لیے کہ دو ڈھائی ہزار سال پہلے کی فکر کا ایک طور، کیونکر صدیوں کا وجدانی اور متصوفانہ سفر کرتے ہوئے سبکِ ہندی نیز بیدل اور غالب کے ذہن و تخلیقیت کی شعوری و لاشعوری ساخت کا حصہ بنا؟ اس سوال کے جواب کے لیے نارنگ صاحب کو صدیوں کی فکری، متصوفانہ، ادبی، ثقافتی شعوری و لاشعوری، نیز لوک شعری روایات کا سفر کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی اثرات پُراسرار اور بھید بھرے اور لاشعوری بھی ہوتے ہیں۔ خود سبکِ ہندی کی فلسفیانہ پیچیدگی و دقیقہ سنجی اس کی ضامن ہے۔
پہلے انھوں نے بودھی شونیائی فکر کو برہمنی فکر سے علیحٰدہ کیا، اور یہ واضح کیاکہ آخرالذکر کے برعکس ناگارجن کے پیش کردہ جدلیاتی شونیتا میں کوئی ماورائیت نہیں؛ ’’مذہب سرے سے شونیتا کا مسئلہ نہیں‘‘۔ شونیتا، سوچنے کا ایک طور ’’ایک آگہی ہے اس احساس کی کہ کائنات میں کچھ بھی، یعنی کوئی شئے، کوئی بھی خیال، کوئی بھی نظریہ، کوئی بھی تصور، کوئی بھی نقطۂ نظر، کوئی بھی اصول قائم بالذات نہیں‘‘؛ کسی شئے کی کوئی اصل بالذات طور پر ثابت نہیں۔ نارنگ صاحب نے یہ بھی واضح کیا کہ جہاں ویدانت وجودیاتی ہے، شونیتا علمیاتی ہے۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نارنگ صاحب کو شونیتاکی علمیات، غیرمعمولی اہمیت کی محسوس ہوئی ہے۔ یہ قدیمی جدلیاتی علمیات ہے جسے انھوں نے ویدانتی، یونانی، مارکسی اور متصوفانہ وجودی جدلیات کے متقابل رکھ کر دیکھا اور کہیں زیادہ بصیرت آگیں، معنی افروز اور بھرپور پایا ہے۔ یہ سرچشموں کا سرچشمہ ہے۔ باقی سب جدلیاتی طور کسی نہ کسی اثباتی فکر پر منتج ہوتے ہیں، مگر بودھی جدلیات نفیِ تام کی حرکیات ہے، اور نفیِ تام لامحدود آگہی، کشادگی و آزادی ہے؛ یہ معنی سے کہیں زیادہ معنی سازی کے امکانات سے بھرپور ہے۔ یہ ایسی خاموشی ہے جو تمام صدائوںکا مصدر ہے۔ اس کو واضح کرنے کے ضمن میں نارنگ صاحب کے قلم میں جو ایک قسم کا جوش و نشاط پیدا ہوتا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ ان کے ادبی سفر کی خاصی مرکزی یافت ہے۔ اس یافت کو قیمتی سمجھنے میں انھیں کوئی تذبذب اس لیے نہیں ہوا کہ معاصر عالمی فکریات (جس کی بصیرت انھیں حاصل ہے) بھی اس کی توثیق ہی نہیں کرتی، بلکہ اس کی روشنی میں اپنے خدوخال کو مزید نمایاں بھی کرتی ہے۔ (یہ عین ممکن تھا کہ وہ عظمت رفتہ کی مدح سرائی میں مگن ہوجاتے اور مغرب پر مشرق کے تفوق کے گن گاتے، اور یوں اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ تہذیبی مکالمے میں یقین رکھتے محسوس ہوتے ہیں؛ کسی کی برتری یا کسی نوع کے تصادم میں نہیں)۔ انھیں مابعد جدید ذہن، خصوصاً دریدائی فکر اور شونیتا میں غیرمعمولی مماثلت محسوس ہوئی ہے۔ (مگر دریدائی فکر منطقیِ محض ہے جبکہ شونیتائی فکر تخلیقی جدلیات ہے) اسی لیے وہ پوری کتاب میں اپنے تھیسس کو ثابت کرنے کے لیے بودھی جدلیاتی حرکیاتِ نفی سے بیش از بیش مدد لیتے ہیں جو قدیم ترین سرچشمہ ہے، اور دریدا کی ردتشکیل و معنی کے التوا کا ذکر محض تائید و توثیق کے لیے کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ثقافتی عصبیت نہیں، دونوں کی علمیات کا شعور اور جدلیاتی رشتوں کا فرق ہے۔ دریدا معنی کے افتراق و التوا پر زور دیتا ہے، اور ایک معنی کے اندر دیگر معانی کے نامختتم سلسلے کی نشان دہی کرتا ہے، جبکہ شونیتامعنی، یا اس کی افتراقیت یعنی ثنویت ہی کو رد کرتی ہے۔ اس ضمن میں نارنگ صاحب بیدل اور شیخ ناصر علی کی اس بحث کا حوالہ زوردار طریقے سے ایک سے زیادہ مرتبہ لاتے ہیں (جسے مراۃ الخیال سے حمید احمد خاں نے مرقع غالب میں بھی پیش کیا ہے)، جس میں ناصر علی نے کہا کہ معنی لفظ کے تابع ہے، لفظ جب بھی ظاہر ہوتا ہے معنی خود بہ خود ظاہر ہوجاتا ہے؛ اس پر بیدل نے کہا کہ وہ معنی جسے آپ تابعِ لفظ قرار دے رہے ہیں، اس کی اصلیت بھی ایک لفظ سے زیادہ نہیں۔ جو چیز حقیقت میں معنی کہلاتی ہے، وہ کسی لفظ میں نہیں سما سکتی۔ یہ نکتہ خاصا اہم اور seminal ہے کہ یہاں نارنگ صاحب دو قسم کی زبان کی تھیوری وضع کرتے محسوس ہوتے ہیں: عام زبان اور تخلیقی زبان جو انتہائی قابل غور ہے۔ عام زبان کا وصف جدلیات اور تخلیقی زبان کی خصوصیت حرکیاتِ نفی ہے۔ (یہ تھیوڈور ادورنو کی ابلاغ اور آرٹ کی زبان کی تھیوری سے ملتی جلتی ہے) عام زبان لفظوں کے جدلی رشتوں یا Binary Oppositesمیں بندھی ہے، اور اس وجہ سے ہر شئے کو اس کی ضد سے پہچانتی، اور یوں مسلسل اپنے غیر پر منحصر رہتی ہے، جبکہ تخلیقی زبان اپنا رشتہ اس کُنہ یا خاموشی سے قائم کرتی ہے جو زبان کی قوت کا سرچشمہ یا ام اللسان ہے۔ بہ قول نارنگ صاحب: ’’خاموشی اور حرکیاتِ نفی یعنی ’نہیں‘ کی تخلیقی قوت جڑواں بہنیں ہیں۔ معنی جو ظاہر ہوگیا، وہ محدود ہوگیا یا نمٹ گیا، یا exhaust ہوگیا؛ جو پنہاں ہے، اس کی طاقت بے حد و حساب ہے، وہ امکانات سے بھرپور ہے‘‘۔ نارنگ صاحب کے مطابق، غالب کی شعریات اسی خاموشی اور حرکیاتِ نفی سے عبارت ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ شونیتا کی مانند غالب کی شعریات کا مسئلہ ماورائی نہیں۔ نارنگ صاحب کہتے ہیں کہ ’’غالب کا مسئلہ شعریاتی، ارضی اور انسانی ہے، ماورائی نہیں‘‘۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ اگر شونیتا فکر کا ایک طور ہے، ایک علمیاتی معاملہ ہے تو شعرِغالب، اسی طور کے مفہوم میں ایک شعریاتی تخلیقی معاملہ ہے؟ نہ شونیتا کوئی نظریہ دیتی اور نہ غالب کی شعریات کسی متعینہ میکانکی نظریے، محدود عقیدے یا ڈاگما کی حمایت کرتی ہے جو غالب کی طلسماتی نیرنگیِ فکر اور ندرت و جدت کی کُنہ ہے۔ اس طرح نارنگ صاحب غالب کے یہاں ’شعریاتی شونیتا‘ یا معنی آفرینی کی حرکیات کو کارفرما دکھاتے ہیں جو حد درجہ نکتہ رس، نادرہ کار اور جمال آفریں تخلیقیت کا رمز ہے۔
