You are here
Home > Health > پالتو جانوروں سے انسیت بچوں کو ڈپریشن سے بچاتی ہے

پالتو جانوروں سے انسیت بچوں کو ڈپریشن سے بچاتی ہے

ایک وقت تھا مشترکہ خاندان کی وجہ سے بچے اکثر اپنے دادا، دادی ، چاچا ، پھوپھی وغیرہ سے کافی مانوس ہو جایا کرتے تھےا ور ایسی بہت سی باتیںیا فرمائشیں ، جو کھل کر والدین سے نہیں کر سکتے تھے ، اس کا اظہار بہ آسانی گھر کے ان ہی بزرگوں سے کیا کرتے تھے ۔موجودہ سماج کی مصروفیت اور تیز رفتار زندگی نے ان رشتوں کو دور کر دیا ہے اور آج کے دور کے بچے خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ والدین دونوں ہی مصروف ہو جانے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ کم وقت گزار تے ہیں ۔ ان حالات میں گھر میں کسی پالتو جانور کا ہونا ان کی تنہائی کو کسی حد تک کم کرتا ہے اور بچے جانوروں سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہے ۔ جس گھر میں بلی ہوتی ہے اس گھر کے بچے بھی بلی کی طرح پھرتیلے اور ذہین ہوتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو بیمار ہوتے ہیں یا جن کے والدین علیحدہ ہو چکے ہوتے ہیں ان میں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بہن بھائیوں سے زیادہ اپنے پالتو جانوروں پر اعتماد کرتے ہیں ۔
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات میٹ کیسلز کہتے ہیں کہ نوجوان لوگوں کے احساسات کے متعلق پالتو جانوروں کے کردار کی اہمیت پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
کیسلز کہتے ہیں کہ ایسے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پالتو جانور ان کے کردار کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کریں گے۔انھوں نے برطانیہ میں دس سال تک 100 خاندانوں پر تحقیق کی ہے۔
کیسلز پوسٹ گریجویٹ سائکائٹری کے محقق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ نوجوان بچوں کی زندگیوں میں پالتو جانوروں کے مقام کو ٹھیک طریقے سے تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کی اہمیت کے پیمانے کا بھی مکمل طور پر اندازہ نہیں لگایا گیا۔‘‘
امریکہ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کے مطابق وہاں تقریباً دو تہائی بچے اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں جبکہ پانچ میں سے چار خاندان، جن میںا سکول جانے والے بچے ہوتے ہیں، ان کے پاس پالتو جانور بھی ہیں۔
جو بچے جذباتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، جیسا کہ کسی کی وفات کے بعد صدمہ، والدین کی طلاق، عدمِ استحکام اور بیماری، وہ اپنے پالتو جانوروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
میٹ کیسلز نے کیمبرج یونیورسٹی میں سینٹر فار فیملی ریسرچ میں کی جانے والی ایک طویل تحقیق کا تجزیہ کیا جس میں دو سال کی عمر سے بڑے بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا،پالتو جانوروں کی ملکیت کے متعلق معلومات اس وقت حاصل کی گئیں جب بچے 12 برس کے تھے۔
یہ بچے مشکل وقت میں نہ صرف سہارے کے لیے اپنے پالتو جانوروں کی طرف دیکھتے ہیں بلکہ وہ ایسا کرنے کواپنے بہن بھائیوں کی طرف رجوع کرنے سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
اگرچہ انھیں اس بات کا علم بھی ہوتا ہے کہ ان کے پالتو جانور یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کا تعلق اپنے ساتھیوں کی نسبت اپنے پالتو جانوروں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
پرانے دور میں جانور اور پرندے سواری، رکھوالی، شکار میں مدد کرنے والے، خوراک کے حصول جیسے اہم مقصد کو پورا کرنے کے لیے پالے جاتے تھے مگر موجودہ دور میں انہیں فوائد کے ساتھ ساتھ شوق کی خاطرپالا جاتا ہے ،بلکہ شہری علاقوں میں خاص طور پر شوق  ہی سے جانور پالے جاتے ہیں۔ مغرب کی دیکھا دیکھی جانور پالنا ہمارے معاشرے میں بھی فیشن کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
