You are here
Home > Life > نظام قدرت سے کھلواڑ کا انجام

نظام قدرت سے کھلواڑ کا انجام

لڑکی سے لڑکا بن گئی اور فیشن ڈیزائنر شلپا سے شادی کر لی ، مگر اس کا انجام ؟

اکثر ایسی خبریں ہماری نظروں سے گزرتی رہیں ہیں کہ دو لڑکیوں میں دوستی یا دو لڑکوں میں دوستی اس حد تک پہنچ گئی کہ آپس میں شادی کا فیصلہ کر لیا ، یا اس خواہش کا اظہار کردیا ۔ اکثر دیگر ممالک میں جنس کی تبدیلی کے معاملات بھی پیش آئے ۔ ہمارے ملک میں بھی ایسی خبریں کبھی کبھار نظروں سے گزری ہیں ۔ کسی لڑکی نے اپنے اجداد کی وراثت کو حاصل کرنے یا وراثت کا صحیح مستحق بننے کے لیے سرجری کروا کے خود کو مرد میں تبدیل کر کے اجے مفت لال بنوا دیا ۔
ان دنوں ایسا ہی ایک معاملہ منظر عام پر آیا ہے کہ ہیزل نامی لڑکی نے سرجری کروا کے خود کو مرد بنوا لیا اور اپنا نام ہیزل سے نکھل کر دیا ۔ جنس تبدیلی اور نام تبدیلی کی تمام قانونی کارروائی یعنی گزٹ میں شامل کرنے کا مرحلے کے عمل سے بھی گزر چکے ۔ نکھل بظاہر ایک مردانہ زندگی جینے لگا ۔ اس کے بعد معاملہ درپیش تھا اس کی ازدواجی زندگی یعنی شادی کا ۔ چونکہ نکھل ایک دولت مند گھرانے یعنی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے تعلق رکھتا ہے ، اس لیے اس نے شادی کرنے کے لیے بھی اپنے شایان شان لڑکی تلاش کر لی یعی فیشن ڈیزائنر شلپا ۔ شلپا ایک مشہور فیشن ڈیزائنر ہے ۔ دونوں گھرانے اس شادی سے متفق تھے اور بڑی دھوم دھام سے یہ شادی ہو گئی ۔
شادی کے چند دنوں بعد ہی دونوں کے حالات کشیدہ ہونے لگے ، کیونکہ نکھل اپنی بیوی شلپا کو جنسی طور پر آسودہ کرنے میں ناکام رہنے لگا اور جب ناکام ہو جاتا ، تو اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہو جاتی ، اس صورت میں وہ شلپا کو مارنے پیٹنے لگتا ۔ اس طرح نکھل اور شلپا دونوں ہی کی زندگی عذاب ہو گئی ۔ شلپا روز روز کے اس ظلم اور جنسی نا آسودگی سے تنگ آ کر اپنے میکے چلی گئی اور تھانے کورٹ میں اپنے شوہر کے خلاف ڈومیسٹک وائلنس کا مقدمہ درج کروا دیا ۔ شلپا کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے نکھل کے اندر کی عورت بیدار ہو گئی اور اس نے باندرہ فیملی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے کہ وہ تو پیدائشی عورت ہے ،ڈومیسٹک وائلنس کا مقدمہ اس کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ شادی ہندو میریج ایکٹ سیکشن ۱۱ ؍ تحت باطل قرار دی جا سکتی ہے ۔ یہ شادی ہوئی ہی نہیں ۔ فیشن ڈیزائنر شلپا ٰکا یہ کیس ایڈوکیٹ عادل کھتری او ر نازنین کھتری دیکھ رہے ہیں ۔ ایڈوکیٹ عادل کھتری کا کہنا ہے کہ لڑکی یعنی شلپا کے ساتھ ڈومیسٹک وئلنس ہوا ہے ، اس صورت میںکیس درج ہو تاہے اور لڑکی کا شلپا کا مطالبہ ہے کہ اسے ہر ماہ ایک لاکھ روپے مینٹنیس دیا جائے ۔ لڑکے
نکھل کا کہنا ہے شلپا میری سرجری کے معاملے سے اچھی طرح واقف تھی اور اس نے روپے کے لالچ میں یہ شادی کر لی تھی ۔ ہمارے ملک میںیہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیس کیا رخ اختیار کر تا ہے ؟ کیا ایڈوکیٹ عادل کھتری اور نازنین کھتری شلپا کو انصاف دلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ یا یہ ازدواجی رشتہ ہندو میریج ایکٹ سیکشن ۱۱؍ کے تحت باطل قرار دیا جائے گا ؟ یہ کیس بھی شاید ہمارے ملک میں کوئی تاریخ رقم کر جائے گا ۔ بہر حال نظام قدرت سے کھلواڑ کا انجام یہ ہو سکتا ہے۔ ایسا کسی نے سوچا نہیں تھا ۔ قدرتی طور پر عورت یا مرد ہوتے ہیں وہ اپنی جنسی حیثیت میں مکمل ہوتے ہیں اور جو نا مکمل ہوتے ہیں وہ درمیانے رہ جاتے ہیں ۔ اب نکھل کا معاملہ کیا ہے وہ ہی جانے کہ وہ آدھا ہیزل اور آدھا نکھل تو نہیں ؟

شیریں دلوی

Leave a Reply

5 − 2 =

Top