You are here
Home > Literature > دلی میں ادب کی نئی بہار رنجیت چوہان اور زمرد مغل کا مشن : جشن ِ ادب

دلی میں ادب کی نئی بہار رنجیت چوہان اور زمرد مغل کا مشن : جشن ِ ادب

دِلی جہاں شہر ِ ِمرزا غالب ہے وہیں شہر آبرو ئے اردو بھی ہے لیکن آزادی کے بعد سے ایک تھکن سی اس شہر کے ماتھے پر نظر آنے لگی تھی جسے کم کرنے کی تگ ود و میں گزشتہ چند برسوںکچھ ادارے سرگرم نظر آنے لگے ہیں۔ دوسری طرف جواں سال شاعر رنجیت چوہان اور ابھرتے ہوئے نقاد و شاعر زمرد مغل ادب کی بساط پر جہاں اپنی علمی اور ادبی شناخت قائم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں وہیں دونوں حضرات اردو کی محبت میں اس قدر ہما تن گوش سرگرم ہیں ہیں کہ ان کی پہنچان اب ایسے اداروں کی سی ہو رہی ہے جو اردو ثقافت، ادب ، اور سماجی سطح پر اردو کی تہذیبی صورت گری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ دونوں اب باہم ہوگئے ہیں تو جشن ادب کی بہار ایک اہم اور تاریخی کروٹ لے کر ایک نیا رنگ اختیار کررہی ہے۔
مشاعروں میں اپنا جلوہ بکھیر کر داد سخن حاصل کر نے والے رنجیت چوہان جشنِ ادب کے سیکریڑی ہیں اور دلی میں اردو ہندی ادب کے نمائندہ قلم کاروں کو ایک اسٹیج پر لانے میں ۲۰۱۲ سے مصروفِ عمل ہیں۔رنجیب چوہان کو ہندستان اور پاکستان کے مابین تعلقات کو فروغ دینے پر ایک گراں قدر انعام سے بھی سرفراز کیا گیا ہے ۔ جشن ادب کے اس مشن میں انھیں اردو کے تازہ دم اور خوش فکر شاعر قیصر خالد کا بھر پور تعاون حاصل ہے۔ قیصر خالد نے جشن ادب کے لیے اپنی بیش بہا توانائیاں نچھاور کی ہیں جس کے سبب جشن ادب ملک کے طو ل وعرض میں ادب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بن گیاہے۔(یاد رہے قیصر خالد پولیس آفیسر (آئی پی ایس) ہیں اور دل سے اردو کے عاشق ہیں۔)
جشن ادب کی تاسیس ایک نیک شگون ثابت ہوئی ہے اور تاسیس سے تاحال ہندستان ، پاکستان اور دنیا جہاں کے اردد ہندی قلم کاروں کابھر پور تعاون اس ادارے کا نصیب ہے۔ مثلاً ڈاکٹر کرن سنگھ، ندا فاضلی، جاوید اختر، گوپی چند نارنگ، پروفیسر اشوک چندرشیکھر، کشور ناہید، ڈاکٹر پیر زادہ قاسیم، اداکارہ شبانہ اعظمی، عطا الحق قاسمی، اصغر ندیم سید وغیرہ ۔
زمرد مغل کا تعلق کشمیر کی سرسبز وادیوں سے ہے اور انھوں نے نئی اردو شاعری میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی ہے۔ ادب کی موجودہ صورت حال پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ جشن ادب کے جوائنٹ سیکریڑی ہیں۔ زمرد مغل شاعری بھی کرتے ہیں اور فکشن اور شاعری پر مضامین بھی تحریر کرتے ہیں ۔ ادب سے ان کی وابستگی کو والہانہ عشق ہی کہا جاسکتا ہے۔
رنجیت چوہان اور زمرد مغل نے جشن ادب کے دائرے کو امسال کی تقریبات سے نہ صرف مزید روشن کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ اس دائرے کو وسعت دینے کی بھی سعی کی ہے۔اب جشن ادب دلی تک محدود دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک اتنا بڑا اور عالیشان پروگرام ہے کہ ملک کے بیشتر شعرا ، ادبا اور علوم وفنون سے تعلق رکھنے والے افراد بیک وقت اس میں شریک ہو رہے ہیں اور ہر جا جشن ادب کا چرچہ ہے۔ ہر ادبی اورعلمی ادارے اور درس گاہ میں جشن ادب کی فہرست اور شرکا ذکر ہے۔
جشن ادب تقریبا ت کے ساتھ ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کے لیے شانِ اردو، شانِ ہندی، پاسپانِ ادب اور جشن ِ ادب کے نام سے انعامات بھی تفویض کرتا ہے۔ یہ گراں قدر انعامات بھی موضوع بحث بن گئے ہیں۔ ماضی میں یہ انعامات ہند ی میں ادبی خدمات کے لیے گوپال داس نیرج، پروفیسر اشوک چکر دھار، ڈاکٹر کنور بے چین، ادھئے پرتاپ سنگھ، اور کشن سروج کو دیے گئے ہیں جبکہ اردو میں پروفیسر گوپی چند نارنگ، کشور ناہید، شن کاف نظام، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم اور پروفیسر شمیم حنفی پر تفویض کیے گئے ہیں۔
امسال ۱۷ تا ۱۹ مارچ آئی آئی سی دلی میں جشن ادب منعقد ہو رہا ہے۔ معروف نقاد شمس الرحمن فاروقی اور ہندی کی نمائندہ فکشن نگار کرشن سوبتی افتتاع کریں گے۔ تقریب میں ادبی موضوعات پر مباحث ، مشاعرہ، ڈرامے، قوالی ،کتابوں کی نمائش کے علاوہ رنگا رنگ پروگرام ہوں گے۔ اس سال جشن ادب میں نامور شاعر محمد علوی، مشہور ادیبہ کرشن سوبتی، ماہر تاریخ داں عرفان حبیب، مشہور نقاد شمیم حنفی، ہندی کے مشہور شاعر اشوک واجپائی، فکشن نگار مردلا گرگ، معروف فکشن نگار سید محمد اشرف، شاعر ستیہ پال آنند، ہندی ادیبہ ناصرہ شرما، صابری بردار، حسین برادر، عوامی شاعر منور رانا، جواں سال شاعر خالد قیصر، ناول نگار رحمن عباس، مشور آرجے نوید، دانش اقبال، رضا حیدر، خالد جاوید، ادیتی مہیشوری، شگفتہ یاسمین، اکیلیندر مسرا، مییتا ویشٹھ، ابھیگیھان پرکاش کے علاوہ کئی مزید کئی اہم لکھنے والے شریک ہو رہے ہیں۔ شہر دلی اور اردو ہندی والوں کو ادبی علمی اور ثقافتی بہار مبارک۔
AR3AR6AR2

شیریں دلوی

Leave a Reply

thirteen + seven =

Top