You are here
Home > Literature > نئے ناول کا بیانیہ

نئے ناول کا بیانیہ

شموئل احمد

 

mob; 9835299303

اسی (۸۰ )کی دہائی میں اردو ناولوں کی پیش رفت تیز ہوئی ہے ۔اس دوران اچھے ناول تو لکھےا گئے لیکن بڑا ناول نہیں لکھا گیا۔ بعض ناول نگاروں کے نزدیک ابھی بھی ناول کا روائتی ڈھانچہ مقدّم ہے ۔وہ پریم چندی گھیرے کو توڑ نہیں سکے ۔ اسی طر ح ر وائتی انداز میںناول کی کہانی مکالمے کے سہارے آگے بڑھتی ہے ۔ کردار نگاری اور واقعات نگاری میں کوئی جدّت نظر نہیں آتی ۔ناول کی تنقید اس معنی میں غیر معتبر رہی کہ ناول کو کبھی فنّی سطح پر پرکھا نہیںگیا ۔ناول کے کنٹینٹ پر ہی ہمیشہ گفتگو ہوئی، اس کے فن پر نہیں ۔
دو باتیں ہیں ۔ کنٹینٹ اور پیش کش ۔ کنٹینٹ لاکھ بھاری بھرکم ہو پیش کش کمزور ہے تو ناول بڑا نہیں ہو سکتا۔اور کنٹینٹ بھی نیا کیا ہوگا ؟ سب کچھ تو لکھا جا چکا ۔ ہم ہزار بار لکھی ہوئی چیزوں کو ہی دہراتے ہیں ۔مہا بھارت ، الف لیلیٰ، کتھا سرت ساگر داستان اور شیکسپیر کے ڈراموں کے بعد آپ نیا کیا لکھیں گے ؟ صرف پیش کش نئی ہو سکتی ہے ۔
پہلے شہنشاہوں کا جبر تھا آج حکمرانوں کا جبر ہے ۔ پہلے شہنشاہ دربار عام لگاتے تھے آج مکھ منتری دربار عام لگاتا ہے ۔پہلے منگولیوں اور تاتاریوں کا خوف تھا ۔ آج امریکہ کا خوف ہے۔ چنگیز خاں اور ہلا کو خاں نے گھوڑے کی ٹاپوں سے زمین کو روند ڈالا تھا۔ آج امریکہ بموں کے کارپیٹ بچھاتا ہے اور اعراق اور افغانستان کو جلا کر خاک کر دیتا ہے ۔چوری ڈاکہ ذنی لوٹ مار اور زنا کاری اور عام آدمی کا استحصال۔۔۔۔۔منظر نامہ وہی ہے۔ کچھ نہیں بدلا۔ آدمی وہی ہے ۔ اس کا غصّہ اس کی نفرت ، محبّت اس کا انتقام اس کی رقابت اس کی دوستی سب وہی ہے۔جب کچھ نہیں بدلا تو آپ نیا کیا لکھ رہے ہیں ؟
ناول کو جو چیز بڑا بناتی ہے وہ ہے موضوع کا تخلیقی اظہار، بیانیہ کی جدّت ، اور یہ کہ کس طرح ناول کی کہانی بنی گئی ۔ پیش کش اگر روایتی اور فرسودہ ہے تو ناول کچرا ہوگا فن پارہ نہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ناول نگار نے کتنے متاثر کن اندازسے موضوع کو پیش کیا ہے ۔ہمارے ناول نگار سمجھتے ہیں کہ ناولوں کا انبار لگا دینے سے وہ بڑے ناول نگار ہو گئے ۔ لابی کے تحت وہ دوستوں سے خود پر مضامین لکھوانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن ایسی شہرت دائمی نہیں ہوتی۔ قاری سمجھتا ہے کہ کون سی تخلیق کس پائے کی ہے ۔ ایسے ناول آنے والے وقتوں میں بھلا دیئے جاینگے ۔ کیا وجہ ہے کہ جب اردو کے بڑے ناولوں کا زکر ہوتا ہے تو خدا کی بستی ، آگ کا دریہ، گریز ، ٹیڑھی لکیر اور آنگن سے بات آگے نہیں بڑھتی ؟
