You are here
Home > Literature > شعری مجموعہ ’’اندازِ بیاں اور‘‘

شعری مجموعہ ’’اندازِ بیاں اور‘‘

شعری مجموعہ ’’اندازِ بیاں اور‘‘شاعرہ ڈاکٹر ممتاز منوّر پیر بھائی
اجمالی جائزہ

گو کہ ’’اندازِ بیاں اور‘‘مُمتاز منوّر پیر بھائی کا پہلا مجموعۂ کلام ہے لیکن محترمہ دنیائے ادب میں برسوں سے سرگرم ہیں – مُشاعرے بھی پڑھتی ہیں اور سمینار میں بھی شرکت کرتی ہیں ،غرض یہ ادبی حلقوں میں تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ ان کی نثری صلاحیت ابھی کھُل کر سامنے نہیں آئی ہے، لیکن بحیثیت شاعرہ یہ مقبولیت کی منزل تک پہنچ سکتی ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کے مجموعۂ کلام کی اشاعت ہے ۔
مُمتاز صاحبہ پونے کے سماجی، ادبی ، علمی اور ثقافتی حلقوں میں شہرت رکھتی ہیں ،کئی انجمنوں کی یہ سرگرم رُکن اور عہدیدار ہیں ۔انجمن ترقّی اُردو ( ہند) پونے اور بزمِ خواتین ( پونے) کی یہ صدر ہیں – مُختلف عوامی خدمات کے حوالے سے انھیں اعزازات سے نوازا بھی جا چُکا ہے – مہذّب اور تعلیم یافتہ خاتون نے اپنی طویل عمری کے با وجود اُردو ادب میں پونے یونیورسٹی ( پونے) سے پی ایچ ڈی کی ہے، یہ ان کے اُردو ادب سے محبّت کا ثمر ہے جو قابلِ تعریف و تحسین ہے –
’’اندازِ بیاں او‘‘ مُمتاز صاحبہ کی غزلوں، نظموں، رُباعیات قطعات کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں شائع ہو کر منظرِ عام پر آیا ہے ۔ ” پیش لفظ” پروفیسر اختر الواسع کا ہے ۔چار صفحات کے پیش لفظ میں شاعرہ کے کلام پر انھوں نے موثر انداز سے روشنی ڈالی ہے ۔پیش لفظ سے اقتباس مُلاحظہ فرمائیں، چند آخری سطریں :
’’یہ شاعری اپنے افادی پہلو کے ساتھ ساتھ مرئی اور غیر مرئی اشیاء کے لیےایک سامانِ بصیرت رکھتی ہے اور اپنے قاری کو غور و فکر کی طرف اُکساتی ہے – ممکن ہے کہ ان کے کلام کو پڑھتے وقت آپ اس کیف اور مستی کی فضا میں نہ پہنچ پائیں جس کے لیے شاعری عام طور پر جانی جاتی ہے ،لیکن پڑھنے کے بعد شعور و ادراک کے بہت سے پہلو آپ کے ذہن و دماغ میں روشن ہوں گے اور غالباً یہی فنکار کا مقصد بھی ہے ۔‘‘
کتاب ہذا، ص ۱۰۔
’’کچھ اپنے بارے میں ‘‘ کے تحت محترمہ نے اپنا شجرہ پیش کیا ہے – والدین اور دیگر بزرگوں کا ذکر کیا ہے – اپنی تعلیم، اُردو سے پیار اور لکھنے کے بچپن کے ذوق کے بارے میں بہت ساری باتیں بتائی ہیں اس کتاب کے مشمولات کے بارے میں محترمہ نے ایک جگہ لکھا ہے : ’’ میں نے کچھ غزلیں ایسی بحروں میں بھی کہنے کی کوشش کی ہے ،جو میرے خیال سے زیادہ مروّج نہیں ہیں!‘‘
یہ لکھ کر گویا شاعرہ نے اس بات کو اہمیت دی ہے – قاری کو اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے بحیثیت قاری میں نے ان غزلوں کو سب سے پہلے پڑھنا چاہا – ورق گردانی کی تو ایک صفحہ پر لکھا تھا۔’’ غیر مروّج بحروں میں غزلیں ‘‘۔ اس باب میں ایک ’’حمد ‘‘ ہے باقی غزلیں ہیں ہر صفحہ کے آخر میں بحر کا نام درج ہے اور ارکان نقل کیے گئے ہیں ( شروع کی غزلوں میں ایسا نہیں کیا گیا ہے) کتاب کے صفحہ نمبر ۱۵؍پر ’’قطع تاریخ اشاعت ‘‘ درج ہے جس کے مصرعۂ اولیٰ سے سن ۲۰۱۷؍ نکلتا ہے اس سے ظاہر ہُوا کہ محترمہ اپنے آپ کو فنِ شاعری میں صاحبِ عروض بتانا چاہتی ہیں جبکہ اس کی کوئی خاص وجہ اور ضرورت نہیں تھی ۔’’ قطع تاریخ اشاعت ‘‘تک بات مُناسب ہے – محترمہ کا یہ رویہ ماہرانِ عروض کو متوجہ کر سکتا ہے لیکن شاعری کے دیگر قارئین کو اس سے مطلب نہیں – نا چیز حضرت عنوان چشتی ( مرحوم) کا شاگرد ہے ،اپنی سی نقد و نظر بھی رکھتا ہے لیکن یہاں محترمہ کی عروض دانی پر بات کرنا مُناسب نہیں ہے ۔
۱۹۲؍صفحات کی اس کتاب میں غزلوں کی تعداد زیادہ ہے – رُباعیات ۳۲؍، قطعات ۱۰؍ہیں ، جبکہ نثری نظموں کی تعداد خاصی ہے ۔ غزلیں رواں مترنم چھوٹی بڑی بحروں میں کہی گئی ہیں ۔ زباں سہل ہے نمونتاً کچھ اشعار پیش ہیں ، ملاحظہ ہوں:
کھا چُکے ہیں اتنے دھوکے دوستی کے نام پر
چاہے دل، کر لیں بھروسہ دشمنی کے نام پر

