You are here
Home > Literature > رحمن عباس کا چوتھا ناو ل سال بھر موضوع ِ بحث رہا

رحمن عباس کا چوتھا ناو ل سال بھر موضوع ِ بحث رہا

Rahman Abbas' Novel Rohzin
رحمن عباس کا ناول’ روحزن‘ کا شمارکئی معنوں میں سال  2016  کی نمائندہ ادبی کتاب میں ہوتا ہے۔ 14   فروری کو جشن ریختہ میں اس ناول کا اجرا  ہوا ۔ رسم ِ اجرا میں ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ شاعر محمد علوی ، پاکستانی ادیب آصف فرخی اور محمد حمید شاہدشریک ہوئے ۔ ناول کی اشاعت کے چند ماہ بعد ممبئی میں تھارومل شاہنی کالج فار میڈیا نے ناول پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میںمشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق، صحافی شیریں دلوی، ڈائریکڑ ممبا بکس انڈیا ڈاکٹر رؤف پٹھان، طارق اقبال، وقار قادری، اسلم پرویز کے ساتھ ہندی، مراٹھی اور انگریزی کے کئی لکھنے والے شریک ہوئے۔
’روحزن ‘پر کناڈا کے اردو ٹی وی چینل راول ٹی وی نے ایک گھنٹے کا مذاکرہ منعقد کیا جس میں فکشن نگار بلند اقبال نے مشہور نقاد شافع قدوائی، پاکستانی نقاد صلاح الدین درویش، صحافی شیرین دلوی کے ساتھ ناول پر سنجیدہ گفتگو کی۔ روحزن کی پذیرائی بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان، مشرقی وسطیٰ اور دیگر ممالک میں بھی خوب ہوئی ہے۔ روحزن نئی صدی کا ایک نمائندہ ناول ان معنوں میں بھی ہے کہ اس کا حلقہ ادبی قارئین سے نکل کر عام اردو پڑھنے والوں میں بھی پھیلا ہے اور مختلف المزاج لوگوں نے ناول کو اپنی پسندیدہ کتاب قرار دیا ہے۔ دوسری طرف مشہور نقاد گوپی چند نارنگ نے روحزن کو اردو ناول نگاری میں ایک اہم موڑ قرار دیا تو ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ نقاد نظام صدیقی نے ناول پر طویل گفتگو کرتے کہا ہے کہ یہ ناول نئی صدی کا اب تک شائع ہونے والا سب سے اہم اور سنجیدہ ناول ہے جس میں نئے عہد کی تخلقیت پوشیدہ ہے جس پر مستقبل میں مکالمہ ہوتا رہے گا۔ شافع قدوائی نے ناول پر انگریزی اخبار  The Hindu  میں تبصرہ کرتے ہوئے خوب تعریف کی ہے اور رحمن عباس کے منفرد بیانیہ اسلوب کو سراہا بھی ہے۔ نوجوان نقاد معید رشید ی نے بھی روحزن پر انگریزی میں مضمون لکھا اور ناول کا تجزیہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ معروف نقاد علی احمد فاطمی کا روحزن پر طویل مضمون ادبی رسالے ’تحریر نو‘ میں شائع ہوا جس میں انھوں نے روحزن کی موضوعاتی ساخت، کرداروں کی بو قلمونی اور ممبئی کے پس منظر میں ناول میں پیش کی گئی زندگی پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔
Rahman Abbas' Novel Rohzinروحزن پر پاکستان کے مشہور اخبار’ جنگ ‘کے آن لائن مدیر فاضل جمیلی نے ایک مضمون لکھا جس میں جمیلی نے لکھا ہے کہ روحزن کے بغیر اردو ناول کے ارتقا پر بات اب ممکن نہیں۔معروف پاکستانی ادیبہ نیلم بشیر احمد نے روحزن کا اردو فکشن کی دنیا میں ایک منفرد کتا ب قرار دیا ہے۔
جہاں ادب ، صحافت اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد نے ناول کو اردو کا اہم ناول قرار دیا ہے وہیں عام قارئین نے بھی اس ناول پر بحث و مباحثہ قائم کیا جو اب تک جاری ہے۔ آئندہ سال روحزن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ شائع ہو رہا ہے ۔ اس کے بعد توقع ہے کہ رحمن عباس کا یہ اہم ناول ہندستان کی بیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو۔

Leave a Reply

4 × three =

Top