You are here
Home > Politics > سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا

سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا

ان دنوں ملک میں قومی ترانے کے تعلق سے بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ اخبارات ہوں یا ٹی وی چینل یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اسی تعلق سے پوسٹ کر رہے ہیں یا بحث کر رہے ہیں ۔
حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی ہمنوا ہندتوا تنظیمیںاکثر یہ درشانے کی کوشش کرتی ہیں کہ مسلمان ملک کے وفادار نہیں ہیں اور وہ اپنے بچوں میں حب الوطنی کے جذبات نہیں پیداکرتے ۔ ہندوتواوادی تنظیموں کے مطابق قومی ترانہ ’ وندے ماترم ‘ نہیں پڑھنے والے ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے ، جبکہ مسلم علما کا کہنا ہے، کہ چونکہ اس گیت میں ملک کے پہاڑوں دریاؤں اور زمین کے آگے سر جھکانے کی بات کہی گئی ہے اس لیے مسلمان یہ گیت نہیں گا سکتے کیونکہ مسلمان کا سر صرف اپنے رب کے آگے جھکتا ہے ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گیت تحریک آزادی کے ابتدائی دنوں میں لکھا گیا تھا اور آزادی کی تحریک میں اس کا اہم کردار تھا۔ قومی ترانہ جن گن من کے برعکس یہ قومی گیت بیشتر لوگوں کو یاد نہیں ہے اور اسے بہت کم گایا جاتا ہے۔’جن گن من ‘ کو بھی قومی ترانہ قرار دینے سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہ کب اور کیوں تحریر کیا گیا تھا ۔ اس گیت میں ’’ بھارت بھاگیہ ودھاتا ‘‘ کہا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کا بھاگیہ ودھاتا ( مقدر سنوارنے والا) کسے کہا گیا ہے ؟ ’ وندے ماترم ‘کو پڑھنے سے مسلمانوں کے انکار نے اور علما کے فتوؤں کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں مقبولیت حاصل ہو گئی ۔
اس وقت ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سمیت ملک کے بعض حصوں نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ ۱۵؍ اگست کو یوم آزادی کے موقع پر ریاست کے سبھی مدرسے اپنے طلبہ کے ساتھ قومی ترانہ گائیں اور پرچم کشائی کا اہتمام کریں اور ثبوت کے طور پر اس تقریب کی ایک ویڈیو مقامی انتظامیہ کو دیں۔
یوم آزادی کے موقع پر عام طور سےا سکول بند ہوتے ہیں،تو پھر صرف مدرسوں کو قومی ترانے گانے اور پرچم کشائی کی تقریب منعقد کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟بات اگر قومی ترانے کی ہے ، تو ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا ‘‘ بہترین قومی ترانہ ہے ، مگر اسے قومی ترانے کا درجہ نہیں دیا گیا، جب کہ یہ ہندستان ہی کی زبان میں تحریر کیا گیا ہے ، بد قسمتی سے اس ترانے کے خالق ڈاکٹر علامہ اقبال ملک کی تقسیم کے بعد سرحد کے اس پار رہ گئے ۔ ترانہ ہندستان کے لیے تھا اور ہندستان ہی میں ہے ۔ اتنے مباحثے کرنا اور ایک قومی ترانے کے نہیں پڑھنے سے مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگانا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ قومی ترانے کو آپسی اختلافات کی وجہ بنانا یا کسی قوم کی حب الوطنی کو جانچنے کا پیمانہ بنانا مناسب نہیں ہے ۔ ہمارے ملک میں ایسا ہی ہو رہا ہے ،مگر یوم آزادی کے موقع پر گلی کوچوں ، اسکول اور مدرسوں سے صبح صبح جو صدا بلند ہوتی ہے وہ ہے :

‘‘ سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا ۔’’

Leave a Reply

sixteen − sixteen =

Top