نیند راتوں کی اُڑا دیتے ہیں
خواب میں آ کے جگا دیتے ہیں

جانے کہاں اُڑا گئی پرواز اب کی بار
آتی نہیں طیور کی آواز اب کی بار

منزل ملی تو بھول گئے کارواں کو لوگ
رہبر کو ہی ملا ہے یہ اعزاز اب کی بار

آنکھوں میں آج اس کے یہ کیسا سرور تھا
زاہد بھی ڈگمگا گئے اتنا ضرور تھا

محنت بغیر کچھ بھی نہ لینا قبول تھا
تھا تو غریب پھر بھی وہ بے حد غیور تھا

داغِ دل وہ دِکھائے تو میں کیا کروں
قصّہ غم کا سُنائے تو میں کیا کروں

شرارت بھری اس کی قاتل ادا ہے
مرے دل کا حافظ تو بس اب خُدا ہے

وہ رُخسار تاباں دہکتی جوانی
کسے لے کے ڈوبے گی کس کو پتہ ہے

رقیب سے مِل کے جان کر وہ ہمارے دل کو جلا رہے ہیں
اِدھر لہو ہو رہا ہے دل کا اُدھر وہ خوشیاں منا رہے ہیں

حالات ہیں تاریک سب ماحول دم گھٹتا ہُوا
اُمّید ہے دیکھیں گے ہم سورج نیا اُگتا ہُوا

پونم کی شب جب تاج دیکھا دلنشیں تو یوں لگا
جوں وقت کے ہاتھوں پہ ہو موتی کوئی رکھا ہُوا

ان اشعار میں شاعرہ کی عروض شناسی پر سوال اُٹھ سکتے ہیں خیر مُمتاز صاحبہ کا غزلیہ مزاج کلاسیکل ہے تبھی ان کے ہاں غزل کے مشہور مضامین نظم ہوئے ہیں لفظیات کا استعمال بھی مُروّجہ ہے ۔ زبان کی سادگی جس لہجے کو جنم دیتی ہے وہ لہجہ دلکش اور دلنشیں ہے کچھ اشعار میں عصری مضامین جدید انداز کے بھی ہیں مُلاحظہ فرمائیں ۔

عصمت دری ، چوری و رشوت ہر طرف
بوجھل طبیعت ہو گئی اخبار سے

پیار سے کوئی ملے ہوتا ہے نیت پہ شک
مطلبی دُنیا میں اب اگلی سی چاہت کہاں

کس کو ہے فرصت کہ سُنے جو یہاں
درد و آہیں کسی کی فغاں

چھوٹ گئے سب کرکے خوشامد حاکمِ اعلٰی کی جو تھے جھوٹے
جو ہے دیانت دار ہمیشہ قتل ہُوا ، بدنام ہُوا

فنِ شاعری میں رُباعی ایک معتبر اور اعلٰی صنف ہے ، جسے مشکل صنف بھی کہا جاتا ہے ۔ مُمتاز صاحبہ نے اس صنف میں بھی طبع آزمائی کی جرات کی ہے ۔مشمولات کی رُباعیات قابلِ داد ہیں ۔ ایک رُباعی بطور مثال ۔
انسان جو دنیا میں آتا ہے سوچ
وہ ساتھ میں اپنے کیا لاتا ہے سوچ
کرتا ہے ہوس دولت شہرت کی دیکھ
آخر میں وہ کیا لے کر جاتا ہے سوچ
قطعات کا انتخاب بھی عمدہ ہے ۔ نظموں کا باب اس کتاب کا معیار قائم کرتا ہے – محترمہ مُمتاز کی سوچ آزاد فضا میں سانس لیتی اور قرطاس پر مُشاہدات ، تجربات ، حالات اور واقعات کا منظر نامہ سلیقے سے پیش کرتی نظر آتی ہے – گو کہ یہ نظمیں آزاد نظموں کی صنف پر پوری نہیں اُترتیں ، یہ نثری نظمیں ہیں اور نثری نظمیں رواج پا چُکی ہیں – مقام بنا چُکی ہیں – شاعرہ اس صنف میں اپنی بات کہنے میں کامیاب ہیں ۔ ان نظموں میں عصری زندگی کا درد نمایاں ہے ۔ مُمتاز صاحبہ کی انسانیت پسندی، رواداری اور ہندستانی سماج سے ہمدردی ہر نظم میں رنگ بکھیرتی محسوس ہوتی ہے – مجموعی طور پر ’’ اندازِ بیاں اور‘‘کی شاعری قابلِ مطالعہ اور قابلِ تحسین ہے – یقین ہے کہ اس کی پذیرائی شعری حلقوں میں ہوگی ۔

اسلم چشتی 

 پونے

Leave a Reply

19 − sixteen =

Top