You are here
Home > Literature > پاکستان سے ابھرنے والی نئ اور توانا نسائی آواز میمونہ عباس خان

پاکستان سے ابھرنے والی نئ اور توانا نسائی آواز میمونہ عباس خان

عشق فنا نفس

مٹھی بھر نظمیں

میمونہ عباس خان کا تعلق پاکستان کے شمال میں واقع گلگت سے ہے۔ انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان سے انگریزی زبان وادب میں اور آغاخان یونیورسٹی کراچی سے ایجوکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے لیکچرر ہیں اور مقامی کالج میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔شاعری اور افسانہ نگاری سے انہیں خصوصی لگاؤ ہے جبکہ وقتاً فوقتاً نسوانی، سماجی اور فکری معاملات پر کالم نویسی بھی کرتی ہیں۔ قدرت کی گود میں پلی بڑھی ہیں اسی لیے قدرتی مناظرسے بے حد لگاؤ ہے۔خود کو پہاڑوں کی بیٹی کہتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں موجود کئی استعارے قدرتی حسن سے ماخوذ ہیں۔ ان کےہاں عورت اپنے روایتی کردار کے برعکس زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف بیباکی و جرات مندی سےسوال کرتی نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی نظموں میں وجودی معمے، تجربات اور احساسات نمایاں نظر آتے ہیں۔

۱
موت کس نے بانٹی ہے

رات کے اندھیرے میں
آج پھر دبے پاؤں
سرسراتی سرگوشی
پَھن اٹھا کے چلتی ہے
وقت، ریت کی مانند
ہاتھ سے پھسلتا ہے
نیند مجھ سے روٹھی ہے
بھوک رقص کرتی ہے
پیاس چبھنے لگتی ہے
سانس کیوں اٹکتی ہے؟
جھانکو میری آنکھوں میں
عکس دیکھ لو اپنا
اور مجھے یہ بتلا دو
کیا تمہیں کھٹکتا ہے؟
کیوں گریزاں ہو مجھ سے؟
کیا میں بوجھ لگتی ہوں؟
۔
کیوں مچل سی جاتی ہو
ہاتھ بھی بڑھاتی ہو
پھر پرے کھسکتی ہو
ہاتھ کھول دو میرے
بھینچ لو نا سینے میں!
گال چھونے دو اپنے
گر نہیں رہی کل میں
لمس تو رہے گا نا!
۔
یہ صدائیں کیسی ہیں
جن کی گونج سے میرے
کان سنسناتے ہیں
کس کی سسکیاں ہیں یہ؟
زندگی کی؟ ….. یا تم ہو؟
موت تو نہیں نا یہ؟
موت گر نہیں ہے یہ
آہٹیں ہیں پھرکس کی؟
کیوں گھٹن کا پہرہ ہے؟
کیا مجھے جنم دے کر
تم نے موت بانٹی ہے؟

۲

یونہی اک خبر نظر سےگزری تھی

“ایک بیوی رکھنا گناہ ہے” تو مجھے خیال آیا.….

وہ عورت “رکھ” سکتا ہے
کبھی بیوی، کبھی باندی سمجھ کر
اسے تالے میں رکھ کر
چابی ازار بند میں لے کر
دنیا گھوم سکتا ہے

کبھی ایسا ہوا
گر”وہ” زباں کھولے
کہے اُس سے
“مجھے بھی مرد رکھنا ہے
اجازت دو!!”
تو جانے کیا جواب آئے۔۔۔۔۔۔!

۳

ہوا کے دوش پہ

وہ ڈھیر کانچ کا تھا
کسی نے راکھ سمجھ کر جسےٹٹولا تھا
عجیب رنگ تھے رقصاں نگاہ کے آگے
ہتھیلی رِسنے لگی تو گمان سا گزرا
کہیں یہ خون کے چھینٹوں کی سرخیاں تو نہیں؟
مگر وہ درد کہاں ہے جو سُکھ نگلتا ہے
جو جسم و جان میں اترا ہے اب تھکن بن کر
کہیں سے آہ وبکا کی صدائیں آتی ہیں
یہ نیم اندھیرا بڑا کربناک لگتا ہے
بجھے ہوئے وہ شرارے ہیں یا کوئی آہو
پلٹ کے دیکھ تو لے!
راکھ، رنج، کانچ-
کہیں چبھ نہ جائیں آنکھوں میں
یہ وقت جس کے پلٹنے کی آرزو لے کر
ہوا کے دوش پہ آہیں اڑائے جاتا ہے

۴

“سرکس”

