You are here
Home > Health > انسانی صحت پر چاکلیٹ کے مفید اثرات

انسانی صحت پر چاکلیٹ کے مفید اثرات

چاکلیٹ سے کون واقف نہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے چاکلیٹ نہیں کھایا ۔ چاکلیٹ اور کافی کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ سردیوں کی غذا ہیں ۔ یہ اشیا سردیوں کے لیے یہ کس قدر مفید ثابت ہو سکتی ہیں ،اس کا انکشاف جدید سائنسی تحقیق نے کیا ہے کہ چاکلیٹ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیق سے یہ با ت بھی ثابت ہوئی ہے کہ وہ افراد جن کے خون کی روانی دماغ کی طرف کم ہو جاتی ہے وہ اگر روزانہ گرم چاکلیٹ کے دو کپ ایک مہینہ پئیں تو ان کی دماغی کارکردگی میں فرق پڑسکتا گا۔ڈاکٹر فرازجو کہ اس تحقیق کے مصنف بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ’’ ہم نے اسے تجویز کرنے سے پہلے بہت سے اقدامات کو نظرانداز کیا ،لیکن اس کے نتیجے نے ہمیں مستقبل کے لیے تحقیقات میں بہت مدد کی کہ ہاٹ چاکلیٹ کے اجزاء دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔اس سے پہلے کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دماغ اس وقت زیادہ چاق و چوبند رہتا ہے جب خون میں آکسیجن اور شکر کی سپلائی موزوں رہے۔لوگوں میں ایسی کئی بیماریاں ہوتی ہیں جس کا اثر خون کی شریانوں پر پڑتا ہے جیسا کہ ہائی بلڈ پریشر،یا ذیابیطس وغیرہ۔ان میں دماغ کی جانب خو ن کی سپلائی کم ہو جاتی ہے ۔‘‘ڈاکٹرفراز اور ان کے ساتھی یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ہاٹ چاکلیٹ جس میں فلیوینول زیادہ ہو وہ ان افراد میں دماغی کارکردگی کو بہتر کر سکتی ہے کہ نہیں،اور تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ چاکلیٹ جس میں فلیوینول کے اجزاء ہوں اس کے کھانے سے بلڈ پریشرکم ہوتا ہے۔محققین نے ایک نئی جانچ کی جس میں ۷۰؍ افراد کو جو ۷۳؍سال کے تھے دو گروہ میں تقسیم کیا اور ان پر تحقیق کی جس کا نتیجہ یہ رہا کہ ہاٹ چاکلیٹ کے دو کپ روزانہ پینے سے یادداشت میں بہتری آتی ہے ،۷۰؍رضاکاروں پر ایک ماہ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی جن کی اوسطاً عمر۷۳؍ برس تھی اور ان لوگوں میں جن کی شریانیں سکڑ گئی تھیں یا کسی وجہ سے تنگ ہو گئی تھیں۔ ان کے دماغ کی جانب میں خون کی روانی میں بہتری پائی گئی ۔42افراد جن کی خون کی روانی صحیح تھی ان کی یادداشت میں کوئی بہتری سامنے نہیں آئی،جبکہ ۱۸؍افراد جن کی خون کی روانی درست نہیں تھی ان میں روانی میں۸:۳؍ فیصد بہتری پائی گئی۔
محققین نے یہ پایا کہ اس سے دماغی کار کردگی والا حصہ زیادہ کام کر رہا ہے اورمزید بہتر ہوگیا ہے۔’’یہ بہت دلچسپ ہے کہ اس کو تین مہینے تک جانچا جائے ‘‘ڈاکٹر اسٹیون ڈیکوسکی جو کہ یونیورسٹی آف پٹس برگ میں نیورولوجسٹ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ’’ میں نے ان لوگوں کے دماغ میں بہت شاندار وسعت محسوس کی اور ہم جانتے ہیں کہ اس کا تعلق بڑھتی عمر کے ساتھ ہونے والی یادداشت سے ہے۔‘‘یہ بات بھی یاد رہے کہ یادداشت کی بہتری کا تعلق نارمل یادداشت سے ہے اس کا نسیان (الزائمر) کی بیماری سے تعلق نہیں اس میں فلیونول کوئی خاص مدد نہیں کرتا۔اس کے لیےمزید تحقیقات جاری ہیں ۔اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی پلاننگ ہے کہ فلیونول کیوں یادداشت کو بہتر بنانے میں مددکرتا ہے ،ایک خیال تو یہ ہے کہ وہ دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر کرتا ہے اور اس کی وجہ یہ کہ اس بہاؤ کو دماغ کی نسوں تک پہنچا کر ان میں بہتری لاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے لوگ اپنی یادداشت کھو چکے ہوتےہیں،ایک اورسائنس میگزین’ جنرل نیچرنیوروسائنس ‘میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ صحت مندلوگ جو کہ۵۹؍ سے ۷۰؍سال تک کے ہوتے ہیں اورجو ہائی اینٹی آکسیڈنٹ مکسچرپیتے ہیں جس کو ’’کوکو فلیونول ‘‘ کہتے ہیں ۔کوکو فلیو نول کے تعلق سے کہا کہ کچھ لوگوں کویہ مکسچرتین مہینے پلایا گیا۔