You are here
Home > Literature > ناول ’تخم خوں‘ کی ’بلایتی‘: منفرد ناول کا عجیب و غریب کردار

ناول ’تخم خوں‘ کی ’بلایتی‘: منفرد ناول کا عجیب و غریب کردار

صغیر رحمانی کا شمار اردو کے ساتھ ہندی ادب کے بھی معروف فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔یوں تو انھوں نے اردو ہی میں لکھنے پڑھنے کا آغاز کیا اور اسی زبان میں اپنی شناخت قایم کی لیکن بعض وجوہات کی بنا پر اُن کی ابتدائی دو کتابیں ہندی میں شائع ہوئیں۔اردو میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’واپسی سے پہلے‘‘جب شائع ہوا تو اردو داں طبقے میں ان کے چند افسانوں کی دھوم مچی جس کی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔’واپسی سے پہلے‘،’مجھے بوڑھا ہونے سے بچاؤ‘،’شاہزادے کی پریم کہانی‘’،حبضی کی آدھی شلوار‘اور دوسری کہانیاں نئے ذائقے کااحساس دلاتی ہیں۔سست رفتاری سے افسانے رقم کرنے والے فکشن نگار نے ’’تخم خوں‘‘کی شکل میں اردو ادب کو ایک ناول بھی دیا ہے جو حال ہی میں نئی دہلی سے شائع ہوا ہے۔’’داڑھی‘‘کے عنوان سے ان کا ایک اور افسانوی مجموعہ بھی آیاہے۔خیر اس مضمون میں صغیر رحمانی کے رجحان ساز ناول’’تخم خوں‘‘کے نمائندہ کردار ’’بلایتی‘‘پر ساری توجہ صرف کرنی ہے جو اِس ناول کی جان ہے۔ اردوادب میں دلت موضوع کے حوالے سے ان دنوں وافر مقدار میں فکشن لکھا جا رہا ہے لیکن ایسے حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا وہ تمام فن پارے دلت آئیڈیا لوجی کے تحت لکھے جا رہے ہیں یا محض فیشن زدگی میں صفحات سیاہ کیے جارہے ہیں۔اس ضمن میں ایک بات عرض کرنی ہے کہ دلت موضوعات کو وہی فن کار بہتر طریقے سے پیش کر سکتا ہے جس نے دلتوں کے کرب کو جھیلا ہو،قریب سے محسوس کیا ہو اور ان کے بیچ اپنا قیمتی وقت اس لیے ضائع کیا ہو تاکہ وہ صورتحال کو بہتر طریقے سے سمجھ کر بیان کر سکے اور یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ صغیر رحمانی نے ’دلت مسائل ‘کو قریب سے محسوس کیا،دیکھا اورجھیلا ہے۔
اس ناول کے مرکزی کردار ’’بلایتی‘‘ایک المیاتی کیفیت سے دوچار ہے اور اس کی حالت میں کبھی تبدیلی نہیں آتی بلکہ کشمکش میں اضافہ ہوتا ہی جاتا ہے۔وہ دلتوں کے کنبے سے تعلق رکھتی ہے جس کا بنیادی کام زمینداروں،ساہوکاروں اور پنڈتوں کے گھر جا کر مزدوری کرنا ہے۔وہ ظاہری طور پر بندھوا مزدور نہیں ہے لیکن اس کی یا اس جیسی مزدوروں کی حالت بندھوا مزدوروں سے بھی بد تر ہے۔جب کوئی ساہوکار بلائے، تو حضور کے چوکھٹ پر حاضر۔انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔بلایتی کی ایک اور بھی پریشانی ہے،اس کی شادی کے دس سال ہوگئے ہیں لیکن وہ اولاد کے سکھ سے محروم ہے۔یہ ایک عورت کے لیے نہایت تکلیف دہ بات ہے۔ اس عورت کے لیے تو اور بھی زیادہ جو پورے گاؤں کی زچگی کراتی ہے اور ہر مصیبت زدہ شخص ایسے موقع پر بلایتی ہی کو یاد کرتا ہے۔عورت کی سرشت میں داخل ہے کہ وہ اپنی گود میں اولاد کو ہنستا کھیلتا دیکھنا چاہتی ہے اور اگر یہ خواہش پوری نہ ہو تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بلایتی ہر پیدا شدہ بچے کو ممتا کی نظروں سے دیکھتی ہے گویا اُسی کی اولاد ہو۔صغیر رحمانی نے بلایتی کی اسی کیفیت سے ناول کا آغاز کیا ہے۔’امیشور دت پاٹھک‘کے گھر دیوتا کا جنم ہوا ہے ،ٹینگر رام پیتل کی تھالی بجا رہا ہے اور بلایتی زچہ خانے میںاپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔بچے کو دیکھ کر بلایتی کا دل نہیں چاہتا کہ اُسے چھوڑ کر ایک پل کے لیے بھی کہیں جائے لیکن مالک کے حکم کی تعمیل میں گھر چلی تو جاتی ہے ، مگراس کا ذہن بچے کی طرف ہی لگا رہتا ہے۔اسی کشمکش میں بلایتی کی ملاقات ’اوجھا جی‘سے ہوتی ہے۔وہ بہت گیانی اور پہنچے ہوئے اوجھا ہیں جوگاؤں میں چند روز قبل ہی وارد ہوئے تھے،ان کی جٹائیں لمبی لمبی اور الجھی ہوئی تھیں اور آنکھیں ہر وقت انگارے کی طرح سلگتی رہتی تھیں۔اوجھا جی نے بلایتی کو دیکھتے ہی کہاتھا۔’’مرد کو ساتھ لے کر آ۔۔۔تیری سمسیا کا سمادھان ہوجائے گا۔‘‘بلایتی ٹینگر رام کو اوجھا جی کے پاس لے جاتی ہے۔