You are here
Home > Literature > روزنامے کا سرنامہ؟

روزنامے کا سرنامہ؟

اخبار کے دفتر میں کام کرنے والوں کو اکثر اس بات کا احساس دلا دیا جاتا ہے کہ کاپیاں پریس میں جانے تک ، آخر ی لمحے میں بھی کوئی اشتہار آجائے ، تواسے رد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اخبار کے لیے اشتہار ات اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں ، جتنی انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی ۔ اخبار کے مالک کی اس بات کو سب نے اچھی طرح ذہن نشین کر لیا تھا ۔اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آخری لمحے میں آئے ہوئے صفح اول کے بھی اشتہارات کی اشاعت کے لیے وہاں کی خبروں کا بقیہ اندرونی صفحات پر لگایا جاتا تھا ، یا الفاظ کی جسمامت اور بین السطور کم کیا جاتا یا اکثر اہم خبریں چھپنے سے رہ جاتی تھیں ۔ تاکہ اشتہار کے لیے جگہ بنائی جائے اور اخبار کی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کیا جائے ۔ الیکشن کے دور میں اکثر اخباری نمائندے بھی آخری لمحے کی خبروں کے ساتھ ساتھ اشتہارات لے آتے ہیں … اخبار کے پریس میں جانے کا وقت جیسے جیسے قریب آتا ہے ، دفتر میں افرا تفری کا عالم ہوتا ہے ۔بہر حال جو اس عمل سے گزرتے ہیں وہی جانتے ہیںکہ ان پر کیا بیت جاتی ہے ۔ کئی لوگوں کی انتھک ذہنی اور جسمانی محنت کے بعدایک روزنامہ منظر عام پر آتا ہے ، جسے قاری دو یا پانچ روپے میں خرید کر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل کر لیتے ہیں ۔ یا پھر کسی چائے خانے میں چائے کی پیالی کی قیمت میں اخبار بھی ڈبو کر پڑھ لیتے ہیں ۔یہ باتیں تو ہوتی رہتی ہیں ، مگر ایک دن ہوا یوں کی ایک اخبار کے مالک نے صبح جب اپنا اخبار دیکھا تو سر پیٹ لیا ۔ کیونکہ اس روزنامے کا سرنامہ ہی غائب تھا … وہاں بھی دو شتہارات نظر آ رہے تھے ۔
اخبار کے مالک نے بہت غصے کی حالت میں سب اڈیٹر کو فون لگایا اور اس لاپروائی کی وجہ دریافت کی تو دوسری طرف سے سب اڈیٹر کی آواز آئی ’’ جناب ،ذرا غور سے دیکھے … سرنامہ خارج کرنے کی تکنیکی غلطی ، تو میں نہیں کر سکتا ۔ البتہ پینل کے اشتہارات کو شائع کرنے کے لیے میں نے سرنامہ کی جسامت کم کروا دی، آپ ذرا غور سے دیکھئے بہت چھوٹا سا لکھا ہے ۔
’’ روزنامہ ………‘‘ امید ہے ، یہ قیمتی ایڈجسٹ منٹ آپ کو پسند آئے گا ۔ ‘‘
بظاہر یہ لطیفہ ہے ، پڑھ کر لطف لیا جا سکتا ہے ، مگر اس لطف کے پیچھے ، جو کرب ہے اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج اردو اخبارات کا حال ایسا ہی ہو گیا ہے ۔ جب کوئی اخبار بند ہو جاتا ہے ، تو لوگ اظہار افسوس ضرور کرتے ہیں ، مگر اس اخبار کے بند ہونے کی وجہ پر کوئی غور نہیں کرتا ۔ ایک بار شہر کے ایک روزنامہ کے فروخت ہونے کی خبر نے تمام قارئین کو پریشان کر دیا ، یہاں تک کہ ایک صاحب نے جھنجھلاہٹ میں ایک مراسلہ لکھ دیا ۔ ’’ یہ اخبار ملک کے مسلمانوں کا ترجمان تھا ، یہ ہماراقومی و ملی سرمایہ تھا ، مالکان نے اسے فروخت کرنے سے قبل اپنی مجبوری ہمیں بتائی ہوتی ، ضرور ہم کچھ کرتے ، ملک کے تیس کروڑ مسلمان اسے بچانے کے لیے صرف دس روپے فی کس دے دیتے ، تو تین سو کروڑ روپے جمع ہو جاتے اور اخبار غیروں کے ہاتھ نہیں بکتا، ہماری قوم کے پاس ہوتا اور یہ ہمارا ترجمان ہوتا ۔ ‘‘کہنے کو تو مراسلہ نگار نے بہت بڑی بات کہہ دی ، مگر ایسا ممکن نہیں ۔ کہنا بہت آسان ہے ، مگر عمل مشکل۔اگر یہ احساس ہے کہ اخبار قوم کا ترجمان ہے ، تو قوم صرف اتنا کرتے کہ اسے خرید کر پڑھے یہی کافی ہے ، کسی اخبار کو زندہ رکھنے کے لیے ۔اور کسی قوم کو زندہ رکھنے کے لیے اس قوم کے اخبار کازندہ رہنا ضروری ہوتا ہے ۔ صحافی اور شاعر عبداللہ کمال کا شعر ملاحظہ ہو :

قلم کی آبرو رکھی لہو کی روشنائی نے

وہ قومیں مر نہیں سکتیں جہاں اخبار زندہ ہے

٭شیریں دلوی

Leave a Reply

sixteen − 12 =

Top