اور اسکے بعد ان کا میموری ٹیسٹ لیا گیا تو انہوں نے ان لوگوں سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو کہ کم مقدارمیں فلیونول مکسچرپی رہے تھے ۔ڈاکٹر اسکاٹ اے اسمال جو کہ نیورولوجسٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک اندازے کے مطابق جو لوگ ہائی فلیونول مکسچر باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں ۔وہ میموری ٹاسک ٹیسٹ میں اپنے سے۲۰؍ اور ۳۰؍سال کےچھوٹے افراد کی طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائے گئے ۔ان کی کارکردگی کم فلیونول استعمال کرنے والے گروپ کے افراد سے 25فیصدبہتر تھی۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے نیوروبایو لوجسٹ کریگ اسٹارک کا یہ کہنا ہے کہ ’’یہ ایک دلچسپ نتیجہ تھا ،اور یہ تو ابھی ابتدائی تحقیق و مطالعہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اور دیکھو یہ چاکلیٹ ہی ہے ،کون ہے جوچاکلیٹ سے اختلاف کر رہا ہے ۔‘‘
مزید حالیہ تحقیق یہ بھی ہے کہ فلیونول اور خاص کر Epicatechinخون کی روانی کو بہتر بناتا ہے ۔دل کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔چاکلیٹ کولیسٹرول لیول کو بھی کم رکھتا ہے۔ یونیورسٹی آف illinoisکے مطابق کہ اگر کوئی روزانہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھائے،تو اس کا کولیسٹرول لیول کم ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ میں کوکا Flavanol پائے جاتے ہیں۔ چاکلیٹ کھانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے متوازن اور اچھے کولیسٹرول کو بڑھاتی ہے۔
چاکلیٹ میں موجود Cocoa بٹر میں موجود Oleic ایسڈ اولیو آئل میں بھی پایا جاتا ہے یہ ہمارے کولیسٹرول کی اچھی مقدار کو بڑھانے اور اسے قائم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
چاکلیٹ کھانے سے دل کے جملہ امراض میں بھی کمی واقع ہوتی ہے ایک نئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جولوگ روزانہ 70فی صد ڈارک چاکلیٹ کا بیس گرام استعمال کرتے ہیں ایسے افراد کی خون کی روانی میں بہتری آتی ہے بہ نسبت ان کےجو بہت زیادہ تیاری کے مراحل سے گزر کر تیار کی گئی چاکلیٹ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ایسی چاکلیٹس میں CoCoa پاؤڈر کی مقدار کم ہوتی ہے یہ کہا جاتا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ میں جو مثبت اثرات پائے جاتے ہیں ،وہ اس کے Polyphelon کی وجہ سے ہے جو جسم میں Nitric Oxide کو ریلیز کرتا ہے، یہ ایک ایسا کمیکل ہے جو بلڈسرکولیشن کو بہتر کرتا ہے کچھ اسٹڈی سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ ڈیری پروڈکٹ جیسے کہ دودھ کے ساتھ ڈارک چاکلیٹ کا استعمال کم کرنا چاہیے یا نہ کے برابر کرنا چاہیے کیونکہ دودھ میں موجود Casein نام کا پروٹین Polyphenol کو جسم میں جذب کرنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح چاکلیٹ خون کی گٹھلیاں، دل کا دورہ، اور فالج کے اثرات کو بھی کم کرتی ہے۔
یہ بات بھی حیرانگیز ہے کہ چاکلیٹ کے استعمال سے جلد بہتر ہوسکتی ہے۔ Heinrich یونیورسٹی آف جرمنی کے محقق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں ان لوگوں پر سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے جلد پر ہونے والے اثرات یا جلد کا جھلسنا چھ ہفتہ کے وقت میں پندرہ فی صد کم ہو جاتا ہے بہ نسبت ان افراد کے جو چاکلیٹ کا استعمال بالکل نہیں کرتے ۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ چاکلیٹ میں ایسے کمپاؤنڈز بھی پائے جاتے جو الٹروائلٹ فلٹر یعنی UV فلٹر کا کام کرتے ہیں۔ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ جدید تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں کئی سبز غذاؤں کے مقابلے میں سے سب سے زیادہ Antioxidast پائے جاتے ہیں یہ اینٹی آکسیڈنٹ چاکلیٹ کےکھانے سے جلد کو اور زیادہ صحت مند پرکشش اور فریش بناتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ یہ ہماری جلد کو خراب ہونے اور جھریاں پیدا ہونے سے بھی بچاتا ہے۔
مضمون کی تیاری میںجدید سائنسی تحقیقاتی رپورٹ سے مدد لی گئی ہے ۔

Leave a Reply

3 + 20 =

Top