You are here
Home > Culture > شاہی دعوت کی شان

شاہی دعوت کی شان

شاہی دعوت کی شان 

٭ ہندستان کے مسلمان بادشاہوں اور امراء کے کھانے کا ذوق بہت اعلا اور لطیف رہا ۔ اس لیے ان کے دستر خوان پر انو او اقسام کے کھانے ہوتے ہیں ۔ ایک دستر خوان پر ایک ہزار سے زائد کھانے ہوتے ہیں ۔پلاؤ کی کئی قسمیں ، بکرے ، ہرن اور دنبے کے بھنے ہوئے گوشت ہوتے ہیں ۔ پرندوں کے کباب بھی بنائے جاتے ہیں ۔ شربت اور قند کے سیکڑو ں پیالے بھی رکھے جاتے ہیں ۔امراء جب بادشاہوں کو اپنے یہاں مدعو کرتے ہیں ، تو وہی شان و شوکت دکھاتے ہیں ، جو بادشاہوں کے یہاں ہوتی ہے ۔اعتماد الدولہ نے جہانگیر کو چودھویں سال جلوس جشنِ نوروزکے موقع پر اپنے یہاں مدعو کیا تو،جہانگیر کی راہ گزر کو طرح طرح کے فانوس سے روشن کیا اور جو نذرانے پیش کیے ان میں ایک سونے کا تخت بھی تھا ، جو تین سال کی مدت میں ساڑھے چار لاکھ روپے میں تیار کیا گیا تھا ۔
عہدِ جہانگیر میں آصف خان ( نور جہاں کے بھائی ) نے برطانوی سفیر کی جو دعوت کی ، اس کا ذکر ایڈ ورڈ ڈیٹری نے بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے ’’آصف خان نے سفیر کی دعوت ایک بڑے اور خوبصورت خیمے میں کی ۔ وہاں پر میرے علاوہ کوئی نہ تھا ۔ خیمہ ایسی خوشبو سے معطر کیا گیا تھا ، جو بادشاہوں اور امیروں کو مرغوب ہوا کرتی تھیں ۔ خیمے کے اندر بڑے قیمتی قالین بچھے تھے اور جہاں کھانا چنا گیا تھا ، وہاں پر اور بھی اعلا قسم کے قالین بچھے تھے اور ان پر اعلا قسم کے بوٹے اور سفید دستر خوا ن بچھے تھے ۔ ان پر چاندی کے ظروف رکھے تھے ، جن کے حاشیے سونے کے بنے ہوئے تھے ۔ یہ ظروف ہماری ان پلیٹوں سے بڑے نہ تھے ، جن میں نان پاؤ رکھ کر کاٹے جاتے تھے ۔ہم لوگ ایک مثلث کی شکل میں بیٹھے ۔ سفیر آصف خان کی دائیں جانب تھوڑی دوری پر تھا اور میں ان دونوں کے سامنے۔ ہم سب زمین پر ہی بیٹھے تھے ، کیونکہ یہاں لوگ اسی طرح کھانا کھاتے ہیں ۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے کے سامنے تھے اور ہمارے کھانے علاحدہ علاحدہ تھے ۔ سفیر کے کھانوں میں دس قسم کے کھانے تھے ، جو میزبان سے زیادہ تھے ۔ میرے کھانے میں دس قسم کی چیزیں میزبان سے کم تھیں ، پھر بھی میرے سامنے پچاس قسم کے کھانے تھے … میں نے ان سب کو چکھا ۔ سب کا ذائقہ بہت ہی عمدہ تھا ۔ بڑی رقابوں میں مختلف قسم کے کھانے تھے ۔ چاول تھے ، جن کا رنگ سفید بھی تھا ، زعفرانی بھی اور روغنی بھی ۔ یہ کس طرح پکائے گئے تھے ، یہ تو میں نہیں بتا سکتا ، مگرسب ہی بے حد لذیذ تھے ۔ کھانے میں گوشت کی بھی کئی قسمیں تھیں ۔ مرغ اور دیگر پرندوں کے گوشت کاٹ کاٹ کر ہندستانی طرز پر پکائے گئے تھے ۔ میٹھی اور ترش چیزیں بھی تھیں ۔ چاول کی فرنی بہت میٹھی ،خوشبو دار اور ٹھنڈی تھی ۔ چاول کے آٹے کی بہت ہی میٹھی اور عمدہ چیز تھی ، جس میں بادام پستے باریک تراش کر ڈالے گئے تھے اور ان میں مرغ کے گوشت کے ٹکڑے بھی تھے ، جن کو تمیز کرنا آسان نہ تھا ۔ ان میں کیوڑے کے ساتھ عنبر بھی تھا ۔ طرح طرح کی روٹیاں بھی تھیں ۔بعض میں بادام اور قند ملے تھے ۔ بعض بہت ہی خوشبو دار تھیں ۔ آلو بخارا کی چیزیں بھی تھیں اور نہ جانے کیا کیا تھا ؟غرض کہ ضیافت بہت عمدہ تھی ۔ پانی سادہ تھا ۔ ہم لوگ اس محفل میں بہت دیر تک رہے ۔ یہ روم کے مشہور ’’ ایپی کیور ‘‘ کی دعوت تھی، جو یقینا بہتر کہی جا سکتی ہے، جو اپنی بھوک کو دفع کرنے کی خاطر زمین ، ہوا ،اور سمندر کی تما م چیزیں فراہم کرنے کا عادی تھا۔ ‘‘٭٭

Leave a Reply

9 − 4 =

Top