نارنگ صاحب کے سامنے اگلا اہم سوال یہ تھا کہ غالب کی شعریات میں حرکیاتِ نفی کیوں کر رونما ہوئی؟ اس سوال کا سامنے کا جواب تو یہ ہے کہ غالب اپنے تورانی نسلی رشتوں پر فخر کرنے کے باوجود، ہندستانی تھے؛ اور ان کا خمیر اسی مٹی سے اٹھا تھا۔ سبکِ خراسانی و عراقی کی بجائے، سبکِ ہندی کے وارث اور امین تھے، اُس بیدل کے شاگردِ معنوی تھے جو بدھ کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے، اور جو ہندستانی فکر و فلسفے سے آگاہ تھے، عارف کامل، صوفیِ صافی اور تصوف کی وجودی جدلیات اور وجدان میں رچے بسے تھے۔ نارنگ صاحب نے غالب کی تحریروں، خصوصاً مہر نیم روز اور مثنوی چراغِ دیر اور دبستان مذاہب کا ذکر کیا ہے، جن میں مقامی عقائد سے غالب کی واقفیت کا پتا چلتا ہے۔ قاطع برہان کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں توافق لسانین (خانِ آرزو کا پیش کردہ نظریہ کہ سنسکرت اور فارسی متحدالاصل ہیں) پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کا ذکر نارنگ صاحب نے کیا ہے کہ غالب ہندستانی فارسی گویوں عرفی، نظیری، ظہوری کا ذکر بار بار کرتے ہیں، مگر جامی، حافظ اور سعدی کا اتنا نہیں۔ یہ جواب غلط نہیں، البتہ ناکافی ہے۔ اس لیے کہ اس میں مقامی فکر سے غالب کے رشتوں کا ذکر ہے، بودھی فکر سے بلاواسطہ آگاہی کا نہیں (مگر اتنا معلوم ہے کہ بودھی فکر متصوفانہ رویوں اور سبکِ ہندی کی جدلیاتی دقیقہ سنجی میں پہلے ہی جذب ہوچکی تھی جس کا اعتراف اب ایرانی بھی کرتے ہیں، بالخصوص امیر فیروز کوہی نے ’فلسفۂ بودائی‘ کو نشان زد کیا ہے اور نارنگ صاحب نے اس کے حوالے کو ثبوت کے طور پر پیش بھی کیا ہے)۔ اس امر کا احساس نارنگ صاحب کو برابر رہتا ہے۔ چنانچہ وہ مزید اطمینان بخش جواب کی تلاش میں آرکی ثقافتی رشتوں کی تھیوری سے بھی بحث کرتے ہیں جو لاشعوری وجدانی عناصر پر زور دیتی ہے کہ مقامی جدلیاتی فکر و فلسفہ تو صدیوں پہلے سبک ہندی کے تار و پود میں پیوست ہوچکا تھا تبھی تو سبکِ ہندی، ایرانی سوادِ اعظم کی فارسی شاعری سے زیادہ پیچیدہ، فلسفیانہ اور مختلف قرار دی گئی۔ ادب میں سب کچھ ظاہر یا خارجی نہیں، بہت کچھ پنہاں بھی ہوتا ہے؛ اس کتاب میں یہ اصول بطور مرکزی خیال کی شق کے دہرایا گیا ہے، بلکہ ایک ایسا اصول معلوم ہوتا ہے، جس کی مدد سے نارنگ صاحب غالب کی شعریات اور ا س کے سرچشموں کی چشم کشا توجیہ کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی غالب کا مقامی روایات اور مٹی کی جڑوں سے رشتہ جس قدر شعوری تھا، اس سے بڑھ کر لاشعوری تھا، اور لاشعوری رشتے اگرچہ منظرِعام پر دکھائی نہیں دیتے لیکن زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔ مگر اس میں ایک دقت ہے۔ آرکی ثقافتی رشتے تو مشترک رشتے ہوتے ہیں۔ ان میں فقط غالب نہیں، ذوق و مومن، اور ان سے پہلے انشا و مصحفی، میر و سودا بھی بندھے تھے، پھر ان کے یہاں یہ اثرات کیوں نہ آئے؟ شاید اسی لیے نارنگ صاحب، اس بحث میں غالب کی اپنی انفرادیت اور جدت طبع کا ذکر لاتے ہیں (بے شک ادب میں ہر شخص نہ غالب ہوسکتا ہے نہ اقبال نہ شیکسپیئر۔ ہر عظیم فنکار کے ذہن کی تشکیل منفرد اور اپنے اپنے طور پر بھیدبھری ہوتی ہے)، غالب نے اپنے اظہار کے لیے بالکل ابتدائی ایام میں بیدل کا انتخاب کیا۔ میر و سودا یا انشا و مصحفی وذوق و مومن نے ایسا نہیں کیا۔ ماضی کی یا معاصر روایت کے کسی خاص پہلو کا انتخاب یا اس کے نامعلوم پنہاں اثرات ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اوّل یہ کہ ہر لکھنے والا ایک ہی طرح کا ذہن نہیں رکھتا، ایک ہی طرح کے انتخاب کا جوکھم نہیں اٹھاتا؛ ہر کسی کا مزاج الگ ہوتا ہے۔ اکثر تو آنکھیں بند کرکے روایتی طور پر وہ سب قبول کر لیتے ہیں جو انھیں زمانے اور ماحول سے ملتا ہے، جبکہ بعض منفرد لکھنے والے ماضی و عصر کی بہت سی روشوں کا انکار کرتے اور کسی خاص روایت کو منتخب کرتے ہیں، اور وہ بھی اس لیے کہ اس کے مانوس پن اور عامیانہ کے استرداد سے اپنے نامانوس و نادر تجربوں کو ظاہر کرسکیں۔ تخلیقی سطح اور افتاد و نہاد کا اپنا اپنا فرق ہوتا ہے۔ نابغۂ روزگار ہر کوئی نہیں ہوتا۔ غالب کا معاملہ اور ان کی باطنی آگ دوسروں سے الگ تھی۔ انھوں نے روزِ اول ہی سے بالقصد روشِ عام اور پیش پا افتادہ کو مسترد کردیا۔ یہ ایک انقلابی اقدام تھا۔ اس نکتے کو نارنگ صاحب نے کافی و شافی وضاحت سے پیش کیا ہے کہ کس طرح جو چیز اوروں کے یہاں ہیئتی مشاقی تھی، وہ غالب کے یہاں نشاط انگیز معنی آفرینی کا ذریعہ بن گئی۔ دوسروں نے خیال بندی کو لفظی بازی گری بنایا، جبکہ غالب کی سحرآفریں تخلیقیت نے اسے اعجازِ معنی بنا دیا۔ نار نگ صاحب کے ان دلائل کو جو چیز مستحکم کرتی ہے، وہ خود شعریاتِ غالب کی جدلیاتی وضع ہے۔ اگرغالب زبان کی آخری حدوں کو تحلیل کرتے محسوس ہوتے ہیں یا عام زبان کی معمولہ ہیئت کو شکست کرتے ہیں، اور شعر میں خاموشی کے بھید بھرے طلسماتی پیرائے خلق کرتے نظر آتے ہیں تو یہ حقائق اس بات کو باور کرانے کے لیے کافی ہیں کہ ان کا آرکی رشتہ شونیتا یعنی قدیمی غیرماورائی ارضیت اساس جدلیاتی حرکیات سے ہے، خواہ خود غالب کو اس کا احساس ہوکہ نہ ہو۔ تخلیق میں ’غیب‘ سے مضامین نہ آتے ہوں اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