ہمارے ناول نگار تشبیہات ۔ استعارے ۔ منظر کشی ۔ نفسیات درون بینی اور تصویر کشی سے بہت کم کام لیتے ہیں ۔ مکالمے کا سہارا لیتے ہیں اور حقائق کو قاری پر تھوپنا چاہتے ہیں ۔ جب کردار نگاری کرتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ کردار کیسا ہے ’’ دکھاتے ‘‘ نہیں ہیں۔ میں ناول کیچلی کی مثال پیش کرنا چاہوں گا ۔کیچلی میں نسوانی کردار کا شوہر مفلوج ہو جاتا ہے ۔بیوی شوہر کی خدمت کرتی ہے ۔ غضنفر لکھتے ہیں کہ ’’ اس نے شوہر کی ایسی خدمت کی کہ مدر تھریسا کو بھی مات دے دی ۔ ‘‘ پھر کہانی آگے بڑھ جاتی ہے اور منظر نامہ بدل جاتا ہے ۔یہ کیسا بیانیہ ہے ۔؟؟ غضنفر ’’ بتاتے ‘‘ ہیں کہ اس نے خدمت کی ’’ دکھاتے ‘‘ نہیں ہیں ۔تخلیقیت بتانے میں نہیں ہے ۔ تخلیقیت دکھا نے میں ہے ۔ بتانا تو رپورٹنگ ہے ۔انہیں کوئی منظر دکھانا چاہیے تھا۔ مثلاّ شوہر کھانس رہا ہے اور کھانستے کھانستے بے دم ہو جاتا ہے ۔ بیوی دوڑ کر جاتی ہے ۔اس کا سینہ سہلاتی ہے۔ شوہر بلغم اگلتا ہے تو ہتھیلی پر روکتی ہے اور بلغم باہر پھینک کر ہتھیلی صاف کرتی ہے اور اس کا سر سہلاتی ہے ۔ہاتھ پاوں دباتی ہے۔فضلہ صاف کرتی ہے ۔ پیشاب کی تھیلی پھینکتی ہے۔ بدن کو بھیگے کپڑے سے اسفنج کرتی ہے ۔اس کے کپڑے بدلتی ہے ۔ رات بھر سرہانے بیٹھی اونگھتی رہتی ہے ۔لیکن غضنفر کچھ بھی نہیں دکھا پاتے ہیں اور یہ کہہ کر شارٹ کٹ سے نکل جاتے ہیں کہ اس نے ایسی خدمت کی کہ مدر تھریسا کو بھی مات دے دی ۔یہ جملہ ان کی تخلیقیت پر حرف لاتا ہے ۔
حسین ا لحق کا بھی یہی حال ہے ۔ناول فرات میں نوجوان تبریز اپنی گرل فرینڈ سے انگریزی میں کہتا ہے ۔
I want to foke you ”
حسین لفظ fuck کو foke لکھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔بات ختم ہو جاتی ہے ۔شائد حسین کہنا چاہتے ہیں کہ تبریز نئی نسل کا نوجوان ہے اور گرل فرینڈ سے جسمانی رشتہ رکھنا چاہتا ہے ۔حسین کو یہاں منظر نگاری سے کام لینا چاہیئے تھا۔وہ زرا دکھاتے کہ تبریز گرل فرینڈ کو اپنی بانہوں میں کھینچتا ہے ۔ وہ کسمساتی ہے اور تڑپ کر اس کی بانہوں سے نکل جاتی ہے ۔لڑکا پھر کوشش کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کس کر پکڑتا ہے اور اسے چومنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لڑکے کے ناخن لڑکی کے ہاتھ میں گڑ جاتے ہیں۔ وہ بے حد غصّے میں لڑکے کا چہرہ پرے کر دیتی ہے ۔تب لڑکا چیختے ہوئے کہتا ہے ۔۔ آئی وانٹ ٹو فک یو ۔ ‘‘ تو بات سمجھ میں آتی کہ لڑکا کس مزاج کا ہے ۔لیکن حسین ایک جملہ انگریزی میں لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں وہ بھی غلط اسپیلنگ کے ساتھ۔بات اگر انگریزی میں ہو رہی ہے تو اسے رومن رسم ا لخط میںکیوں درج کریں گے ۔ اسے اردو رسم ا لخط میں ہونا چا ہیے ۔حسین نے بیس سال بعد فرات کا نیا ایڈیشن شائع کرایا ہے ۔ ہو سکتا ہے اس میں ترمیم کر لیا ہو لیکن فرات ناول نہیں طویل افسانہ ہے ۔