وہ دونوں کی شکل دیکھتے ہی بولتا ہے کہ:’’کھیت ہی خراب ہے،بیج انکھوا نہیں پا رہا ہے،کھیت کسی براہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘‘بلایتی اوجھا جی کی باتوں کو سن کر شسدر رہ جاتی ہے لیکن وہ ہمت نہیں ہارتی بلکہ کسی ایسے برہمن کو تلاش کرنے لگتی ہے جو اُس کے کھیت کو شدھ کردے۔اس کی نظریں گاؤں کے براہمنوں میںپنڈت جی یعنی پنڈت کانا تیواری پر ٹھہرتی ہیں جو اس کام کے لیے موزوں نظر آتے ہیں۔وہ دل میں سوچتی ہے کہ پنڈت جی اگر اس کام کے لیے راضی ہوجائیں تو وہ اُن کااحسان زندگی بھر نہیں بھولے گی۔وہ ٹینگر کو ایک رات بے سدھ پڑا دیکھ کر چپکے سے پنڈت جی کے گھر نکل پڑتی ہے لیکن اُسے ناکامی ہاتھ لگتی ہے۔دوسری بار پنڈت جی کا بیٹا پوچھ بیٹھتا ہے کہ وہ کیوں آئی ہے؟تو بلایتی لاجواب ہوجاتی ہے۔تیسری بار وہ پھر ہمت کرکے پنڈت جی کے گھر جاتی ہے اور اپنا مدعا بیان کرتی ہے۔ملاحظہ ہو یہ اقتباس:
’پنڈت جی میرا کھیت شدھ کر دیجیے‘۔۔۔۔۔ اوجھاجی نے کہا تھا کہ کسی بابھن سے۔۔۔۔۔ ‘
یہ بات سنتے ہی پنڈت جی جزبز ہوجاتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں:
’ارے تو کیا چاہتی ہے، میں تیرا کھیت شدھ کروں؟ میں تیرے ساتھ سمبھوگ کروں؟ میں؟ ایک براہمن؟ ارے نیچ ذات ،کیوں میرا ستیا ناش کرنے پر تلی ہے؟ کیوں میرا کل ونش کا ناش کرنے پر تلی ہے؟ میں یہ نہیں کر سکتا،نہیں کر سکتا۔‘ انھوں نے غصے میں کہا۔‘‘
بلایتی کا کھیت شدھ کرانے کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اُس کی گود بھر جائے اور اولاد کے سکھ سے محروم نہ ہو۔وہ اولاد کی خواہش کو دل میں بسائے کچھ بھی نہیں سوچتی کہ وہ کسی غیر مرد سے رشتے استوار کر رہی ہے۔اسے تو اوجھا کے قول پر صد فیصد یقین ہے جسے ہم اندھی تقلید بھی کہہ سکتے ہیں کہ جیسا اوجھا نے کہا،اسے بلایتی نے آمنّا و صدّقنا کہا۔اگر اوجھا جی نے براہمن کی شرط نہیں لگائی ہوتی تو بلایتی کے لیے کھیت شدھ کرانا زیادہ آسان ہوتا۔وہ اپنے ہی قبیلے کے کسی مرد سے رشتے استوار کرلیتی لیکن ایسا کرنے سے اوجھا کی دھاک ’عوام‘کے دلوں سے نکل جاتی اور لوگ اسے چند ٹکوں کا بکاؤ اوجھا سمجھ بیٹھتے۔بلایتی ،پنڈت کانا تیواری کے چوکھٹ پر سر پٹک کر رہ جاتی ہے لیکن پنڈت پر اُس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ بلایتی کے اِس حرکت کو سازش کے طور پر قبول کرتا ہے اور یہی بات اُس کے ذہن میں کھٹکتی رہتی ہے اور پنڈت دوراندیشی اوراپنی دھاک گاؤں والوں پر بٹھائے رکھنے کی وجہ سے ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہتا جس سے اُس کی بدنامی ہو۔
یہاں صغیر رحمانی نے روایت سے انحراف کیا ہے۔عام طور پر گائوں میں جو اس طرح کے مزدور ہوتے ہیں،مالکان ان کا خوب استحصال کرتے ہیں۔خاص طور سے مزدور عورت کا جسمانی استحصال تو ایک دم عام ہے۔لیکن پنڈت کانا تیواری ایسا نہیں کرتا۔اس لیے نہیں کہ وہ کوئی پارسا انسان ہے بلکہ اس لیے نہیں کرتا کہ ایک براہمن یعنی ایک اونچی ذات کا تخم ایک شودر کی کوکھ میں گرے گا ۔اس تخم سے اگر کنیا کا جنم ہوتا ہے تواسکی شادی کسی شودر سے ہی ہوگی یعنی ایک براہمن کنیا کا بھوگ ایک شودر کریگا۔یہ برہمنزم ذہنیت کی انتہا ہے۔ جس کے ارد گرد صغیر رحمانی نے اس ۳۵۲ صفحے کے ناول کا تانا بانا بنا ہے اور خوب کامیابی سے بنا ہے۔
ٓاقتباس ملاحظہ ہو۔۔۔
’کچھ بھی ہو، پر میں یہ نہیں کر سکتا،نہیں کر سکتا۔‘
’پر کاہے؟ کاہے مالک؟ مالک لوگ تو۔۔۔۔۔ ؟‘
’ارے وہ مورکھ ہوتے ہیں۔ بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ان کی۔ پر میں نہیں کروں گا۔ تو میرا پیچھا چھوڑ۔‘ انھوں نے کواڑ بند کرنا چاہا۔ بلا یتی نے کواڑ کو پکڑ لیا۔
’پر کاہے مالک۔۔۔۔۔ ؟‘
اس کا یہ حوصلہ دیکھ کر پنڈت کاناتیواری پہلے تومتحیر رہ گئے پھر انھوں نے کہا۔
’کاہے؟ تو سن،ارے تو تو ٹھہری چرم کی پٹاری ۔تیرے ساتھ سن سرگ کرنے سے جو بوند گرے گی وہ ایک براہمن کی بوند ہوگی نا؟ اور اس سے جو اولادہوگی، وہ کیا ہوگی؟ براہمن کی اولاد ہوگی نا؟اور اگر کنیا ہوئی، وہ کیا ہوگی؟ برہمن پتری نا؟ اور اس کنیا کا بیاہ تو کرے گی اپنے کسی شودر سے۔ ایک برہمن پتری کا بھوگ ایک شودر کرے گا۔کرے گانا؟تو بول،اب بھی تیری بدھی میں بات آئی کہ نہیں؟‘ انھوں نے پھر کواڑ بند کرنا چاہا۔ بند ہوتے کواڑ کو بلا یتی نے پھر پکڑ لیا۔‘‘
