You are here
Home > Health > سستی دواؤں کی تشخیص کا قانون ؟

سستی دواؤں کی تشخیص کا قانون ؟

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی جانب دیکھا جائے ، تو ایک بات مشترکہ نظر آتی ہے کہ وہاں کی حکومت عوام کی صحت اور تعلیم پر پو ری توجہ دیتی ہے ۔ علاج معالجہ کا حکومت کی جانب سے بہترین انتظام ہوتا ہے اور تعلیمی ادارے بہت معیاری اور عوام کے لیے کم خرچ کے ہوتے ہیں یا حکومت ان کی کفالت کرتی ہے ۔ ہندستان میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اعلا تعلیم حاصل کرنا اورعلاج کروانا ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں عام آدمی اپنا علاج نہیں کر وا سکتا اور سرکاری ہسپتال میں اپنی جان نہیں بچا سکتا۔ تعلیم کا معاملہ یہ ہے کہ نرسری کلاس ہی سے ڈونیشن کی لعنت شروع ہو جاتی ہے ، وہ پرائمری ، سیکنڈری ، ہائیر سیکنڈری کے بعد کالج اور پھر اعلا تعلیمی اداروں تک پہنچتے پہنچتے ڈونیشن کی رقم لاکھوں بلکہ کروڑ تک پہنچ جاتی ہے ۔ ایک عام آدمی جو بمشکل اپنے گھر کا چولہا جلانے کی مشقت کرتا ہے وہ اپنے بچوں کو اعلا تعلیم کیسے دلوا سکتا ہے ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی رسائی نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔
اب ہم بات کرتے ہیں صحت اور طبی اداروں کی ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے ،جس کے تحت ڈاکٹر کم قیمت کی دوائیں مریضوں کی سہولت کے لیے تجویز کریں گے ، تاکہ غریب مریضوں پر مہنگی دواؤں کا بار نہ پڑے اور وہ اپنا علاج کروا سکیں ۔
وزیراعظم نریندر مودی کے اس فیصلہ کی مکمل حمایت کے ساتھ کہ انھوں نے ڈاکٹروں کو سستی دوائیں تجویز کرنے کا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے غریب مریضوں کو مہنگی دواساز کمپنیوں کی اجارہ داری سے راحت ملے گی ۔دوسری طرف ان ادویات تک عام مریضوں کی رسائی ایک تشویش کا معاملہ ہے ۔ملک کے بیشتر میڈیکل کالج، سرکاری دواخانے اور طبی ادارے بھی سستی دواؤں کی سفارش کرتے ہیں۔ خاص کر میڈیکل کونسل آف انڈیا نے بھی ڈاکٹروں کو جنرک ڈرگس کے استعمال کی ترغیب دینے کی سفارش کی ہے ۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ ملک میں جنرک دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں اور دیہی سطح پر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر جنرک دوائیں ہی تجویز کرتے ہیں ،لیکن ان دواؤں کے حصول اور ان کے معیار کی جانچ کا جو پیمانہ ہونا چاہیے اس میں کچھ خامیاں ، کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔
ان ادویات کی تیاری میں بھی کئی کمپنیاں میدان میں اُتری ہیں اور کسی خاص برانڈ کے نام کی تشخیص کرنے سے صرف ایک ہی کمپنی کو فائدہ ہوتا ہے ، دواؤں کے مارکٹ میں میڈیکل نمائندوں کی اوردواخانوں یا ڈاکٹروں سے آپسی رابطے اور معاہدوں کے تحت ہی یہ دوائیں مارکٹ میں دستیاب ہوتی ہیں ۔ ان کی قیمتیں بھی مختلف کمپنیوں کے مطابق مختلف ہوتی ہیں جن پر اگرچیکہ اصول و ضوابط لاگو ہیں مگر ان پر عمل نہیں کای جاتا۔ جنرک دوائیں ڈاکٹروں یا پرائیویٹ دواخانے چلانے والوں کے لیے بھی مفید اور سستی ہوتی ہیں ، مگر اکثر پرائیویٹ نرسنگ ہوم یا دواخانے ، جنرک دوائیں استعمال کر کےمریضوں سےبڑی بڑی رقمیں بطور فیس وصول کرتے ہیں۔
اکثر طبی اداروں میں مریض کے علاج سے قبل مہنگے مہنگے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں ، جبکہ ان کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ میڈیکل انجنئیرنگ کو فروغ دینے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ، جس کا بوجھ سیدھے سیدھے مریض کی جب پر پڑتا ہے ۔ سیدھی بات یہ کہ پرائیویٹ اداروں میں مریض بڑی بڑی فیس سے مارا جاتا ہے اور سرکاری اداروں میں لاپروائی سے مارا جاتا ہے ۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور فضائی اور پانی کی آلودگی کی وجہ سے پھیلنے والے امراض پر قابو پانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ پہلے صفائی کی جانب توجہ دے ، جس سے آدھی بیماری دور ہو سکتی ہے ، کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے ۔

شیریں دلوی

Leave a Reply

three × 5 =

Top