چلو پھر اپنے اپنے دائرے میں قید ہو لیں
جو سرکس ذات کے اندر لگا ہے
اُسے تسخیر کر لیں
تماشہ اپنا دیکھیں
بکھرتا ٹوٹتا سا خود کو دیکھیں
ذرا سی دیر گہرے درد کو محسوس کر لیں
پھر اپنے ہی مداری خود بنیں ہم
یہ پوری ذات اپنی انگلیوں پر خود نچائیں
چلو کرتب دکھائیں!
ذات کے اندر لگا سرکس دکھائیں
کہ اپنے دائروں میں ہی سجی ہے کائنات اپنی
چلیں پھر؟

اپنے اپنے دائرے میں قید ہونے؟

۵
جہان زادی کاا سٹیٹس

زمانہ کتنا بدل گیا ہے
مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے
کہیں محبت کا روپ دھارے
کہیں سلگتے یہ نفرتوں سے
کہیں پہ آنکھوں میں ریت بن کر
چبھن کی صورت رلا رہے ہیں
کہیں یہ برقی پیام بن کر
ہزار میلوں پہ چھائی دوری کے بادلوں کو ہٹا رہے ہیں
دلوں کی دھڑکن بڑھا رہے ہیں
روایتوں کو بدل رہے ہیں
وفا کے دھاگے جفا سے ہر دم الجھ رہے ہیں
اداس لمحے، خوشی و حیرت کی ساری گھڑیاں
دلوں سے باہر نکل کے ‘دیوار کا نوشتہ
محبت ازلی عظیم رشتہ
جو لاکھوں پردوں میں جگمگاتا تھا
اب “اسٹیٹس” پہ اشتہا کی خبر کی صورت بدل رہا ہے
کوئی بھی جذبہ، کوئی بھی رشتہ
نہ مستقل ہے،نہ معتبر ہے
پلک جھپکنے میں بدلے منظر
کہ جیسے کوئی جہان زادی تعلق اپنا بدل رہی ہو
نئی کوئی چال چل رہی ہو
جنوں کی اگلی جو منزلیں ہیں
وہاں پہ تصویریں آویزاں ہیں
دبی دبی مسکراہٹیں ہیں
گھٹی گھٹی سنسناہٹیں ہیں
جنون، احساس اور محبت
وقار اپنا مٹا رہی ہیں
بتا رہی ہیں
زمانہ کتنا بدل گیا ہے-

۶
دھند کے پار

دھند کے پَرے اک دن،
روشنی کے ہالے میں
وہ مجھے نظر آیا
جیسے دیوتا کوئی،
منتظر ہو داسی کا
میں نے روبرو ہوکر
اس سے التجا کی تھی!
دو گے روشنی اپنی؟
مستعار لینی ہے
ہر طرف اندھیرا ہے
میزبانی کرنی ہے
کچھ خراب حالوں کی
روح کی کثافت کا،
دل پہ بوجھ ہے جن کے،
چند زخم ایسے ہیں
جو کہ بھر نہ پائیں گے
گر نہیں ملے ان کو،
روشنی کےیہ ہالے

میری بات سن کر وہ!
مسکرا کے بولا تھا
بے نیاز شہزادی!
جان کیوں نہیں لیتیں!
روشنی کا روزن تو
صرف تم سےکُھلتا ہے
دھندلاتا ہر منظر
اس لیے تو واضح ہے
جھلملاتی یہ کرنیں
تم سے ہی تو پھوٹی ہیں
خود سے جوڑ لو خود کو
روشنی تو تم سے ہے۔۔۔۔۔!
۷
وہ میرا دیوتا
مندر کی پتھریلی دیواروں سے نکل کر
دلوں کی بستیاں آباد کرناچاہتا ہے
مگر یہ لوگ کیسے ہیں
بضد ہیں جو قفل ڈالے ہی رکھنے پر
دلوں تک جاتے رستے بند کرنے پر
اُسے پتھر کی دیواروں کے پیچھے قید رکھنے پر تُلے ہیں
زرا دیکھو انہیں تم
دلوں میں نفرتیں بھر کر،
اٹھا کر سر، یہ چلتے ہیں
اور اس پہ کھوٹ کی کالک چڑھا کر، مسکرا کر
سب سے ملتے ہیں
سجا کر اپنے ماتھے پر ،
نشاں سجدوں کے!
سب سے فخریہ کہتے یہ پھرتے ہیں
بڑے ہی متقی ہیں اور ذاہد ہیں
مگر ان کی قناعت، گریہ ذاری، ذاہدانہ پن
مرے اُس دیوتا کو پاس آنے کیوں نہیں دیتی؟
اسے سجدوں سے مطلب ہے، نہ میناروں، نہ اونچے مندروں سے
اسے بس دل بسانے ہیں
اور اس دنیا کو جنت میں بدلنا ہے
وہی جنت
جسے تم حوروں سے تشبیہ دیتے ہو

Leave a Reply

eighteen − 17 =

Top