یہاں ایک بات پتے کی یہ ہے کہ صغیر رحمانی نے اس ناول کے تھیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلا حصہ دو فرقوں کے مابین تضادات کے المیے کو بیان کرتا ہے اور دوسرا حصہ پہلے حصے سے ہی متصل ہے جو بلایتی کی نفسیاتی الجھنوں کو پیش کرتا ہے۔دو فرقوں کے مابین تضادات سے مراد زمانۂ جاہلیت سے چل ر ہی فرسودہ روایات ہے جسے کم از کم دوحصوں میں بانٹا جا سکتا ہے جس میں پہلا فرقہ دوسرے فرقے پر بے جا ظلم و ستم کرکے ذہنی سکون محسوس کرتا ہے۔ناول نگار نے پہلے حصے کو ناف کے اوپر والے اور دوسرے مظلوم فرقے کو ناف کے نیچے والے سے تعبیر کیا ہے۔پاٹھک جی کے ہاں بڑھاپے میں اولاد ہونے کی وجہ سے وہ کافی خوش نظر آتے ہیں اور یہ خوشخبری پنڈت کانا تیواری کو دینا چاہتے ہیں۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پنڈت کی باقی فرائض کی ادائیگی جلد کردیں۔ اس فرض کو انجام دینے کے لیے اپنے فرائض کے تئیں پوری طرح محتاط ان جملوں کو دہراتے ہوئے پنڈت کانا تیواری پاٹھک جی کے گھر جانے کی تیاری کر تے ہیں۔ وہ جلد سے جلد پاٹھک جی کے گھر پہنچ جانا چاہتے ہیں، اس سے قبل کہ کسی نچلی ذات پر اُن کی نظر پڑ جائے۔ ان کی گردن جھکی ہوئی تھی اور نظریں ان کے پیروں کے گرد سمٹ کر چل رہی تھیں۔ صبح کا وقت اور کسی کم ذات پر نظر پڑ جائے، بلکہ کسی چر ند پرند پر بھی نظر پڑ جائے تو پورا دن برباد۔ کسی بھی کام میں ہاتھ لگائو کامیابی نہیں ملنے والی۔ منہ سے ’ہرے رام ہرے کرشن‘ کا جاپ کرتے وہ تیز تیز پاٹھک جی کے گھر کی جانب بڑھتے جا رہے تھے۔ نظر با لکل پیروں کے سیدھ میں ہونے کی وجہ سے انھیں گز بھر آگے کی بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی۔جس کے نتیجے میںوہ ٹکراکر گر جاتے ہیں۔ کسی پیڑ، کسی کھمبے سے نہیں ، اتفاق ایسا کہ بلایتی سے۔ لمحہ بھر کو پنڈت کا نا تیواری مہک اٹھتے ہیںـ۔ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ باسمتی چاو ل کے کٹے ہوئے کھیت میں کھڑے ہوں لیکن دوسرے ہی پل انھیں وقت کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کاچہرہ ہلدی کی طرح زرد پڑ جاتا ہے گو یا اچانک وہ پیلیا کے مریض ہو گئے ہوں:
’’ہرے رام ہرے رام۔ ہرے کرشن، ہرے کرشن۔‘ پنڈت کا ناتیواری کو نچوڑو تو جیسے خون کی ایک بوند نہیں۔ پلک جھپکتے ہی سب کچھ ختم۔ منہ سے جاپ کی رفتار بڑھ گئی۔
’ما۔۔۔لک۔‘دوسری طرف بلایتی کو بھی جیسے لقوہ مار گیا۔
’میں پوچھتا ہوں، صبح صبح ٹکرانے کے لیے تجھے میں ہی ملا تھا؟‘ پنڈت کا ناتیواری غصے میں منہ سے جھاگ اڑانے لگے۔
بلایتی پر گھبراہٹ طاری تھی۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔
’ہرے رامـ،ہرے کرشن۔‘پنڈت کا ناتیواری اپنے کپڑے جھاڑنے لگے۔’ نشٹ کرکے رکھ دیا تونے مجھے۔ ہرے رام،ہرے رام۔ نا جانے آج کیسا اپ شگون ہونے والا ہے؟‘
’مالک گلتی ہو گئی۔ میں تو سیدھی راہ آرہی تھی۔آپ کی ہی نجر اتنی نیچی تھی کہ۔۔۔۔‘‘
صغیر رحمانی نے ویدک عہد کے اُس تصور کو بیان کیا ہے جب عوام شدت سے اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ ہر انسان کو بھگوان نے اپنی اپنی حیثیت دی ہے اور وہ اُس عہدے یا سچویشن کو قبول کرنے کو تیار ہے۔ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ یہ سب پچھلے کرموں کا ہی پھل ہے جسے وہ اِس زندگی میں کاٹ رہے ہیں۔یہ تصور آج بھی کچھ بدلا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے مختلف ادبیات میں ’دلت‘موضوع اپنی ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔اردو ادب میں بھی یہ تصور اَب عام ہو چلا ہے اور دلت ادب کا تصور بھی عام ہو چکا ہے۔صغیر رحمانی نے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس موضوع کو اپنے عمدہ ناول’تخم خوں‘میں اس کرب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔پنڈت جی نے بلایتی کو محض اس لیے دھتکار دیا کہ وہ چمائین ہے اور اونچی ذات والے یعنی ناف کے اوپر والے ، اپنے ماتحت کو کمتر ،رذیل اور بد ذات سمجھتے ہیں۔