اس میں ہر کردار کی اپنی الگ کہانی ہے وہ بھی ادھوری ۔کردار خود بہ خود اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں۔ پتہ نہیں چلتا ان کا کیا حشر ہوا۔واقعات آپس میں مربوط نہیں ہیں۔صرف ایک نسوانی کردار کو زندہ جاوید کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ فسادیوں سے لڑتی ہوئی ماری جاتی ہے ۔حسین اسے شہادت کا درجہ دیتے ہیں اور کربلا سے جوڑتے ہیں اور جھوم جھوم کر مرثیہ پڑھتے ہیں ۔یہ سب قاری پر تھوپنے جیسا ہے ۔
عبدالصمد اپنے سپاٹ بیانیہ کے لیےجانے جاتے ہیں۔ ان کے تقریباّ ایک درجن ناول منظر عام پر آ چکے ہیں لیکن اسلوب میں ابھی تک کوئی ندرت پیدا نہیں ہوئی ۔ابھی ان کا ایک ناول ’’ اجالے کی سیاہی ‘‘ شائع ہوا ہے۔ ناول میں وہی سب باتیں ہیں جنہیں ہم اخباروں میں روز پڑھتے ہیں۔اخبار کی کترن سے بھی ناول کی کہانی بنی جا سکتی ہے لیکن صمد کا بیانیہ اتنا سپاٹ اور غیر دلچسپ ہے کہ صفحات چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں تو ناول کی قرات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔’’ اجالے کی سیاہی ‘‘ کا موضوع مسلمانوں کے مسائل ہیں۔لیکن ناول نگار کا کوئی ویژن سامنے نہیں آتا۔بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر ناول نگار کہنا کیا چاہتا ہے ۔کہانی ایک سادہ لوح انسان مولوی فضل امام کے گرد گھومتی ہے جو مسجد میں امام ہیں لیکن زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ دینی معلومات بہت کم ہے ۔ان کے دو بیٹے ہیں فہیم اور قسیم ۔فہیم غم جاناں میں الجھ کر لو جہاد کا شکار ہو جاتا ہے اپنے معاشرے اور مسائل کو لے کر قسیم کے ذہن میں چند سوالات کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ ایک دن وہ کاغذ کا ایک ٹکڑہ مولوی فضل ا مام کے سامنے رکھتا ہے جس پر کچھ سوالات درج ہیں۔ فضل امام کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے ۔صمدبھی نہیں بتاتے کہ سوالات کیا ہیں۔بس کاغذ کا ایک ٹکڑہ ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ہے ۔ آ خیر آ خیر تک یہ عقدہ نہیں کھلتا ہے کہ وہ سوالات کیا ہیں جو نوجوانوں کے دل و دماغ پر ضرب لگاتے ہیں۔ قسیم غم دوراں سے گزرتے ہوئے دہشت گردوں کی صحبت اختیار کر لیتا ہے ۔اور اپنی شد بد کھو بیٹھتا ہے۔پولیس قسیم کو دہشت گرد سمجھ کر گرفتار کرتی ہے۔ مولی صاحب کے گھر پر چھاپہ پڑتا ہے ۔قسیم کے پاس سے ایک لیپ ٹاپ بر آمد ہوتا ہے جس میں بہ قول ناول نگار عجیب و غریب باتیں بھر ی ہیں ۔یہ راز بھی نہیں کھلتا کہ یہ عجیب و غریب باتیں کیا ہیں۔ اصل میں ناول نگار کو خود پتہ نہیں ہے کہ وہ مسائل کیا ہیں جو نئے اذہان کو پریشان کرتے ہیں اور تخریب کاری کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ناول نگار نے دہشت گردی کا ذکر بہت سرسری طور پر کیا ہے۔ کردار کی نفسیات میں بھی اترنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔واقعات اخبار کی رپورٹ کی طرح بیان ہوتے ہیں جو قاری کو بے چین نہیں کرتے اور نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔صمد نے لو جہاد کے بیان میں جدّت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ محبت موبائل پر گفتگو تک محدود ہے ۔ لڑکا فون پر محبت کا اظہار کرتا ہے ۔ لڑکی شبہات میں مبتلا رہتی ہے آخر کار چوری پکڑی جاتی ہے۔ لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی ہوتی ہے ۔ اس کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ لڑکی بھی خود کشی کر لیتی ہے ۔
ناول نگار کو اپنے کردار سے پوری ہمدردی ہے۔ وہ مولوی فضل امام کو ٹوٹنے نہیں دیتے۔ وہ ان کی سوچ بدل دیتے ہیں۔ فضل امام کو اچانک احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی مسجد کے امام صحیح لیکن اپنی بات کہنے کے لیئے یہ ممبر بھی کہاں سب کو نصیب ہوتا ہے ۔ صمد لکھتے ہیں ’’ مولوی فضل امام کو لگا کہ وہ اچانک اپنی سطح سے کچھ اوپر اٹھ گئے ہیں۔۔۔‘‘ مولوی فضل خود کو ایک بدلا ہوا انسان محسوس کرتے ہیں اور تمام شکست خوردگی کے باوجود بھی وہ زندگی کو جینے کے لائق سمجھنے لگتے ہیں ۔یہ سب قاری پر تھوپنے جیسا ہے۔ یہ احساس بیانیہ کے بطن سے نہیں ابھرتا ۔
مشرف عالم ذوقی کے ناول نالہ شب گیر کا موضوع ہے ’’آزاد عورت ‘‘ ۔ ذوقی سائمن ڈی بوار سے بہت متاثر نظر آتے ہیں اور اپنے ناول کا خمیر بوار کے اس قول سے تیّار کیا ہے کہ ’’ عورت پیدہ نہیں ہوتی، عورت بنائی جاتی ہے ۔‘‘
یہ مفروضہ گمراہ کن ہے۔عورت میں اصل چیز ہے ’ نسائت ‘ ۔ سائمن ڈی بوا نے اپنی تصنیف دی نیچر آف سکنڈ سیکس میں اسی نسایئت کی بازیافت کی ہے ۔ وہ اگر کہتی ہے کہ عورت پیدا نہیں ہوتی بنائی جاتی ہے تو ایک طرح سے مرد اساس معاشرےمیں مرد کی جارہیت کے خلاف احتجاج درج کرتی ہے ۔ لیکن سماج عورت میں نسائت پیدا نہیں
کر سکتا۔ ہر عورت اپنا یہ وصف خود لے کر پیداہوتی ہے ۔کسی میں اس کی شدّت تیز ہوتی ہے کسی میں مدھم کسی میں خاموش ۔سائمن ڈی بوار کی یہ نسائت ہی تھی کہ وہ سارتر کو چھوڑ کر میکسکو چلی جاتی ہے اور ایک گھٹیا ادیب کے ساتھ اس کے سیلن زدہ کمرے میں تین ماہ گزار کر آتی ہے ۔ ذوقی طنز کرتے ہیں کہ مرد ہمیشہ اپنی مردانگی کے ساتھ جیتا ہے ۔مرد کو مردانگی کے ساتھ جینا بھی چا ہیے اور عورت کو اپنی نسائیت کے ساتھ۔ نسائیت سے مراد دبّو ہونا یا کمتر ہونا نہیں ہے ۔ مردانگی کے معنی جنسی تشدّد نہیں ہے ۔
