You are here
Home > Culture > بھیونڈی میںجاری ہے کل ہند اردو کتاب میلہ ۲۰۱۶

بھیونڈی میںجاری ہے کل ہند اردو کتاب میلہ ۲۰۱۶

تدریس میں کتابوں کی اہمیت ہے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا: پروفیسر ارتضیٰ کریم
بھیونڈی ۱۸؍دسمبر بروز اتور صبح دس بجے ایک سمپو زیم بہ عنوان اردو ذریعہ تعلیم اور اس کے مسائل جی ایم مومن ویمنس کالج ہال میں منعقد کیا گیا جس کی صدارت اسلم فقیہ صاحب صدر کوکن مسلم ایجوکشن سوسائٹی نے فرمائی ۔ پروگرام کا آغاز عمر فاروق کے ذریعےتلاوت قرآن پاک سے ہوا جب کہ شریک مہمانان کا تعارف او ر استقبال نو رالدین شیخ نے کیا ۔پرو گرام کے آغاز میں شعیب رضا فاطمی نے قومی کونسل کی سر گر میوں اور اس کے ذریعے جاری مختلف اسکیموں کی تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کیا ۔
کالج پرنسپل ایم جے کولیٹ نے ویمنس کالج کی تفصیلات سامعین کے گوش ِ گزار کی اس کے علاوہ آپ نے طلبہ کا شاندار رزلٹ اور مختلف مقامات سے ملنے والے انعامات کے بارے میں لو گوں کو آگاہ کیا اس کے بعد بال بھار تی پونے کے سابق اردو آفیسر ڈاکٹر غلام نبی مومن کی کتاب ’’چل خسرو گھر آپنے ‘‘ کا اجراء بدست اسلم فقیہ صاحب اور ڈاکٹر ابو طالب انصاری کی کتاب طب ِ عام کا اجراء ڈاکٹر انوارلہدیٰ کے ہاتھوںعمل میں آیا۔ مقالہ نگارعامر صدیقی نے زبان و ادب کی معیاری تدریس اور تقاضے کے عنوان سے درست تلفظ ، اعراب اور لب و لہجہ کے صحیح استعمال پر روشنی ڈالی ۔ ڈاکٹرغلام نبی مومن نے اردو درسی کتابوں کے مسائل پر پر مغز گفتگو کی نیز بال بھارتی کا تعارف اور کتابوں کی تیاری کے مرحلے کو بیان کیا ۔ماہر تعلیم حسن فاروقی نے اردو ذریعہ تعلیم میں معیار کا مسئلہ اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان نہ صرف اپنا مقالہ پیش کیا بلکہ تعلیم پر اثر انداز ہو نے  والے عوامل کا بھی ذکر کیا آپ نے اردو اسکولوں کو انگریزی اسکولوں سے استفادہ کر نے اور اپنی خامیوں کو دور کر نے کا مشورہ دیا۔صدارتی خطبہ دیتے ہو ئے صدر جلسہ اسلم فقیہ صاحب نے معیا ری تعلیم میں  والدین اور سر پرست کی عدم شمولیت کو اہم مسلہ قرا ر دیا۔ پروگرام کے آخرمیں ایک مذاکرے کااہتمام کیاگیا ، نسرین شیخ، عطیہ خان ،فضل الرحمن اور عبداللہ خان نے مذاکرے میں حصہ لیا ۔NCPULکے ڈائریکٹرجناب ارتضی ٰ کریم نے شکریہ ادا کر تے ہو ئے کہا کہ تدریس  میں ڈیجیٹل ٹیکنالو جی پر کلیاتاََ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔کتابوں کی  اہمیت آج بھی برقرار ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
اردو کتا ب میلے کے دوسرے دن کے دوسرے پروگرام کا عنوان تھا سول سر وسیس میںاردو طلبہ کے لیے مواقع۔ جی ایم مومن کالج ہال میں اس مذاکرہ کا اہتمام دوپہر ڈھائی بجے کیا گیا اس جلسہ کی صدارت ایس ایم ہاشمی نے فر مائی ۔ڈاکٹر کاظم ملک ، محمد نجم الدین،عارف عثمانی ،فاروق نائیکواڑے ،شمشیرپٹھان بطور مہمانِ خصوصی شریک ہو ئے اور اپنے مفید مشوروں اور شرکاء کے سوالوں کا اطمینا ن بخش جواب دیا ۔اس کے بعد ایک کامیاب پینل ڈسکشن ہوا۔صدر ِ جلسہ نے اس پروگرام کی ستائش کی ۔نیز فرمایا کہ بیورو کریسی ہمارے نظام کا ایک اہم حصہ ہے اس پر غور کر نے کی ضرورت ہے ۔ یہ پروگرام بزم ریختہ کی جانب سے منعقد کیا گیا ۔بزم ریختہ کے نائب صدر جناب ضیا ء الرحمن شیخ کی رسم شکریہ پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
  بھیونڈی ۱۷؍ دسمبر بروز سنیچر رابعہ گرلز ہائی اسکول و جونیر کالج، صمد نگر بھیونڈی کی جانب سے مشتاق شیخ کے ذریعہ تحریر کردہ اردو ڈرامہ’’ آزاد کا خواب ‘‘۔’’ہندستان کی آزادی‘‘ اور مرزا اسد اللہ خان غالب پر ایک ’’مونو لاگ غالب سفر‘‘ میں پیش کیا گیا۔ پروگرام کی ابتدا تلاوتِ کلام پاک سے ہوئی اس کے بعد طالبات نے اسکول کا مخصوص ترانہ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا۔ نیشنل کاونسل برائے فروغِ اردوزبان کے ذمہ دار جناب شعیب رضا فاطمی صاحب نے قومی کاونسل کا تعارف پیش کیا ۔   جسے سامعین نے دلچسپی سے سنا۔ موصوف نے قومی کاونسل کی مختلف اسکیموں کا تعارف سامعین کے گوش گزار کیا۔ اس کے بعد مشہور و معروف رائٹر و ڈائرکٹر مجیب خان نے بیکل اتساہی کے سانحہ ارتحال پر ان کی نظموں اور دوہوں سے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ واضح ہو کہ گزشتہ روز میلے کے افتتا ح کے بعد دیر شام میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا ۔
ڈرامہ شروع ہونے سے قبل ہی رئیس ہائی اسکول کا گراونڈ شائقین سے کھچاکھچ بھر گیا تھا۔ جن میں خواتین کی اکثریت تھی۔ شائقین نے نہ صرف ڈارامہ کو پسند کیا بلکہ درمیان میں اپنی تالیوں سے اداکاروں کا حوصلہ بھی بڑھایا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونو ںڈراموں میں اداکاری کا جوہر دکھانے والے اداکارغیر اردو داں تھے لیکن ان کے اردو کے تلفظات نے لوگوں کا دل جیت لیا۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس زلیخا سیماب انور مومن اورمعلمات کی محنت کا نتیجہ تھا کہ پروگرام کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ مومن تحسین عرفان احمد اور ریحانہ محمد عمر انصاری نے مشترکہ ہ طور پر پروگرام کی  نہ صرف کامیاب نظامت انجام دی بلکہ لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا، شب گیارہ بجے پروگرام کا اختتام قومی ترانہ پر ہوا۔

Leave a Reply

ten + nineteen =

Top