پنڈت گاؤں کا ایک تیز طرار اور شاطر شخص ہے جو موقعے سے فائدہ اٹھانا اچھی طرح جانتا ہے۔وہ گاؤں میں اپنا رعب تو جماتا ہی ہے،دوسرے گاؤں کے لوگ بھی اُس کی عزت کرتے ہیں۔شہر میں بھی وہ اپنی حیثیت منوانا خوب جانتا ہے۔اسے ضروری کاموں سے ’بلاک‘ جانا ہی پڑتا ہے تو وہاں بھی بی ڈی او صاحب سے تعلقات استوار کرتا ہے اور سیڑھی کے طور پر بلایتی کو استعمال کرتا ہے۔بی ڈی او کو جب جنسی خواہشات کی تکمیل کرنی ہوتی ہے تو براہ راست پنڈت سے رابطہ کرتا ہے اور وہ بلایتی کو بی ڈی او کے پاس لے جانا موزوں سمجھتا ہے۔مطلب یہ کہ بلایتی کے کھیت کو خود پنڈت شدھ نہیں کرتا کیوں کہ اس عمل سے اُن کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا لیکن موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بلاک کے بی ڈی او صاحب سے بلایتی کے متعلق بات کرتا ہے تو بلایتی کا نام آتے ہی رس گلے کا رَس بی ڈی او صاحب کے منہ میں ایسے سرک جاتا ہے کہ اُن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا ہو۔پنڈت اپنے مفاد کے لیے بلایتی کا استعمال کرتا ہے لیکن ٹینگر اور بلایتی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔بی ڈی او،جو بہ ذات خود چھوٹی ذات کا ایک سرکاری ملازم ہے جسے نشے میں چور کرکے اپنا کام نکلوانا پنڈت کانا کو خوب آتا ہے۔ پنڈت ایک طرف بی ڈی او کو بلایتی کی قربت کا واسطہ دیتا ہے تو دوسری طرف ٹینگر کو چمڑے کی سیاست سے آگاہ کرتا ہے۔جب شوہر ہی اس بات کے لیے راضی ہو تو بلایتی آخر کیا کر سکتی تھی،لہٰذا وہ بادل نا خواستہ اس عمل کے لیے راضی ہوجاتی ہے۔اس کشمکش کو بیان کرتے ہوئے صغیر رحمانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
’’پھاٹک کے اندر تانگا داخل ہوا تو بلایتی کا کلیجہ دھک دھک کرنے لگا۔پنڈت جی نے بلایتی کو دیکھا۔ اس بار بلایتی نے بھی آنکھیں اٹھائیں اورپنڈت جی کو دیکھا۔ ٹینگر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اندر جانے کے لیے کہا۔وہ گردن جھکائے سادھو کے ساتھ اندر چلی گئی۔
اس کے اندر جاتے ہی ٹینگر بے چین ہونے لگا۔ بے چینی میں وہ برآمدہ میں ٹہلنے لگا۔کبھی ہاتھ آگے کرتا کبھی پیچھے باندھ لیتا۔پھر اس نے لرزتی آواز میں پنڈت جی سے پوچھا، ـ’مالک، کچھ گڑبڑ نہیں ہوگا نا۔۔۔۔۔؟‘
پنڈت جی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے، چونکے اور بولے،’ نہیں رے، گڑ بڑ کیا ہوگی۔۔۔۔۔؟‘ ابھی وہ مزیدکچھ کہنے والے تھے کہ اند ر سے سادھو واردہوا۔ اس نے گہری نظر سے پنڈت جی کو دیکھا۔ پنڈت جی کے چہرے پر اطمینان کا تأثر پھیل گیا۔ انھوں نے ٹینگر سے کہا، ’’ٹینگر، تم ایک کام کرو، پتا نہیں کتنی دیر لگے، تم بے کار اپنی روزی روٹی خراب کروگے، جائو جاکر کچھ کما دھما لو، تب تک بلایتی یہیں رہے گی۔ شام کو آکر اسے لے جانا۔‘
’ـلیکن مالک۔۔۔۔۔؟‘ ٹینگر کے چہرے پر الجھن کے آثاردکھائی دینے لگے۔
پنڈت جی اسے تب تک دیکھتے رہے جب تک وہ تانگا لے کر آنکھوں کی حدسے غائب نہ ہو گیا۔
’ اب میں چلتا ہوں سادھو۔۔۔ خیال رکھنا۔۔۔اس وقت صاحب سے ملنے کوئی نہ آئے۔۔۔‘
ـ ’ آپ بے پھکر جائیے نا ہجور۔۔۔ای سب آپ کو سمجھانا نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔‘ سادھو کے چکٹ چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔‘‘
ناف کے نیچے والوں کا ایسا استحصال شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ یا تو وہ بہ ذات خود اس عمل کے لیے مائل ہوتے ہیں یالوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اُن کی عزت کوئی عزت نہیں ہوتی ہے۔ٹینگر ،اپنے مفاد کی خاطر بے خیالی میں بلایتی کی عزت خطرے میں ڈالتا ہے۔پنڈت تو اس بات کو محسوس ہی کرتا ہے کہ بی ڈی او بلایتی کا کیا حشر کرے گا۔وہ اس کام کے لیے بلایتی کا انتخاب اس لیے بھی کرتا ہے کہ وہ بلایتی کی نفسیات سے واقف ہے ۔شام کو جب بلایتی کا شوہر،اسے لینے آتا ہے تو اس کے بعد کے واقعے کو ناول نگار نے علامتی انداز میں بیان کیا ہے ۔ناہموار راستے سے تانگے کا گزرنا،بلایتی کے جسم پر سانپ کا رینگناگویا وہ چندن کا پیڑ ہو،سانپ کے جسم سے کھال کا الگ ہونا،تھوتھنا رگڑنا،منہ سے پھنکار پھینکنا،سارا جسم لعاب سے چپ چپ کرنا اور بلایتی کے جسم سے سسکاری کا نکلنا۔۔۔۔۔یہ سب علامتی پیرائے ہیں جسے صغیر رحمانی نے نہایت خوبصورتی سے برتا ہے۔یہ وہ باتیں ہیں جو بلایتی تانگے پر بیٹھ کر سوچتی رہتی ہے اور رومانی کیفیات سے محظوظ ہوتی رہتی ہے جسے جنسی کشش بھی کہہ سکتے ہیں۔اسی اثنا ٹینگر، بلایتی سے سوال پوچھ بیٹھتا ہے کہ حاکم نے اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟تو بلایتی کو وہ منظر یاد آجاتا ہے جب سانپ کا دانت، جس کا زہر اگلنے میں وہ پورا دن ناکام رہا تھا ، فالج زدہ چوہے کی طرح جھول رہا تھا تو وہ فوراً جواب دیتی ہے کہ’’منہ سے چپڑ چپڑ۔‘‘وہ واقعی بول رہی تھی ۔ٹینگر بھی بول پڑتا ہے:
’’ اس عمر میں چپڑ چپڑ نہیں کریںگے تو اوئور کا کریںگے؟
’ نہیںسرف ہرس تھا بڈھے کا۔‘وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
’ ارے ایساکیسے ہو سکتا ہے کہ سرف ہرس ہو،کچھ بھی نہیں کریں۔کچھ کرنے کے لیے ہی تو بلایا تھا انہوں نے۔ہو سکتا ہے پھر باد میں۔۔۔‘
بلایتی نے بھاری پلکوں کو اٹھا کر اسے دیکھا۔
’ ایگو بات کہیں؟‘
وہ دھیرے سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔
’ ایگو کا ،دس گو کہو۔‘
وہ مستی میں جھوم کر بولا۔
’ ای ٹھیک نہیں۔اب میںاونہاں نہیں جائوںگی۔‘ مشکل سے وہ کہہ پائی۔
تجھے ہی سب بجھاتا ہے کا؟ اب تو جیادہ چپڑ چپڑ مت کر۔۔۔۔۔‘
وہ ٹینگر کا منہ تکتی رہ گئی۔‘‘
مالک بننے کی خواہش اور ہوس میں ٹینگر کو ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے جو کام کروارہا ہے،وہ غلط ہے۔اس کے ذہن میں تو فقط یہ بات سوار ہے کہ گاؤں کے لوگ اس کے محکوم ہیں اور وہ حاکم۔جب کہ اُسے یہ نہیں معلوم تھا کہ پنڈت اپنے مفاد کے لیے ٹینگر کو استعمال کررہا ہے۔اس بات کا انکشاف ٹینگر کو اس وقت ہوتا ہے جب گاؤں کے ہسپتال میں جانوروں کی دوائیاں آتی ہیں تو اُن دوائیوں کو کانا تیواری چوری کرواتا ہے تاکہ پورے گاؤں کے جانور مر جائیں اور اُسے چمڑے کا منافع ہو۔دوائیاں صحیح وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے گاؤں کے بیشتر جانور مر جاتے ہیں اور ٹینگر کا شیرا بھی دم توڑ دیتا ہے۔پولیس آتی ہے اور ٹینگر کو اٹھا کر جیل میں ٹھونس دیتی ہے۔جیل سے چھوٹنے کے بعد ٹینگر پنڈت سے پہلا سوال یہی کرتا ہے کہ’’ہجور!آپ کے جانور کیوں نہیں مرے تھے؟‘‘اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ ٹینگر کو اَب اس بات کا احساس ہوچلا ہے کہ پنڈت کو اُس نے خواہ مخواہ کی عزت دے رکھی تھی۔حقیقت سامنے آنے کے بعد پنڈت اور اُس طبقے کی مخالفت زور و شور سے شروع ہو جاتی ہے،گاؤں کے دلتوں کی تنظیم بنتی ہے،نیتا آتے ہیں اور سیاسی باتیں ہونے لگتی ہیں۔بی ڈی او نے جس مزروعہ زمین کے کاغذات گاؤں والوں میں تقسیم کیے تھے،گاؤں کے پنڈت حضرات اُن زمینوں پر کسی بھی حال میں قبضہ دینے کو تیا ر نہیں ہیں۔دلتوں کے حقوق جب نہیں ملتے تو گاؤں کے اکثر لوگ نکسل تحریک سے منسلک ہوجاتے ہیں جس کا الگ قصہ ہے۔اس ضمن میں بلایتی کی بات کی جائے تو وہ دلتوں کی تنظیم اور نیتا جی کی مہم کو مسترد کرد یتی ہے۔گاؤں والوں کا اصرار ہوتا ہے کہ کوئی بھی مزدور پنڈتوں کے ہاں مزدوری نہیں کرے گا لیکن بلایتی اس کی مخالفت کرتی ہے کیوں کہ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ ’’ہر شخص انھیں استعمال کر رہا ہے۔‘‘وہ اپنی مرضی سے پنڈت کانا تیواری کے ہاں کام کرنے جاتی ہے۔گاؤں کے مرد حضرات ماحول کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔
بلایتی کا پنڈت کانا تیواری کے گھر سے کافی پرانا رشتہ ہے اور وہ رشتہ من جی باباسے ہے۔من جی بابا پنڈت کانا تیواری کی اکلوتی اولاد تھی۔ پیدایشی معذور۔ جس کے دونوں پیر، دونوں ہاتھ اور گردن جنم سے ہی ٹیڑھی تھی۔ چلتے تھے تو ٹانگیں پھینک پھینک کر، جیسے میدان میں گیند کھیل رہے ہوں۔ بلایتی کو شروع سے ہی ان سے ہمدردی تھی۔ اب سے چھہ سات سال قبل جب پنڈتائین کا انتقال ہوا تھا، وہ صرف نو سال کے تھے۔ نو سال کی عمر اور اوپر سے ٹیڑھے میڑھے۔ گو موت بھی خود سے کرنے سے قاصر تھے۔ بلایتی نے ان کا گو موت تک کیا تھا۔پھر و ہ اپنی شہر والی موسی کے ہاں چلے گئے اور تب سے وہیں رہ رہے تھے۔ گاہے بہ گاہے چند دنوں کے لیے گائوں آتے اور پھر واپس ہو جاتے تھے۔کئی بار تو ایسا ہوا تھا کہ بلایتی رات کے سناٹے میں پنڈت سے ملنے آتی تھی تو من جی بابا سے اُس کی مڈبھیڑ ہوجاتی تھی اور وہ الٹے سیدھے سوالات کی بوچھار کر دیتے تھے۔بلایتی کا پنڈت کے پیچھے پڑنے کا بس ایک ہی مقصد تھا کہ اوجھا جی کا قول صحیح ہوجائے لیکن پنڈت اس کا غلط مطلب نکالتا تھا۔وہ دوراندیش ہونے کی وجہ سے یہی سوچتا تھا کہ اُس کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا،ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ نیچی ذات سے تعلق رکھتی تھی۔جب کبھی وہ کھیت شدھ کرنے کی بات کرتی تو وہ کچھ اس طرح سے دھتکار دیتا:
’’ارے نیچ ذات! اب میں تجھ سے کیا کہوں؟ تم لوگ تو سر پر چڑھ کر موتنے لگے ہو۔ اصل میں قصور تم لوگوں کا نہیں ہے۔ یہ سب ’لال جھنڈین‘ کروا رہا ہے۔ ان ہی سبوں نے تم لوگوں کو ہاتھی کے کان پر چڑھا رکھا ہے۔کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں رہے ہو تم لوگ۔ جو منہ میں آ رہا ہے، بول بک دے رہے ہو لیکن میں بھی کہہ رہا ہوں۔یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو جس سازش کے تحت یہاں آ رہی ہے، اس میںمیں تجھے کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ اب توجا یہاں سے ۔‘‘
پنڈت کانا تیواری کا خیال عام پنڈتوں کے خیال سے کافی ملتا تھا۔اس کی نظر میں جنم لیتے ہی براہمن پرتھوی پر شریسٹھ ہے کیوںکہ وہ دھرم کی رکشا کر سکتا ہے۔ پرتھوی پر جو کچھ بھی ہے وہ سب کچھ برہمن کا ہے۔برہماکے مکھ سے اتپن تتھا کلین ہونے کی وجہ سے وہ پرتھوی پر کے سارے دھن کا ادھیکاری ہے اور دوسرے سارے لوگ براہمن کی دیا کی وجہ سے سبھی چیزوں کا بھوگ کرتے ہیں۔ اگر براہمن نندت کرموں میں لگا ہوا ہو تو بھی ہر طرح سے پوجنے کے قابل ہے کیوں کہ برہمن سب سے اتّم دیوتا ہے۔۔۔۔‘‘
من جی بابا سے اتنے پرانے تعلقات ہونے کی وجہ سے بلایتی کبھی اُسے چھیڑ دیتی ہے تو کبھی مذاق کرتی ہے۔گیہوں کی کٹائی کے دنوں میں جب کم لوگ کام کرنے آتے تھے،تو بلایتی اور من جی بابا کے جسمانی تعلقات استوار ہوگئے۔یہ سب اچانک کیسے ہوگیا،بلایتی کو احساس تک نہ ہوا۔وہ مزاحمت بھی نہ کر سکی کیوں کہ وہ اس کی امید کبھی نہیں کر سکتی تھی۔بلایتی کی درانتی کھر کھر چل رہی تھی۔اس کی نظر درانتی کی رفتار پر ٹکی ہوئی تھی۔کہتے ہیں، ہر کسی کی دو ، عورتوں کی تین آنکھیں ہوتی ہیں۔تیسری آنکھ جسم کے کس حصے میں ہوتی ہے ، اس کا علم صرف عورت کوہوتا ہے۔بلایتی کی اس پوشیدہ آنکھ نے دیکھا،کوئی شے اُس کی کمر کے برہنہ حصے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پھر اس نے محسوس کیا، وہ اس کی کمر میں چبھنے لگی ہے۔ وہ ایک دم بے چین ہو اٹھی۔اس نے مڑ کر دیکھا اوربرجستہ اس کے منہ سے نکلا۔’ من جی بابا آپ۔۔۔؟‘
’ ہاں ہمی ہیں۔۔۔آد ہی آئے ہیں۔۔۔تم دھان تاٹو۔۔۔تاٹو۔۔۔‘ ان کی نظر پھر پھسل کر اس کی کمر پر چلی گئی۔
عورتوںمیں مزید ایک خصوصیت ہوتی ہے۔ وہ نگاہوں کی زباں خوب سمجھ لیتی ہیںاور ان کی قوت حس غیر معمولی طور پرمستحکم ہوتی ہے۔خصوصاًاگر اُس کا تعلق جسم سے ہو تواسے وہ لمحہ کے سویں حصے میں بھانپ جاتی ہیں۔ممکن ہے اتنا ہی وقفہ لگا ہوگابلایتی کو بھی سمجھنے میںمگر اس نے اسے اپنے دل کا وہم سمجھا۔من جی بابا کو وہ اس وقت سے جانتی ہے جب وہ اس کی گود میں گو موت کر دیتے تھے۔ اس نے اس وہم کو جھٹک دیا اور درانتی چلانے میں مصروف ہو گئی۔مگر ساتھ ہی اس نے ، نہ جانے کس خیال کے تحت اپنی کمر کے اس برہنہ حصے کے گردساڑھی کا آنچل لپیٹ لیا۔
من جی بابا شام کے ڈھلنے تک وہیں رہے۔بلایتی کو کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔من جی بابا جب سے آئے تھے ، کچھ بول نہیں رہے تھے۔یہ معمولی نہیں بڑی عجیب بات تھی۔یہ کیسے ممکن تھا ، من جی بابا جسمانی طور پر موجود ہوںاور کسی سے کچھ بولیں نہیں، الجھیں نہیں۔بلایتی نے کئی بار اُن کی طرف دیکھا،ہر دفعہ ان پر سنجیدگی طاری رہی۔بلایتی اس تبدیلی کو محسوس کر رہی تھی۔کئی بار، اس نے سوچا،انہیںچھیڑے۔یہ کوئی مشکل بھی نہ تھا۔ ’ من جی بابا آپ تپ تاہے ہیں۔۔۔؟‘ صرف اتنا ہی کہہ دینے بھر کی تو دیر تھی۔پھر تو انھیں قابو میں کرنے کے لیے گائوں سے لوگوں کو بلوانا پڑتالیکن سوچ کر بھی وہ انھیں چھیڑ نہ سکی۔کٹی ہوئی فصلوں کا بوجھا بنا کراُس نے سر پر رکھا تو دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھ گئے اور سینے کے ابھار نمایاں ہو اٹھے۔من جی بابا کی گدھ نظر مجروح ہونے لگی۔اس دفعہ بلایتی کو ذرا بھی وہم نہیں ہوا۔ من جی بابا کی آنکھیں بدل گئی تھیں۔من جی بابا بدلے بدلے سے تھے۔ اس نے اپنی آنکھوں کے کناروں سے دیکھا اور سر پر بوجھا لیے کھلیان کی جانب چل دی۔
