You are here
Home > Women > بھنوری دیوی کا حوصلہ قابل ستائش

بھنوری دیوی کا حوصلہ قابل ستائش

ان دنوں بھنوری دیوی کو غیر متوقع شہرت حاصل ہو گئی، راجستھان کے گاؤں کی پسماندہ طبقے کی خاتون بھنوری دیوی کی اجتماعی عصمت دری اسی کے گاؤں کے اونچی ذات کے مردوں نے کی تھی، مگر پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی اور انپڑھ عورت نے اپنےت ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی اور معاملہ عدالت تک لے گئی، اس نے انصاف کے لیے اپنی جنگ جاری رکھی۔بھنوری دیوی کے ساتھ کام کرنے کی جگہ پر جنسی زیادتی کی گئی تھی اور اس سلسلے میں ہائی کورٹ میں گزشتہ ۲۲؍ سال میں ایک یا دو بارہی بار شنوائی ہو سکی۔
کام کی جگہ پر بھونری دیوی کے ساتھ جن لوگوں نے جنسی زیادتی کی تھی وہ آزاد گھوم رہے تھے ، مزید یہ کہ ان میں سے دو ملزمین کا انتقال بھی ہو گیا تھا۔
۲۲؍ ستمبر ۱۹۹۲؍ کو ان کے ساتھ یہ بھیانک حادثہ ہوا تھا اب اتنا وقت گزر چکا ہے کہ بھنوری دیوی کو ٹھیک سے یاد بھی نہیں ہے ابھی بھونری دیوی کی عمر ۵۶؍ سال ہے، مگر وہ اس حادثے کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
بھنوری دیوی کے بیان کے مطابق ایک شام وہ اپنے کھیت میں اپنے شوہر کے ساتھ کام کر رہی تھی کہ اس کے گاؤں کے اونچی ذات کے پانچ افراد آئے اور اس کے شوہر کو لاٹھی سے پیٹنے لگے اس دوران وہ اپنے شوہر کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اور ان لوگوں سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی ، مگران میں سے دو نے اس کے شوہر کو مارتے ہوئے گرا دیا اور دیگر تینوں نے اس کی اجتماعی عصمت دری کی ۔
بھنوری دیوی کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کم سنی کی شادی ، لڑکیوں کے اسقاط حمل اور خواتین کی ناخواندگی اور جہیز کے خلاف لڑ رہی تھیں اور ساتھ ہی مقامی خواتین میں بیداری کی مہم چلا رہی تھیں ۔ بھنوری دیوی کی شادی بھی ۶؍ سال کی عمر میں بچپن ہی میں کروا دی گئی تھی ، جبکہ اس کے شوہر کی عمر ۹؍ سال تھی ۔ سماج کے ایسی دقیانوسی رسموں کے خلاف بھنوری دیوی نے آواز اٹھانا شروع کر دی ، تو مرد اساس معاشرے کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی ، یہ ان کے لیے نا قابل برداشت تھا ۔شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ بھنوری دیوی کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کی گئی ، مگر وہ بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہیں ، انہوں نے گزشتہ ۲۲؍ سال سے اپنی جنگ جاری رکھی اور ملزمین کو سزا دلانے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں ۔ ہمارے ملک میں اکثر خواتین کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ، چھیڑ خانی یا جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں ، ایسے میں خواتین اکثر خاموش رہ جاتی ہیں ، بجائے خاموش رہنے کے ملزمین کے خلاف شکایت درج کروائی جائے اور ایسے معاملات کو فاسٹ ٹریک عدالتوں میں جلد سے جلد نمٹا کو ملزمین کو سزا سنانا شراع کر دیا جائے ، تو ایسے معاملات پر قابو یا جا سکتا ہے ۔ برائی اور ظلم کے خلاف لڑنے کا بھنوری دیوی کا حوصلہ قابل ستائش ہے ۔

شیریں دلوی

Leave a Reply

5 × one =

Top