اپنے تھیسس کو ثابت کر نے کے لیے نارنگ صاحب، صرف غالب و بیدل کے باہمی رشتوں کو واضح کرنے پر اکتفا نہیں کرتے۔ غالب اور بیدل میں فاصلہ تو نصف صدی سے بھی کم تھا۔ نارنگ صاحب کا موقف ہے کہ جدلیاتی وضع اور فکر و فلسفہ، ہندستانی شعریات کی اساس ہے۔ وہ برصغیر کی صدیوں کی ثقافتی تاریخ کے وجدانی احساس کو مسلسل سمجھتے محسوس ہوتے ہیں، جس میں اگر خلا ہیں بھی تو ان میں کچھ ایسے نقش بھی ہیں جن کی مدد سے خلا بھرے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ مقامی متصوفانہ، لوک ادب کی روایات (کبیر، تکارام، میرا، شاہ لطیف، نانک، بابا فرید، بلھے شاہ اور دوسروں) میں ان شعریاتی عناصر کو کارفرما دکھاتے ہیں، جن میں معنی کے معمولہ رخ کے برعکس نادر رخوں کی تخلیق کا سلسلہ ملتا ہے۔ اس کتاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں تکثیری ہندستانی شعریات کا واضح تصور پیش کیا گیا ہے؛ ایک ایسی شعریات جو صدیوں کے تہذیبی وجدانی عمل سے وجود میں آئی ہے، جس نے غیرمقامی اثرات بھی قبول کیے، مگر اپنی مٹی اور مقامی اساس کو بھی برقرار رکھا۔ وہ اسے کسی دوسری شعریات کے متقابل نہیں لاتے، تاہم اس کی تکثیری اور کشادہ معنی آفرینی کا وہی تصور پیش کرتے محسوس ہوتے ہیں، جو جدلیاتی شونیتائی حرکیات کا ہے، یعنی معنی سے زیادہ معنی کی تخلیق کی آگہی اور اس کی مدد سے آزادی و کشادگی کا نشاط انگیز احساس۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ آزادی تجریدی یا ماورائی نوعیت کی نہیں، بشری معنویت کی حامل ہے؛ ہر طرح کے میکانکی یا متعینہ نظریاتی جبر سے آزادی، یا ہر قسم کی تصادم انگیز جدلیات سے آزادی۔
نارنگ صاحب اپنے تھیسس کو ثابت کر نے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ غالب کی اردو اور فارسی شاعری کی قرأت و تعبیر کرتے ہیں۔ اس پر انھوں نے چار پانچ بھرپور باب صرف کیے ہیں اور درجہ بدرجہ غالب کے نسخوں کی باریک بیں قرأت کی ہے۔ انھوں نے اپنے پیش روئوں کی تعبیرات کو کہیں قبول کیا ہے، کہیں اختلاف کیا ہے اور کہیں ان میں اضافے کیے ہیں۔ انھوں نے تمام شارحین غالب کو پیشِ نظر نہیں رکھا۔ ان کا مقصود شارحینِ غالب کا محاکمہ نہیں تھا، تاہم انھیں غالب تنقید کے جو متن Canonical محسوس ہوئے، انھیں پیش نظر رکھا اور پوری فکری تازگی اور دلجمعی سے اپنے تعبیر و تجزیہ کو پیش کیا۔ وہ حالی، بجنوری، شیخ محمد اکرام اور نتالیہ پریگارینا کو غالب کے اہم ترین نقاد کے طور پر اپنی کتاب میں جگہ دیتے ہیں، اور حالی اور پریگارینا کو بہ طورِ خاص۔ انھوںنے ان دونوں سے استفادہ بھی کیا، اور ان کی قرأت کے متوازی اور متقابل اپنی قرأت بھی پیش کی ہے۔ نارنگ صاحب کا رویہ ان نقادوں کے قطعی برعکس ہے جو اپنے سے پہلوں کا حوالہ محض انھیں رد کرنے کے لیے لاتے، اور یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے پہلے سب غلط تھے۔ سب کو رد کرنا منفی رویہ ہے اور سب کو آنکھیں بند کرکے قبول کرنا اپنی نفی کرنا ہے۔ چونکہ نارنگ صاحب نے ایک واضح موقف، جو حرکیاتِ نفی کے انتہائی تکثیری جدلیاتی و تخلیقی تصور سے عبارت ہے، کے تحت مطالعہ کیا ہے، اس لیے ان کا رد و قبول بھی منطقی ہے اور کافی و شافی جواز رکھتا ہے۔
اس کتاب کی وساطت سے نارنگ صاحب نے ہمیں کچھ نئی تنقیدی اصطلاحات، اور ایک خاص طرح کے استدلال سے متعارف کروایا ہے۔ سب سے اہم اصطلاح شونیتا ہے؛ یہ تصور ہمیں غالباً پہلی مرتبہ قرۃ العین حیدر کے ’آگ کا دریا‘ میں ملتا ہے، مگر وہاں اس کا سیاق کرداروں کی داخلی صورت حال ہے، اور اس کی نوعیت ماورائی محسوس ہوتی ہے، جبکہ نارنگ صاحب نے اسے ایک جدلیاتی تنقیدی اصطلاح کا درجہ دیا ہے، گویا اسے ایک سیکولر معنی آفریں شعریاتی اصطلاح کا درجہ دیا ہے۔ اس کی مدد سے جس طرح آرٹ کی ’خاموش زبان‘ کا تصور ابھارا گیا ہے جو تمام تر معنی کا سرچشمہ ہے، اُن معانی کا بھی جو کسی تہ نشیں حقیقت کو پیش نہیں کرتے، بلکہ ایک محال و معمائی نیرنگِ نظر صورت کو پیش کرتے ہیں؛ اسے اردو تنقید کلاسیکی اور جدید شعریات کی تعبیر میں کام میں لاسکتی ہے۔ یہ تصور اس مابعدجدید موقف کے لیے بھی اجنبی نہیں کہ کوئی سچائی حتمی نہیں، بس ایک تشکیل ہے، ہر معنی محدود ہے، البتہ آرٹ کی خاموشی میں لامحدود معانی کی تخلیق کا امکان ہے، اور معانی کی تخلیق ہی میں آزادی اور تکثیریت ہے۔ صرف ایک ہی معنی اور اس کی حتمیت پر اصرار آمرانہ فاششٹی طاقت کی حرکیات ہے، اس کے لیے عام زبان یعنی ترسیل کی عامیانہ زبان کام میں لائی جاتی ہے، جبکہ جدلیاتِ نفی، یا زبان کی خاموشی، آرٹ کی حرکیات ہے، جو معنی کی بے کناریت کی علم بردارہے۔ نارنگ صاحب کے استدلال کی نوعیت سادہ منطقی نہیں، جمالیاتی، ثقافتی، تخلیقی جدلیاتی حرکیات کی حامل ہے؛ ہر ہر قدم پر وہ جمالیات، ثقافت اور ان کے حرکیاتی جدلیاتی رشتوں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہ کتاب غالب پر لکھی گئی دوسری کتابوں سے نہ صرف الگ بلکہ غالب کی معنویت اور شعریات کے یکسر نئے سیاق کو سامنے لاتی ہے۔ اسی لیے ہم نے اسے عام کتاب نہیں، غالب تنقید کی تاریخ کا ایک ’واقعہ‘ کہا ہے۔
m

Leave a Reply

5 × three =

Top