یونہی بلایتی کی نظر من جی بابا کی طرف اٹھ گئی۔وہ اندر تک سہر اٹھی۔ من جی بابا وہ تھے ہی نہیں، یہ کوئی اور من جی بابا تھے۔ ایک ٹک اسے گھورتے ہوئے۔’ کا ہو گیا ہے من جی بابا کو۔۔۔؟ اس بار جو سہر سے آئے ہیں،ایک دم ہی بدل گئے ہیں۔۔۔‘ سوچتی، الجھتی وہ بال پوچھتی رہی اور یکلخت۔۔۔۔۔من جی بابا نے اسے پکڑ لیا۔’ ای کا کر رہے ہیں من جی بابا۔۔۔؟چھوڑئیے۔۔۔چھوڑئیے۔۔۔۔‘ اس نے احتجاج کیا مگر حیران رہ گئی کہ اندر سے اسے مزاحمت کی قوت نہیں محسوس ہو رہی تھی۔وہ کاٹھ بن گئی تھی یا پھر اندر سے جمتی جا رہی تھی۔
’ تھنو۔۔۔تھنو۔۔۔میری بات تھنو۔۔۔‘ من جی بابا اسے اپنے حصار میں جکڑ رہے تھے۔’ من جی بابا۔۔۔کا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔؟‘ خفگی اورغیر یقینی نے اس کی آواز کو ناتواں بنادیا تھا۔اس کی مزاحمت کو کھوکھلا کر دیا تھا۔
’ تھالی تلّاتی تاہے ہے۔۔۔؟ تلّائو مت۔۔۔تلّائو مت۔۔۔‘من جی بابا میں نہ جانے کیسی طاقت آ رہی تھی۔ان کا شکنجہ سخت اور تنگ ہوا جا رہا تھااور آخر کار، انھوںنے اسے پوال پر زیر کر دیا۔اور بلایتی، اس کے اندر کی قوت کو نہ جانے کیا ہو گیا۔ ذہن میں خلابھر گیا اور اس میں سائیں سائیں ہوا چلنے لگی۔ہاتھ پیر گویا مفلوج ہو گئے ۔چلانے کی کوشش کی تو حلق سے آواز باہر نہ آ سکی۔چت پڑی رہی ۔ اس حالت میں کب تک رہی ،اسے کوئی اندازہ نہیں۔‘‘
بلایتی جو چاہتی تھی،وہ ہوا بھی اور نہیں بھی ہوا۔وہ اس طور پر کہ اوجھاجی نے کسی پنڈت سے کھیت شدھ کرانے کو کہا تھا ،وہ تو ہوگیا لیکن بلایتی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پنڈت کا نا تیواری کا مفلوج لڑکا ،جو کسی کا م کا نہیں،وہ اس کے ساتھ بلاتکار کرے گا اور ایسا لڑکا جسے،بلایتی نے بچپن سے پالا ،پوسا ہو۔وہ احتجاج تو نہ کرسکی لیکن گاؤں کے ماحول کو دیکھتے ہوئے بلایتی نے اپنی برادری کے لوگوں میں یہ بات مشتہر کردی۔گاؤں کے کارکنان کو ایک اچھا موقع میسر آیا اور انھیں ’ بلایتی بلات کار کانڈ‘ کو ایک بڑا مدعا مل گیا۔گاؤں بھر میں میٹنگیں ہونے لگیں۔بلایتی سے سوالات کے بوچھار ہونے لگے۔پنڈت چاہتا تھا کہ اس ’کانڈ‘کو چھپا دیا جائے لیکن من جی بابا مشتعل ہو اُٹھتے تھے اور بلا دریغ کہتے تھے کہ’ ـ’ میں نے بلات تال تیا ہے۔۔۔میں نے بلات تال تیا ہے۔۔ ۔ بلایتی تھیت تہہ لہی ہے۔۔۔ پتا دی دھوت بول لہے ہیں۔۔۔۔‘‘ اب پنڈت کو یقین کامل ہو گیا کہ اُس کے بیٹے نے یہ کارمانہ انجام دیا ہے تو وہ بلایتی سے نرمی سے پیش آنے لگے اور سمجھا بجھا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ حمل کسی طرح ساقط کرادے۔پنڈت نے دوائی کی شیشی دی اور کھانے کو کہا۔بلایتی نے دوائی تو نہیں کھائی لیکن اس راز کو بھی چھپائے رکھا۔تب پنڈت نے مشورہ دیا کہ شہر جاکر کسی میم صاحب سے صاف کروالے۔انھوں نے عجلت میںکرتے کی جیب سے روپے نکالے اور بلایتی کو پکڑا دیے۔بلایتی کھڑی رہی، ہتھیلی کے روپیوں کو مسلتی رہی یہاں تک کہ روپے گیلے پڑ گئے۔بلایتی حمل ساقط کرانے سے رہی البتہ ٹینگر کے ساتھ شہر جا کر دونوں نے مستی کی اور واپس گھر آگئے۔
اس کے بعد پنڈت کانا تیواری کے ذہن میں یہ سازش سوجھی کہ کسی بھی طرح بلایتی اور اس کی کوکھ میں پلنے والے بچے کو مار ڈالا جائے۔اس گھناؤنی حرکت کے لیے اس نے کئی بار حملے کیے جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔حملہ کرنے کے لیے پنڈت اور اس کے گروپ نے رات کا انتخاب کیا تاکہ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہو۔ایک بار تو ایسا ہوا کہ پنڈت،بلایتی کے روبرو تھا اور بلایتی ،خوف وتشدد کے حصار میں تھی۔یہ وہی بلایتی تھی جس نے پنڈت اور پنڈت کے خاندان کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی لیکن آج وہی پنڈت ماضی کو فراموش کرکے،بلایتی کو جان سے مارنے کے درپے تھا۔اس کا یہی کہنا تھا کہ’’ مجھے تو صرف تجھے ختم کرنا ہے کمینی۔۔۔سنتان کو جنم دے گی۔۔۔؟برہمن سنتان کو۔۔۔؟لنکا تباہ کرے گی۔۔۔؟بانر سینا بنا ئے گی ۔۔۔؟‘ ‘لیکن یہاں بھی بلایتی،ظلم کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور بائولے سانڈ کی مانند پنڈت کانا تیواری بلایتی کی تلاش کر رہے تھے۔چارپائی کے نیچے۔۔۔کوٹھیلا کے اندر۔۔۔شہتیرکے او پر۔۔۔۔
