You are here
Home > Health > سبزی ترکاری کی افادیت اور ان کی حفاظت

سبزی ترکاری کی افادیت اور ان کی حفاظت

سبزی ترکاری کی افادیت اور ان کی حفاظت

قدرت کا نظام ہے کہ موسم ، جغرافیائی ماحول اور انسانی ضرورت کے مطابق ترکاری اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ اپنے آپ میں کچھ تاثیر رکھتی ہیں ۔ انسانی خواراک اور زندگی میں سبزیوں کا اہم مقام ہے ۔ کچھ سبزیاں غذا کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں اور کچھ مصالحوں کے طور پر ۔ ایشیائی ممالک میں مصالحے کے طور پر استعمال ہونے والی ترکاریوں میں ہلدی ، ادرک ، لہسن اورپیاز کا نام لیا جاسکتاہے ۔
پیاز ، لہسن اور ادرک انسانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں معاون ہوتے ہیں ساتھ ہی غذا کو خوش ذائقہ بنانے میں بھی بہت اہم کام کرتےہیں۔ اسی طرح ہلدی بہترین اینٹی بائیوٹک کا درجہ رکھتی ہے ۔ خواہ وہ مصالحے کے طور پر کھانے میں استعمال کی جائے یا پھر کسی کٹے ہوئے زخم پر ڈاکٹر کی مدد ملنے سے قبل اس کا پاؤڈر رکھ دیا جائے ۔کسی بھی قسم کی اندرونی چوٹ لگنے پر ہلدی کو شہد کے ساتھ گرم دودھ میں استعمال کرنے سے جسم کا درد کم ہو جاتا ہے ۔ یہ جوڑوں کے درد کو کم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے ۔
سبزی ترکاریوں میں وہ تمام غذائی اجزاءپائے جاتے ہیں جو اانسانی زندگی کے لیے اہم اور مفید ہیں ۔ سبزیات میں لحمیات، حیاتین اور معدنی اجزاءبکثرت پائے جاتے ہیں، جو انسانی جسم کے مختلف افعال کو درست رکھنے میں معاون ہوتے ہیںاور انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھانے میں بھی اہم رول ادا کرتی ہیں ۔ سبزیوں ترکاریوں کا استعمال براہ راست سلاد کی شکل میںبھی کیا جاتا ہے۔ پیاز ، ٹماٹر ، ککڑی ، پتہ گوبھی ، کچی ہلدی ،آنولہ ، چقندر ، گاجر اور مولی کا شمار ایسی سبزی ترکاریوں میں ہوتا ہے ، جنہیں سلاد کی شکل میں کچا بھی کھایا جاتا ہے ۔ چقندر کے استعمال سے جسم میں خون کی کمی نہیں ہوتی ، جن لوگوں کو خون کی کمی کی شکایت ہو انہیں چقندر کھانے میں استعمال کرنا چاہیے یا فوری اثر کے لیے روزانہ ایک گلاس چقندر کا رس پینا چاہیے۔
گاجر کے بھی بےحد فوائد ہیں ، اس سے بینائی تیز ہوتی ہے ، رات کا اندھا پن نہیں ہوتا اور بال صحت مند اور خوشنما ہو جاتے ہیں۔ مولی کھانے سے جگر کی خرابی دور ہو جاتی ہے ۔ سبزی ترکاری کے استعمال سے معدہ کا فعل درست رہتا ہے اور قوت ہاضمہ صحیح رہتی ہے ۔
پھول گوبھی ، مٹر ، شلجم ، بھنڈی ، بیگن ، پرول ، ٹنڈی ، سورن ، کدو ، لوکی اور مختلف قسم کی پھلیاں ، مثلاً چولائی ، گھیورا وغیرہ کا شمار ترکاری میں ہوتا ہے اور انہیں اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنا ضروری ، جس سے جسم میں قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور بہت سے امراض سے بچاؤ ہو سکتا ہے ۔ کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے ، تو بہتر یہی ہے کہ اپنی غذا میں سبزی ترکاری اور پھلوں کو شامل کیا جائے ، تاکہ جسم کو تمام غذائی اجزا مل سکیںاور امراض سے حفاظت ہو سکے ۔
لازم یہ ہے کہ سبزی ترکاری کو پکانے سے قبل ٹھیک سے دھویا جائے ، مگرپکانے میں احتیاط برتی جائے ، زیادہ پکانے یا چمچہ چلانے سے اس کے وٹامن ذائع ہو جاتے ہیں ۔ سبزی ترکاری کو اکٹھے خرید کر محفوظ رکھنا بھی مسئلہ ہو جاتا ہے ، کیونکہ گھر کے فریج میں ان اشیا کےرکھنے کا مسئلہ بھی ہوتا ہے اور زیادہ دنوں تک تازہ رہیں یہ بھی ممکن نہیں ، اس طرح ان کے مفید اجزا ضائع ہو جاتے ہیں ۔
خوراک میں سبزیوں کے کم استعمال کی وجہ سے جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ سبز پتوں والی سبزیوں (پالک، سویا ،سرسوں کا ساگ ، چولائی اور میتھی) میں معدنی نمکیات لوہا، چونا اور فاسفورس کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جسم میں خون کی کمی، ہڈیوں اور دانتوں کی کمزوری کو دور کرتے ہیں۔پیاز لہسن اور ادرک میں ایسے کیمیائی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو شریانوںمیں فالتو چربی کو جمنے نہیں دیتے اور اسے تحلیل کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انسان دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
عام طور سے ٹماٹر ، ککڑی ، چقندر کو مومیا کر محفوظ کر دیا جاتا ہے ، جس سے وہ مزید ایک ہفتے تک تازہ رہتے ہیں ۔ ہری پتیوں والی سبزیوں یعنی ، پالک ، میتھی ، پودینہ ، دھنیہ کی پتیوں کو ہلکی نم ردی میں لپیٹ کر اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ دو چار دنوں تک مزید محفوظ رہ سکے۔ آج کل زپ پاؤچ یا ویجیٹبل کنٹینر بھی دستیاب ہیں ، جن میں سبزی ترکاریوں کو دو چار دن یا اس سے زیادہ تازہ دم رکھا جا سکتا ہے ۔ بہر حال سبزی ترکاری کا مناسب استعمال اچھی صحت کی ضمانت ہو سکتا ہے ۔

UNE Desk

Leave a Reply

fifteen − 4 =

Top