You are here
Home > Literature > غزل : اسٹیج سے فلموں تک اور پھر اسٹیج پر

غزل : اسٹیج سے فلموں تک اور پھر اسٹیج پر

غزل اس نے چھیڑی ہے تم ساز دینا
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
غزل ، نام ہے مکملیت کا، دو مصرعوں میں پوری بات کہنے کا ، فن کے اظہار کا اور زندگی جینے کا ۔لفظ غزل جیسے ہی سماعت سے ٹکراتا ہے فوراً کلاسیکی شعرا کے نام ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں ، مثلاً میر ؔ ، غالب ؔ، سوداؔ، داغؔ ، فراقؔ نسیم ؔ وغیرہ وغیرہ ۔ اردو زبان میں غزل کے لیے جس قدر وسعت پائی جاتی ہے ، شاید کسی اور زبان میں نہیں ۔اردو زبان جو ہمارے ملک کی زبان ہی نہیں تہذیب بھی ہے ، جو ہندستان میں پروان چڑھی اور غزل کے شائقین کے دلوں میں بس گئی ۔کہتے ہیں ، جادو ، وہ جو سر چڑھ کر بولے اور آج غزل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملاحظہ ہوفلم ۲۱ توپوں کی سلامی سے غزل۔
ہم تمہیں کیسے بتائیں تم میں کیا کیا بات ہے
تم سے دل میں شاعری ہے عشق کی سوغات
دو سو سال قبل غزل صرف مشاعروں یا شعری نشستوں میں پڑھی جانے والی صنف تھی ، حسن و عشق کے اظہار کا ذریعہ تھی ، معشوق کے ظلم وستم بیان کرنے میں یکتا تھی ، مگر ترقی پسند تحریک کے دوران اسے قابل گردن زدنی قرار دیا گیا تھا یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند تحریک کے دلدادہ یہ کہتے سنائی دیتے تھے ، ’’ مار لے ساتھی جانے نہ پائے ‘‘ غزل اس قدر سخت جان نکلی کہ ایسے دور میں بھی اس پر کسی آفت کا اثر نہیں ہوا ۔ سن ۱۹۵۵کے بعد غزلوں کو ہندستانی فلموں میں شامل کیا جانے لگا ، ایک فلم کا نام ہی غزل تھا اسی فلم کا ایک نغمہ :
نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
اس کے بعد غزل نے تیزی کے ساتھ فلموں میں اپنا مقام بنانا شروع کرد یا اور یہ غزلیں ہندستان ، پاکستان سمیت بر صغیر کے کئی ممالک میں پسند کی جانے لگیں ۔ پھر کچھ یوں ہونے لگا کہ مسلم سوشل فلموں میں ایک غزل ضروری سمجھی جانے لگی ۔
یہ ایک الگ بات ہے کہ غزل اردو کی دین ہے ، مگر اردو اور غزل دونوں ہی نے ملک کے ہندو مسلم سب کو جوڑے رکھا کہ غزل گو شعرا جب شعر کہتے ہیں ، تو پتہ نہیں چلتا کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان اور یہ قومی یکجہتی کی بہترین مثال نظر آتی ہے کہ اس ملک کی پروردہ زبان اردو اور اس کی خاص صنف غزل سے، ایک اور خاص بات یہ ہے کہ شعرائے کرام کے تخلص بھی اردو ہی سے ہوتے ہیں مثال کے طور پر پنڈت دیا شنکر نسیم ؔ ، رگھو پتی سہائے فراق ؔ، کالی داس گپتا رضاؔ اور گلزار ایسی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں ،گلزار کا ذکر آتے ہی فلم موسم کی وہ غزل یاد آئی ، جسے گلزار نے پیش کیا تھا۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
واقعی آج کے تیز رفتار دور میں دل وہ فرصت کے رات دن ڈھونڈتا ہے ، مگر اب کہاں کی فرصت اور کیسی فرصت ؟ صبح اٹھتے ہی اخبارات اور ٹی وی چینل حادثات اور قدرتی آفات کی دل دہلانے والی خبریں سنا دیتے ہیں ، پھر تو یہی جی چاہتاہے کہ ذہن کے بوجھ کو ہٹانے کے لیے کوئی اچھی غزل ہو جائے ، غزل کی یہی خوبی ہے کہ وہ تھکے ہوئے بوجھل ذہنوں کو فرحت عطا کرتی ہے ، شاید اس کی یہی خوبی اسے اسٹیج سے سنیما کے پردے تک لے آئی ۔ یہ غزل چیخ چیخ کر کہتی ہے سامعین سے :
تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو (فلم شگون)
رفتہ رفتہ غزل کا جادو ملک اور بیرون ملک لوگوں کے سر چڑھ کر بولنے لگا ، تو ہندستان کے شعراکے کلام کو پاکستانی گلوکاروں نے اور پاکستانی شعرا کے کلام کو ہندستانی گلوکاروں نے اپنی آواز اور ساز سے سجا کےپیش کیا ، توکہیں سرحد کے فاصلوں کا احساس نہ رہا اور غزل کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ۔ یہ غزلیں یہاں سے خلیجی ممالک تک پہنچ گئیں ۔یورپی ممالک میں بھی باقاعدہ غزل گائیکی کے شو ہونے لگے۔ مثال کے طور پر غلام علی کی آواز میں یہ غزل ملاحظہ فرمائیں :
یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
غلام علی کی آواز میں یہ غزل بہت پسند کی گئی اور شہرت پا گئی
۷۰؍ کی دہائی میں غزلوں نے فلموں میں اپنا مقام بنا لیا تھا اور وہ فلموں میں بالکل ایسے ہی شامل ہو گئی تھیں ، جیسے ملاحظہ فرمائیں غزل کے اشعار فلم کا نام ہے ’’آپ تو ایسے نہ تھے‘‘۔
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
کسی زمانے میں غزل کو محض گل و بلبل کے قصے سنانے یا داستان عشق سنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ، مگر آج کے دور کا شاعر خود غزل کو جی رہا ہے اور یہی غزل کا ارتقا بھی ہے ، اس ارتقا کی مثال عبدللہ کمال کے ان اشعار سے ملتی ہے :
اسے لکھتے نہیں ہیں ، جیتے ہیں
روز مرہ ہے ، زندگی ہے غزل
دل کی گہرائیوں میں رہتی ہے
درد نیزہ ہے اور انی ہے غزل
غزل دل کی گہرائیوں میں رہتی ہے ،مگر اس دل کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ، جس کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے ہوں ۔ فلم نکاح کے لیےہندستان کے مشہور صحافی اور فلمی نغمہ نگار حسن کمال کی لکھی غزل کو پاکستانی اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے اپنی خوبصورت آواز اور اداکاری کے ساتھ پیش کیا تھا ، اس غزل نے بھی کافی شہرت حاصل کی اور لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ۔
دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے
ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے
غزل ایک ایسی صنف ہے ، جو شاعر کو وسیع کینواس فراہم کرتی ہے دو مصرعوں میں محبت کا پیغام عام کرنے کا وصف غزل ہی کے کسی شعر کو حاصل ہو سکتا ہے، شعرعرض ہے۔
ان کا جو کام ہے اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
واقعی محبت اور انسانیت کا پیغام اسی طرح پہنچایا جا سکتا ہے ، فلم دھول کا پھول سے یہ نغمہ بھی کچھ ایسا ہی پیغام دے رہا ہے :
نہ ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے یہ انسان بنے گا
غزل ایک مشکل صنف ہے اور جو شاعر اسے رام کر لے اس کے یہاں اچھے اشعار کی کمی نہیں ہوتی ، غزل نے جب فلموں پر حکمرانی کی ، تو ۸۰ کے دہے میں دوبارہ اسٹیج پر اپنا مقام بنانا شروکر دیا اور اس دوران کئی گلوکار مشہور ہوئے ، جن میں پنکج ادہاس ، انوپ جلوٹا ، جگجیت سنگھ ا،مہدی حسن ، غلام علی اور طلعت عزیز کے نام سر فہرست ہیں ۔ غزل گانے اور سننے سنانے کے لیے عمر ، مذہب اور سرحد کی کوئی قید نہیں ہے ۔ اچھے بول کانوں میں رس گھولتے ہیں اور سیدھے دل میں اتر جاتے ہیں ، اس لیے کہتے ہیں دل سے دل کو راہ ہوتی ہے ، ہاں مگر اس کے لیے ہوش میں رہنا ضروری ہے : ملاحظہ ہو فلم سرفروش سے ایک غزل :