ویسے تو بہت سے جانور ہیں جو گھروں کی زینت بنتے ہیں مگر یہاں ہم چند اہم جانوروں اور پرندوں کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں گھروں میں پالا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی رہائش اور اپنے بجٹ کو مدنظر رکھ کر ان میں سے کسی بھی جانور کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
کتا
ویسے تو کتا رکھوالی کرنے کے کام آتا تھا مگر مغربی ممالک میں اس جانور کی جتنی آؤ بھگت کی جاتی ہے شاید ہی کسی اور جانور کے نصیب میں ہو۔ ہمارے معاشرے میں کتا معیوب جانور سمجھا جاتا تھا اور کتے کے قریب سے گزرنے کی دیر تھی کہ لوگ پتھر اٹھا لیا کرتے تھے، مگر اب مغربی ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی چند علاقوں میں کتا معتبر جانا جانے لگا ہے اور اسے گھروں میں پالنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔
گھریلو کتوں کو ابلا ہوا گوشت، ڈاگ فوڈ اور دودھ وغیرہ بطور خوراک دیا جاتا ہے۔ کتا ذہین جانور ہوتا ہے، لہٰذا اس کی تربیت کے لیے کتے کے ساتھ روزانہ مختلف گیمز کھیلینا، گراؤنڈ میں گھمانا ، گیند پھینک کر انہیں کھیلنا سیکھاناچاہیے ، اس سے وہ گھر کے ہر فرد سے مانوس ہو جاتے ہیں اور بچوں کے ساتھ کھیلنا بھی سیکھ لیتے ہیں ، ہاں مگر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اسے کسی قسم کا مرض نہ ہو اور وقتاً فوقتاً ڈاکٹر کو دکھایا بھی جائے اور ان کی صفائی کا خیال رکھا جائے ۔
بلی نرم و نازک اور معصوم اور بہترین پالتو جانور ہے۔ بلی سے آپ جتنا پیار کریں گے یہ آپ سے بھی اتنا ہی پیار کرے گی، آپ جب بھی گھر آئیں گے یہ آپ کی منتظر ہوگی، آپ سے خوب پیار لے گی اور کھیلے گی۔ بلیوں کو پسند کیے جانے کی ایک بڑی وجہ ان کی خود کو صاف رکھنے کی عادت بھی ہے۔ یہ روزانہ اپنی زبان سے اپنے پنجوں اور جسم کے مختلف حصوں کو صاف کرتی ہیں۔ بے پناہ ذہین اور پھرتیلی ہوتی ہیں ۔ بلی کے بچے بہت جلد انسان سے مانوس ہو جاتے ہیں اور خوب کھیلتے ہیں ۔
طوطے ان پرندوں میں سے ہیں جو کہ سبز، پیلے، سفید، نیلے سمیت دیگر رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ انسانوں کی طرح بولنے والے طوطوں کی نسلیں گھروں میں کثرت سے پالی جاتی ہیں، طوطے پالنے کا رواج زیادہ عام ہے، طوطے کی خوراک اور صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
گھروں میں پالے جانے والے پرندے ہوں یا کوئی بھی جانور، ان کی طبیعت بے حد حساس ہوتی ہے۔ ان کی چھوٹے بچوں کی طرح بھرپور دیکھ بھال کریں، ان کی خوراک اور آرام کا خیال رکھیں، شور اور آلودگی سے بھی بچائیں تو ان کا موڈ بھی ٹھیک رہے گا۔
گھر کے پالتو جانوروں اور پرندوں کی چھوٹے چھوٹے کام یعنی انہیں کھانا پانی دینا ، ان کی صفائی کرنا یا نہلانا وغیرہ یہ ایسے کام ہیں ، جنہیں گھر کے تھوڑے بڑے بچے کر سکتے ہیں ، بچوں سے یہ کام کروانے سے ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے پالتو جانور یا پرندے سے انسیت محسوس کرتے ہیں ، ایسے میں انہیں گھر میںکبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوتا ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے ، کہ جس گھر میں رنگ برنگی مختلف مچھلیاں فش ٹینک میں نظر آتی ہیں ، اس گھر کے افراد خون کے دباؤ کا شکار نہیں ہوتے ۔
جدید تحقیق سے ثابت ہے کہ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ وقت گزارنے اور انہیں پیار کرنے سے ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہےآپ بھی گھر میں موجود جانور کے ساتھ وقت گزاریں، اسے کھانا دیں،  وقت پر انہیں ٹیکے لگوائیں اور اس کا اپنے گھر کے فرد کی طرح خیال رکھیں۔ اس کی معصوم شرارتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں اور اپنے غم اور تنہائی کے اثر کو ختم کرتے رہیں ۔

Leave a Reply

1 × four =

Top