مگر بلایتی وہاں تھی کہاں؟ وہ تو ٹولے سے باہر کھیتوں میں گھسٹتی جا رہی تھی۔ ٹینگر اُسے گھسیٹتا ہوا لیے جا رہا تھا۔کہاں جا رہا تھا، کس سمت میں جا رہا تھااسے ذرا بھی ہوش نہ تھا۔اس سانحے کے کچھ ہی لمحوں کے بعد گائوں کے مرد عورتوں نے اس کے گرد حلقہ بنا لیا تھا اور اس دھرتی پر ناف کے نیچے والی اور ناف کے اوپر والے کے اشتراک سے ایک نئے دیوتا نے جنم لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ ٹینگررام پیتل کی تھالی بجا رہا تھا اور اس کی آواز ببھن گاواں کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ چھن۔۔۔چھن۔۔۔چھنا چھن ۔۔۔ چھن ۔۔۔چھن ۔۔۔ چھنا چھن۔۔۔ ۔‘‘
ناول ختم ہوتے ہی بلایتی کے تعلق سے کئی سارے سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں جس میں پہلا سوال تو یہی ہے کہ بلایتی یہ جانتے ہوئے کہ کسی غیر مرد کے ساتھ رشتے استوار کرنا نا قابل معافی ہے،وہ کیوں پنڈت کے پیچھے پڑی رہتی ہے؟تو اُس کا سیدھا سا جواب اس طرح سے دیا جا سکتا ہے کہ ہندو عقائد میں برہمن کو ایک رہنما کی حیثیت حاصل ہے اور دوسرے یہ کہ ان کے مذہب میں یا دوسرے مذاہب میں بھی جہاں علم کی کمی ہوگی،وہاں غلط عقائد راہ پائیں گے اور یہی بلایتی کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔اوجھا کے قول کو صحیح مان کر وہ بس یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ سارا قصور اُس کے شوہر یعنی ٹینگر کا ہے۔اسی لیے وہ پنڈت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتی ہے۔ اس جنون کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بلایتی اولاد کے سکھ سے محروم ہے۔ایسے حالات میں بھی وہ چمین کا کام کرتی ہے ۔وہ بچے کی لالچ میں ہر بچے کو اپنا تصور کرکے خوب جی لگا کر خدمت کرتی ہے۔اس کی حد تو اُس وقت ہوتی ہے کہ جب پاٹھک جی کے ہاں بڑھاپے میں اولاد ہوتی ہے تو بلایتی للچائی نظروں سے بچے کو دیکھتی ہے اوراپنانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔اس کے علاوہ جب بستگیا بہو کا انتقال ہوجاتا ہے تو دیڑھ سال کی چھٹکی کو گود لینے کے لیے بلایتی بہت للچاتی ہے لیکن بستگیا اس کام کے لیے راضی نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ گاؤں میں کہیں بھی پیدائش کا جشن منایا جاتا ہے تو بلایتی کی نیند اچاٹ ہوجاتی ہے،نیند اُس سے کوسوں دور ہوجاتی ہے اور اس کے سامنے صرف بچہ ہی ہوتا ہے۔یہ باتیں بلایتی کی المناکی کی طرف واضح اشارے کرتی ہیں۔
غور کیا جائے تو صغیر رحمانی کے اس ناول میں ایسے مسئلے پر قلم اٹھایا گیا ہے جو ہندستانی معاشرے میں ناسور کی طرح ہے اور زمانۂ جاہلیت سے اب تک اس تشدد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ پنڈتوں کے آشرم سے لے کر نفرت کی آگ بھڑکانے والے سیاست دانوں تک پورا معاشرہ دو متضاد قومی نظریوں میں منقسم ہے اور صغیر رحمانی کے اس ناول میں ایک ایسے نازک مسئلے کی نقاب کشائی کی ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی شکل اختیار کرچکا ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک کسی خطرناک دہانے کی جانب روں دواں ہے۔دلت ڈسکورس پر لکھی جانے والی تخلیقات میں ’تخم خوں‘شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے کہ اردو میں لکھی جانے تحریروں میں یہ ناول سب سے منفرد اور الگ ہے۔اسلوب کے لحاظ سے بھی اور ہیئت کے اعتبار سے بھی اس کی انفرادیت مسلم ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ صغیر رحمانی کا شاہکا رناول’’تخم خوں‘‘کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔یہ مضمون یوں تو بلایتی کے اردو گرد گھومتا ہے اور اُسی کے کردار کو مد نظر رکھ کر تحریر کیاگیا ہے لیکن ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو پورا ناول بلایتی کے ہی ارد گرد تانے بانے بنتا ہے جہاں ایک طرف وہ اولاد کی خواہش کے لیے کسی بھی حد تک جا نے کو تیار ہے تو دوسری طرف اس کے اندر انسانیت کا جذبہ بھی کار فرما ہے،اسی لیے تو وہ چمین کا کام کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے۔اس لیے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ دلت موضوع کا احاطہ کرتے ہوئے یہ ناول اردو ادب میں لکھی گئی تخلیقات میں شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔
٭٭٭

محمد غالب نشتر،رانچی

Leave a Reply

3 × 2 =

Top