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
بے خودی سے خیال آتا ہے خودی کا اور لفظ خودی کے صحیح استعمال کے لیے شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کو بلند کرنے کا ذریعہ ہے خلق خدا کی خدمت ، جی !کیونکہ حالی نے فرمایا ہے
یہ پہلا سبق ہے کتاب ہدا کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
جب تمام انسان خدا کا کنبہ ہیں ، تو ایک انسان کو دوسرے کے دکھ درد کا خیال رکھنا چاہیے ، کہ یہ کام انسان ہی انسان کے لیے کر سکتا ہے ۔
چندن داس کی آواز میں ندا فاضلی کی غزل
اب ہنسی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا
غزل میں کتنی بڑی بات کہہ دی گئی ، مگر جو بات کہی نہیں جاتی ، وہ بھی غزل کہہ دیتی ہے ، جیسے
کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
ایسی ہی خوبصورت غزل موسیقی پر پھڑکتے ہوئے سن کر سر دھننا چاہیے :
ذی حال مستی مکن تغافل ( فلم غلامی )
غزل صنف ہی ایسی ہے کہ حسرت موہانی جیسے سنجیدہ شاعر نے ایسے رومانی اشعار کہے ، فلم نکاح میں یہ غزل شامل ہے اور آواز ہے غلام علی کی ۔ ایک بار پھر ہند و پاک کا امتزاج سامنے ہے۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
کہتے ہیں جب ملک تقسیم ہوا ، تو راتوں رات لوگ سرحد کے اس پار اور اس پار ہو گئے ، جنہیں جس حصے کی مٹی پسند تھی ، وہ اس طرف ہو لیے ،مگر دلوں کو کوئی تقسیم نہیں کر سکا یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے فنکار اور عوام ایک دوسرے سے رشتہ بنائے رکھتے ہیں ، محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔عوام کے دلوں میںایسا کوئی خط نہیں کھینچا گیا ، جو ایک دوسرے سے جدا کر سکے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا سمٹ گئی ہے اور لوگ ایک دوسرے کے اور قریب آ گئے ہیں اور یہی قربت محبت کا اظہار کرتی ہے ۔ اب مزید غزل کی کیا تعریف کی جائے ، فلم ایک ولن کا ایک نغمہ غزل کی تعریف کس طرح بیان کر رہا ہے آپ خود ہی سماعت فرمائیں :
کسی شاعر کی غزل ، جو دے روح کو سکوں کے پل
کوئی مجھ کو یوں ملا ہے جیسے بنجارے کو گھر
غزل سے ایک سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ، یہ خود غزل کہہ رہی ہے۔عبدالحمید آدم کی غزل چندن داس کی آواز میں 
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی
بات کوئی ضرور ہے ساقی
اردو غزل آج بھی زندہ ہے اور لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے فلم داستان کی ایک غزل محمد رفیع کی آواز میں 
نہ تو زمیں کے لیے اور نہ آسماں کے لیے
بالکل درست ہے ، اس غزل کے ذریعے شاعر اپنی معشوقہ سے مخاطب ہے ، جو کسی داستاں کا حصہ ہو کر رہ گئی ہو، ہاں کبھی کبھی ایسے واقعات بھی یاد آ جاتے ہیں ، جو دور حاضر میں داستان کی طرح محسوس ہوتے ہیں ، جیسے وہ دن جب ہم جغرافیائی حدوں کو محسوس کرتے تھے مگر ، کہیں تنازع نہیں تھا ، مگر اب یہ باتیں کسی داستان کا حصہ لگتی ہیں ۔
بس اب چلتے چلتے ایک غزل اور ہو جائے :
چلتے چلتے میرے یہ گیت یاد رکھنا
کبھی الوداع نہ کہنا ، کبھی الوداع نہ کہنا

شیریں دلوی

Leave a Reply

twenty + 8 =

Top