You are here
Home > In Dino > بابری مسجد سانحہ؟

بابری مسجد سانحہ؟

بابری مسجد سانحہ؟

چھ ؍ دسمبر سنہ ۱۹۹۲؍کو بابری مسجد مسمار کی گئی تو ہندستان کے مسلمانوں کے علاوہ دیگرر ممالک کے مسلمانوں کو بھی افسوس ہوا تھا ۔ اس کے بعد ملک میںفرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے جن میں سینکڑوں بے گناہ افراد مارے گئے، کئی گھر اجڑ گئے ، بچے یتیم ہو گئے ۔۲۵؍سال گزر جانے کے بعد معاملہ وہیں ہے ، نہ فیصلہ ہو سکا اور نہ ہی انصاف ۔
جہاں کبھی بابری مسجد کے تین گمبد ہوا کرتے تھے وہاں ایک عارضی رام مندر تعمیرہوا ہے، مسجد کی مسماری کے چندہی گھنٹوں میں مورتیاں نصب کر دی گئی تھیں۔ بابری مسجد کی مسماری میں، جولوگ بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر ملوث تھے ان میں سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اس تعلق سےسپریم کورٹ نے کہا کہ مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی باضابطہ طور پر کی جائے گی۔ تاہم مجرمانہ سازش کا مقدمہ لکھنؤ میں چلتا رہے گا۔
پھر یہ بھی کہا گیا کہ بابری مسجد تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے۔
آزادی کے بعد سے جمہوری ہند میں ہندو مسلم رشتوں میںدراڑ پیدا کرنے والا سانحہ بابری مسجد کا انہدام ہے، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
۲۵؍سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ، مگر ۶؍ دسمبر کو بھلایا نہیں جا سکا ۔ہر سال اخبارات میں اس تعلق سے مضامین شائع ہوتے ہیں ،تمام مضامین کا مفہوم بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے ، مثلاً:
۱۹۴۹میں۲۲؍اور ۲۳؍دسمبر کی درمیانی شب میں بابری مسجد میں رام کی مورتی رکھی گئی۔
اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اسی وقت سے مسجد پر تالا لگا دیا گیا اور باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا۔
بابری مسجد کے باہری حصے میں ایک چبوترے پر کیرتن بھجن ہوتا تھا اور لوگ ’سیتا رسوئی اور رام کے ’کھڑاوں‘ کے خیالی یا فرضی مقامات کے سامنے سر جھکاتے تھے۔
۱۹۸۴؍میں رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک شروع کی گئی تھی۔یکم فروری سنہ ۱۹۸۶؍میں عدالت نے متنازع احاطے کے تالے کھلوائے۔ جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔
۱۹۸۹؍ کے عام انتخابات کے موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسجد سے تقریبا ۲۰۰؍فٹ کے فاصلے پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئرلیڈر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لیے رتھ یاترا نکالی۔
بابری مسجد کے ملبے پر عارضی مندر تعمیر کر دیا گيا۔
ملک بھر سے آنے والے کارسیوکوں کے قیام کے لیے متازع احاطے سے ملحق شامیانے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ انھیں لگانے کے لیے کدال، بیلچے اور رسیاں بھی لائی گئیں جو بعد میں مسجد کے گنبد پر چڑھنے اور اسے توڑنے کے کام میں آئیں۔
مجموعی طور پر متنازع مقام کے آس پاس کے علاقے پر کار سیوکوں کا ہی قبضہ تھا۔مسجد شہید کر دی گئی اور حکومت کچھ نہیں کر سکی ۔ مسجد کے شہید ہونے سے ملک کی جمہوریت کے آگے سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ گزشتہ ۲۵؍ سال سے یہی سنتے کہتے آ رہے ہیں ۔ اس دوران فیصلہ بھی سنایا گیا ، کئی اتار چڑھاؤ آئے ، مگر کوئی مثبت بات نہیں ہو سکی ۔ ہر سال بابری مسجد کی شہادت کا سوگ منایا جا رہا ہےاور ۶؍ دسمبر غم کے اظہارکا دن بن کر رہ گیا ہے ۔۶؍ دسمبر کے آگے کئی سوال کھڑے ہیں ، مگر اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ بابری مسجد سانحہ جمہوری نظام کے آگے سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔

Leave a Reply

nineteen − six =

Top