ناول کے شروع میں ناول نگار نے ایک وضاحتی نوٹ لکھا ہے ۔ عنوان ہے ’’ کچھ نالہ شب گیر کے بارے میں‘‘ مقصد ہے ناول تک قاری کی رہنمائی ہو سکے ۔لیکن ذوقی کوئی نئی بات نہیں کہتے ۔ وہی مرد کی جارحیت اور عورت کے آہ و فغاں کا رونا روتے ہیں ۔ وہ عورت کے امپا و رمنٹ کے قائل نظر آتے ہیں اور معاشرے میں اسے با وقار اور بے باک دیکھنا چاہتے ہیں ۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر ادیب عورت کے تیئں مخلص ہے اور اسے با وقار دیکھنا چاہتا ہے ۔ اردو ادیبوں نے تو مرد کی ذات ہی کو ،کوسا ہے ۔ بیدی کی نظر میں ہر مرد دشاشن ہے ۔ کرشن چندر نے عورت کو بے وفائی کا حق دیا ہے اور منٹو ایک طوائف میں بھی با وقار عورت کی بازیافت کرتا ہے ۔ مارکیز عورت کو عقلمند اور مرد کو احمق تصّور کرتا ہے۔ ذوقی نے ناہید ناز جیسا نسوانی کردار خلق کیا ہے جو پیداہوئی لیکن عورت بنائی نہیں جا سکی۔یہ آزاد ہے ۔ اسے مرد کی بالادستی قبول نہیں ہے۔ بیوی ہونا پسند نہیں ہے ۔ یہ عورت سماجی قواعد بدلنا چاہتی ہے ۔ ۔وہ سمجھتی ہے کہ صدیوں سے عورتوں پر روا مرد کے ظلم و ستم کا بدلہ وہ اسی طرح لے سکتی ہے کہ قدم قدم پر مرد کی تذلیل کرے ۔ناہید ناز مصنّف کی آیئڈیل عورت ہے جو اپنے رویّے میں آزاد ہے اور جس طرح چاہے مرد سے انتقام لینے میں حق بہ جا نب ہے ۔لیکن ذوقی اپنے اس کردار سے صرف دشنام طرازی کا کام لیتے ہیں۔ وہ منہ پھٹ اور بد تمیز ہے وہ اپنے غصّے کا اظہار بھونڈے پن سے کرتی ہے اور وہی گھسی پٹی باتیں سناتی ہے ۔شائد آزاد عورت کا یہی تصور ذوقی کے ذہن میں ہو۔
ناہید ناز کے چند مکالمے ملاحظہ کیجیے۔
’’ مرد سو غلطیاں کرے تو پاک صاف، عورت غلطیاں کرے تو آپ چرتر ہین کلٹا، فاحشہ رنڈی
اور پتہ نہیں کن ناموں سے پکارنے لگتے ہیں۔میرے مطابق یہ تمام نام آپ کے ہونے چاہیے
مردوں کے نام ۔۔۔۔رنڈی مرد۔۔۔بھڑوا مرد۔۔۔۔کلٹا مرد۔۔۔۔فاحشہ مرد۔۔۔۔ آپ نے کائنات کے سبسے حسین تصّور پر اپنی گندگیاں، بدصورتی اور خامیاں چھپانے کے لیے میل ڈال دی۔۔۔مجرم تو
آپ ہوئے۔ ‘‘
’’ مذہب آپ کے گندے انڈرویئر میں ہوتا ہے اور مرد جب تب عورتوں کے استحصال کے لیے مذہب کو اسی انڈر ویئر سے نکال لیتے ہیں اور مجھے مذہب معاشرہ اور آزادی کا خوف نہ دکھایئے
آپ جیسے جونا گڑھ کے ہجڑوں نے مذہب کو عورت کو سماج کو صرف اپنی ملکیت سمجھ رکھا ہے ۔ یہ
وراثت ایک دن آپ سے چھین لی جائے گی ۔‘‘
’’ ماں باپ ہیں تو ایک حد میں رہنا چاہیے، انہیں کیوں کہ جب ہم بڑے ہوتے ہیں
تو ہماری اپنی زندگی کی شروعات ہو جاتی ہے جو ہمیں اپنے طریقے سے جینی ہوتی ہے۔ ‘‘
’’ دنیا کے زیادہ تر ماں باپ اپنے بچّوں کے لیے ایک دقیانوسی ماں باپ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے وجود کو مشکل سے تسلیم کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘

ذوقی وضاحتی نوٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’ نا فرمانی کی پہلی کہانی دنیا کے پہلے انسان یا پہلے پیغمبر حضرت آدم کی بیوی حضرت حوّا سے شروع ہو جاتی ہے ۔‘‘ ذوقی غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔ پہلی نا فرمانی ابلیس کی ہے جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ۔یہ انسان کے خلاف پہلی سازش تھی جو آسمان میں رچی گئی ۔
ذوقی نے اسلوب میں جدّت پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی ہے ۔ لیکن جگہ جگہ ان کی مداخلت فن پر ضرب لگاتی ہے ۔ تخلیق کو تخلیق کار سے زیادہ ذہین ہونا چاہیے ۔ ذوقی کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیق سے زیادہ ذہین نظر آتے ہیںَ اور اپنے قاری کی آئی۔ کیو پر شک کرتے ہیں۔ اس لیے بیانیہ میں جگہ جگہ تشریحی نوٹس بھی لگاتے ہیں ۔ اس طرح وہ آگے آگے چلتے ہیں اور کہانی پیچھے پیچھے چلتی ہے ۔
بیانیہ کے شروع میں تخلیقیت کا رنگ جھلکتا ہے لیکن ذوقی اسلوب کا آہنگ برقرار نہیں رکھ سکے۔ لہجہ اچانک خطیبانہ ہوجاتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی دانشوری قاری پر تھوپنا چاہتے ہیں ۔یہ دانشوری بیانیہ کے درون سے نہیں ابھرتی بلکہ کسی ڈاکومنٹری کا حصّہ معلوم ہوتی ہے۔ جگہ جگہ مغربی ادب کے غیر ضروری حوالے ملتے ہیں۔
چند اقتباسات ملا حظہ کیجیے ۔
’’ ایک کالج کی لڑ کی جو صبح سویرے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک خالی بس میں بیٹھی
اور بس میں سوار پانچ لوگوں نے بے رحمی کے ساتھ بوائے فرینڈ کی موجودگی میں اسے
اپنی ہوس کا شکار بنا لیا اور چلتی بس سے دونوں کو باہر پھینک دیا ۔ یقینی طور پر ایسے واقعات
پہلے بھی سامنے آئے تھے ۔لیکن بے رحمی اور درندگی کی نہ بھولنے والی اس مثال نے دلّی کو
احتجاج اور انقلاب کا شہر بنا دیا تھا ۔ جنتر منتر سے لے کر دلی گیٹ اور انڈیا گیٹ تک ہزاروں
لاکھوںہاتھ تھے جو انقلاب کے سرخ پرچم کے ساتھ ہوا میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ بہ طور مصنّف
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اکیسویں صدی کی نئی دنیا میںقدم رکھنے کے باوجود آج تک زندگی
اور جبلّت کے واقعات میںکوئی کمی کیوں نہیں آئی تو علم نفسیات کی موٹی موٹی کتابیں بھی ہانپ
جاتی ہیں۔‘‘
[ صفحہ ۷۵ ]
’’ میں پھر اس خیال کے رتھ پر سوار تھا کہ کتنی عجیب بات ایک مہذّب دنیا
میں آج بھی معصوم لڑکیاں بچّیاںعورتیں اپنی آزادی اور حق کا مطالبہ کر رہی
ہیں اور ساری دنیا سوئی ہوئی ہے ۔اپنے ہی گھر میں خوف کا پیچھا کرتے ہوئے
بڑے ہونے کا خوف، جوان ہونے کا خوف ۔۔۔۔۔‘‘
[ صفحہ ۸۱ ]
’’ عام طور پر مرد اساس معاشرے نے مردانگی کے ساتھ سختیاں
غیض و غضب ، ظلم و ستم اور عیش و نشاط کی ساری کہانیاں خود تک
محدود رکھی ہیں اور صدیوں کے فسانے میں مردوں نے ان
خوبیوں سے خود کو جوڑ رکھا ہے ۔ اس لیےعورت کی ذراسی بغاوت
یا ’ مردانگی کے مظاہرے کو برداشت کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔‘‘

یہ اقتباسات کسی نئے نکتے کا احساس نہیں دلاتے۔ ذوقی ایک ہی بات کو بار بار دہرا تے ہیں جس سے اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے ۔لہجہ خطیبانہ ہے جو اسلوب میں نقص پیدہ کرتا ہے ۔وہ قدم قدم پر مغربی ادب اور مشاہیر کا حوالہ دیتے ہیں ۔ شائد وہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان کا مطالعہ وسیع ہے۔ لیکن یہ حوالے اکثر غلط ہوتے ہیں۔ دوستو وسکی کے ناول ایڈیٹ سے متعلّق لکھتے ہیں۔
’’ آپ سامنے والے شخص کے اندر باہر آرام سے جھانک سکتے ہیں اسی طرح جیسے
دوستو فسکی کا ایڈیٹ شرمایا ہوا شہزادی کے دل میں پہنچنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے ۔‘‘
میں حیران ہوں۔ ایڈیٹ شہزادی کے دل تک کہاں پہنچتا ہے ؟ وہ شہزادی کا اغوا کرتا ہے ۔ اسے سیلن زدہ
کمرے میں قید رکھتا ہے ۔اس کے ساتھ برہنہ سوتا ہے پھر اس کا قتل کر دیتا ہے ۔کافکا کے میٹا مار فوسس کے بارے میں لکھتے ہیں۔’’ میٹا مارفوسس ۔۔۔۔آپ نے یقیناّ یہ کہانی پڑھی ہوگی ، نہیں،میں کیڑے میں یا کیڑہ مجھ میں تبدیل ہو گیا ، ایسی کوئی بات نہیںِ ۔ مگر وہ تھا یہیں کمرے میں۔۔۔۔‘‘
میں کہنا چاہتا ہوں کہ کافکا کا کیڑانظام کے جبر اور انسان کی بے بسی کی علامت ہے جب کہ اس ناول میں کیڑا
آدمی کی وحشت ناکیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ دونوں میں کوئی مماثلت نہیں ہے ۔ یہاں میٹا مارفوسس کا ذکر ہی بے محل ہے لیکن ایسی مثالیں ذوقی کے یہاں بھری پڑی ہیں ۔ ہندی ادیب سدرشن نارنگ سے ایک گفتگو میں خود کی پہچان اڈگر ایلن پو سے کرتے ہیں۔ ’’ میں بہت ہی دل آزار میں ڈوبی کہانیاں نہیں لکھ سکتا۔ اس معاملے میں اڈگر ایلن پو کے قریب ہوں جو زندگی بھر بیمار رہا لیکن آپ اس کی کہانیوں میں بیماری یا دکھ تلاش نہیں کر سکتے ۔‘‘
اڈگر ایلن پو بیمار نہیں رہا۔ بیمار کافکا رہا ۔اس کو ٹی بی تھی۔ اس بیماری کی وجہ سے وہ اپنی محبوبہ کو بھی کھو بیٹھا۔ ایڈگر ایلن پو نشہ ضرور کرتا تھا ۔ اس کی موت پر اسرار انداز سے ہوئی ۔ پو کو جاسوسی اور ہارر ادب کا موجد کہا جاتا ہے جس نے پورے مغربی ادب پر اثر ڈالا۔ذوقی ہا رر اور جاسوسی ادب نہیں لکھتے۔ پھر بھی خود کو پو کے قریب محسوس کرتے ہیں یہ بات گلے نہیں اترتی ۔ حد تو یہ ہے کہ ناگ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وہ ندا فاضلی کے اس شعر کو عادل منصوری کا شعر بتاتے ہیں ۔
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیئے رات ہو گئی ۔
ذوقی معتبر کہاں رہے ۔۔۔۔۔؟
آج کا قاری بہت ذہین ہے۔ ادب میں ہر طرح کی ریاکاری کی نشان دہی کرے گا اور ہر اس تخلیق کو ردّ کرے گا جو تخلیقیت سے پرے ہے ۔

Leave a Reply

thirteen − one =

Top